شہید صاحب خان بنگلزئی عرف شوکت – وہشین بزدار

29

شہید صاحب خان بنگلزئی عرف شوکت

تحریر: وہشین بزدار

دی بلوچستان پوسٹ

آج میں ایک بے بس انسان ایک ایسی ہستی کے بارے میں لکھنے جا رہا ہوں جو مادرِ وطن کی محبت میں مدہوش رہا کرتے تھے۔ شہید کی باتیں سن کر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کے دل میں بلوچ سرزمین کسی جنت سے کم نہ تھی۔ کوئی محفل ہو یا میلہ، شہید کی زبان پر صرف گلزمین بلوچستان کا نام ہوتا تھا۔ سرزمین پر مر مٹنے والے کرداروں کے قصے ہم نے کتابوں میں پڑھے اور فلموں میں دیکھے، مگر شہید شوکت جیسے کرداروں کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

ایک دفعہ مجھے اور شہید شوکت کو کمانڈر نے کسی کام کے سلسلے میں بھیجا۔ شہید نے مجھے آواز دی وہشو اپنی پانی کی بوتل بھر لو۔ میں نے مسکرا کر کہا آپ کی بوتل تو بھری ہوئی ہے ایک بوتل کافی ہے۔ وہ خاموشی سے آئے اور میرے گلے سے پانی کی بوتل نکال کر بھرنے لگے، ساتھ ہی کہنے لگے آپ نہیں سمجھو گے، ابھی آپ پر وہ وقت نہیں آیا۔ خیر، ہم پارٹی کے دوستوں سے رخصت ہو کر سفر پر روانہ ہوگئے۔ جس جگہ ہمیں کمانڈر نے بھیجا تھا وہاں دو دن کا پیدل سفر تھا۔ میرا اس جگہ جانا پہلی دفعہ تھا۔

تین گھنٹے ہم مسلسل چلتے رہے۔ آخرکار ہم ایک سنگلاخ پہاڑی پر پہنچ گئے جس پر چڑھنا تو آسان تھا مگر اترنا انتہائی مشکل۔ اگر خدانخواستہ ایک پاؤں پھسل جاتا تو بچنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ شہید نے مجھے کہا پہلے میں اتروں گا، پھر آپ کو اتاروں گا۔ آپ شہر سے آئے ہوئے سنگت ہو، آپ کے لیے یہ راستہ بہت مشکل ہے۔

میں نے ہنسی مذاق میں کہا پہلے خود تو اترو، پھر مجھے اتارنا۔ بلوچی میں کہنے لگے (من ایشے رمبنا ایر کفا) (میں ایسے تیز سے اتروں گا کہ تم دیکھتے رہ جاؤ گے)، شہید ایک دم نیچے اتر گئے۔ اب میری باری تھی۔ جیسے ہی میں نے پہلا قدم رکھا، میرا پاؤں پھسلنے لگا اور میری بندوق پتھر سے ٹکرا کر واپس میرے سر پر زور سے لگی شہید زور زور سے ہنسنے لگے۔ دو قدم رکھنے کے بعد میں پہاڑ کے درمیان پھنس گیا۔ نہ نیچے اتر سکتا تھا اور نہ اوپر چڑھ سکتا تھا۔ میں نے آواز دی سنگت مجھے اتارو، آپ وہاں مزے سے بیٹھ کر ہنس رہے ہو۔
وہ اٹھ کر میرے پاس آئے اور مجھے اس مشکل مقام سے اتارا۔ پھر کہنے لگے اب چلیں، سفر بھی لمبا ہے۔

میں نے کہا سنگت میں تھک گیا ہوں تھوڑا آرام کریں، بھوک بھی لگ رہی ہے۔ ہم ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے۔ اتنے میں ایک بکری چرانے والا ادھر آگیا۔ شہید نے کہا تم لکڑیاں اکٹھی کرو، میں جا کر اس چرواہے سے دودھ لے آتا ہوں، چائے بنائیں گے۔ میں لکڑیاں جمع کرنے میں مصروف ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد شہید دودھ لے آئے۔ میں نے چائے کی کیتلی آگ پر رکھ دی۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو شہید سنگلاخ پہاڑوں کو غور سے دیکھتے ہوئے مسکرا رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی عاشق اپنی محبوبہ کی یادوں میں کھو جاتا ہے۔ وہ گلزمین کے عشق میں مکمل طور پر کھوئے ہوئے تھے۔ اتنے میں چائے اُبل کر آگ پر گرنے لگی۔ شہید مسکرا کر بولے: آپ کا دھیان کدھر ہے؟ چائے گر رہی ہے۔

