شہید سنگت ظہیر – شاری بلوچ

62

شہید سنگت ظہیر

تحریر: شاری بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخ قربانیوں اور لہو سے بنتی ہے۔ آج دنیا کے نقشے پر موجود اقوام اور ممالک کی موجودگی ان کی قربانیوں اور شہداء کے لہو کا مظہر ہے۔ انقلاب کے لیے قربانی اور لہو شرطِ اوّل ہیں۔ قربانی کے بغیر آزادی ایک ادھورا خواب بن جاتی ہے۔ قربانی وہ عمل ہے جو آزادی کی راہ کو ہموار کرتی ہے۔ شہداء کا خون اپنی قوم کو مستقل مزاج اور نظریاتی جدوجہد کار بنا دیتا ہے۔ اگر ہم تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو ہمارے سامنے بہت سی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے مزاحمت کرکے ایک خودمختار قوم کی حیثیت سے دنیا کے نقشے میں جگہ بنائی۔ ویتنام، کیوبا، ارجنٹینا، ہمارا ہمسایہ ملک افغانستان اور دیگر کئی ممالک ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے قربانی دے کر اپنی موجودگی کو دنیا کے سامنے منوایا۔ ان کی تاریخ صرف ان کی کامیابی نہیں بلکہ دنیا کی مظلوم اقوام کی آزادی کی جنگ کے لیے حوصلہ ہے۔

دنیا کی دیگر مظلوم اور غلام اقوام کی طرح بلوچ بھی مظلوم اور غلام ہے۔ غلامی تقدیر نہیں بلکہ بیرونی طاقتوں کی چال اور اپنی نالائقی کا نتیجہ ہے۔ بیرونی طاقتیں ہمیشہ دنیا کے امیر اور وسائل سے مالا مال خطوں کو غلام بنانا چاہتی ہیں۔ اسی طرز عمل کو اپناتے ہوئے قابض پاکستان نے بلوچستان پر اپنا قبضہ جما لیا۔ لیکن قبضہ کرنے کے بعد بھی پاکستان بلوچستان میں سکون سے نہیں بیٹھا بلکہ بلوچ نے انہیں بے چین اور بے سکون کر رکھا ہے۔ قبضے کے پہلے دنوں سے لیکر آج تک قابض کے خلاف سیاسی اور مسلح جدوجہد جاری ہے۔ آغا عبدالکریم سے لے کر بابو نوروز خان تک۔ بابو نوروز خان سے لے کر بالاچ، مجید، کماش غفار اور امیربخش سگار تک۔ سگار سے لے کر استاد اسلم، ریحان اور شاری و اسلمی کاروان تک یہ جدوجہد اپنی شدت کے ساتھ قابض کے خلاف جاری ہے۔ یہ مزاحمت بلوچ شہداء کے لہو کی برکت ہے۔ ایک شہید کے خون نے کئی نوجوانوں کو باغی دیا، ایک اسلم نے ریحان کے ہزاروں پیدا کیے، اور جدوجہد کا یہ تسلسل ختم ہونے والا نہیں بلکہ آزادی تک جاری رہے گا۔

شہداء کی اس قطار میں کئی جانثار شامل ہیں جن کو بیان کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ وہ جانثار جن کی روح ہواؤں میں اڑ گئی، جن کے بدن ذرہ ذرہ ہوگئے۔ ان ذروں کو کون بیان کر سکتا ہے؟ اسلمی کاروان کو بیان کرنا ناممکن ہے، البتہ ان کی کچھ یادیں ہمارے ذہنوں میں پیوست ہیں۔

شہداء کی اس قطار میں ایک سنگت ظہیر جان بھی ہیں جن کی کچھ یادیں ہمارے ذہنوں میں نقش ہیں۔ ان یادوں کو بیان کرنا ہاتھوں کو سُلا اور دماغ کو سُن کر دیتا ہے۔ آپ ایک ساتھی نہیں بلکہ ایک رہنما تھیں