میں نے مذاق میں کہا سنگت، آپ کس محبوبہ کی یادوں میں کھوئے ہوئے ہیں؟ پتہ نہیں وہ خوش نصیب لڑکی کون ہوگی جس کی یادوں میں ایک مجنوں گم ہے۔ شہید ہنس کر بولے میری محبت تو گلزمین بلوچستان ہے۔ جس دن یہ آزاد ہوگا، سمجھو میں نے اپنی محبت حاصل کر لی۔ خیر، چائے پینے کے بعد ہم دوبارہ سفر پر روانہ ہوگئے۔ دو دن بعد ہم مذکورہ مقام پر پہنچ گئے۔ جب میں نے شہید سے پوچھا کہ یہ کون سی جگہ ہے تو کہنے لگے ہم بلوچی دفتر پہنچ گئے ہیں۔

یہ سن کر میں بھی خوشی سے جھوم اٹھا کیونکہ میں اس سے پہلے بولان کبھی نہیں گیا تھا۔ صرف سوشل میڈیا پر بولان کے مختلف زاویوں سے لی گئی خوبصورت تصاویر دیکھی تھیں۔ کیا حسین وادی ہے بولان! ہر طرف چشمے اور ندیاں بہہ رہی تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے کوہِ سلیمان کا بہو پھواد یاد آگیا، جو خوبصورتی میں بولان سے مشابہت رکھتا ہے۔ تین دن تک ہم وہاں دوسرے تنظیمی دوستوں کے اوتاک میں قیام پذیر رہے۔ چوتھے دن واپسی کے لیے روانہ ہوئے۔

چند دن بعد صبح سویرے شوکت دوڑتے ہوئے میرے پاس آئے اور کہنے لگے سنگت آپ کو مبارک ہو۔ میں نے پوچھا: “کس بات کی؟
کہنے لگے گشت کا دستہ نکل رہا ہے، میں اور آپ دونوں اس میں شامل ہیں۔ اس دفعہ دشمن کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ وہ ہماری سرزمین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کرے گا۔

اگلے دن ہم گشت پر روانہ ہوئے۔ میں نے شہید سے پوچھا ہم کس علاقے میں جا رہے ہیں؟ مسکرا کر بولے مجھے بھی معلوم نہیں، صرف کمانڈر اور ذمہ دار دوستوں کو معلوم ہے۔ چار دن بعد ہم ایک پہاڑی علاقے میں پہنچ گئے۔ گرمی کافی زیادہ تھی۔ کمانڈر نے حکم دیا کہ دن کو آرام کیا جائے اور شام کو دوبارہ سفر شروع کیا جائے۔ اسی دوران ایک سنگت نے مذاقاً کہا شوکو، کمانڈر نے کہا ہے کہ آپ واپس اوتاک جائیں گے، آپ جنگ میں شامل نہیں ہوں گے۔

یہ سنتے ہی وہ غصے سے لال ہوگئے اور بولے مجھے جنگ سے کوئی نہیں روک سکتا، میں ہر صورت جاؤں گا۔ میں نے پہلی مرتبہ ان کے چہرے پر غصہ دیکھا تھا، ورنہ وہ ہمیشہ ہنستے اور مسکراتے رہتے تھے۔ میں نے کہا سنگت، جنگ میں شہادت کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ مسکرا کر بولے میری زندگی کی یہی خواہش ہے کہ میں جنگ میں شہید ہو جاؤں۔ بسترِ مرگ پر مرنے سے بہتر ہے کہ میں اپنی سرزمین کے لیے لڑتے ہوئے شہید ہو جاؤں۔

آخرکار 28 اکتوبر 2026 کو جب یو بی اے کے سنگتوں نے بھاگ ناڑی شہر کا کنٹرول سنبھال لیا تو شہید شوکت فرنٹ لائن پر لڑنے والے سنگتوں میں شامل تھے۔ جب سی ٹی ڈی کے دفتر پر سنگتوں نے کنٹرول حاصل کر لیا تو کچھ ہی دیر بعد ایف سی کی بھاری نفری شہر کے گرد جمع ہونے لگی۔

اس صورتحال میں سنگتوں نے دفاعی پوزیشنیں سنبھال لیں اور مختلف راستوں سے اپنے ساتھیوں کو محفوظ انخلا کا موقع فراہم کرنے لگے۔ اسی دوران شدید دو بدو جنگ شروع ہوگئی۔ شہید شوکت فرنٹ لائن پر ڈٹے رہے۔ انہوں نے اپنے سنگتوں کے دفاع اور محفوظ راستے کو یقینی بنانے کے لیے خود کو ایک ڈھال بنا لیا۔ وہ دشمن کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے آخری لمحے تک لڑتے رہے اور اپنے ساتھیوں کے محفوظ انخلا کو ممکن بناتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔

شوکت کی یادیں آج تحریر بن چکی ہیں اور وہ وطن پر قربان ہو کر ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے ہیں۔ آج شہید ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی فکر، سوچ اور نظریہ آج بھی ہمارے درمیان زندہ ہے۔ ان کا دیا ہوا فلسفہ آج بھی ہمارے ذہنوں میں نقش ہے۔ انہوں نے اپنے جسم کے خون کا آخری قطرہ بھی وطن پر قربان کر دیا۔ اس سرزمین پر قربان ہونے والا ہر شہید ہمارے دلوں میں زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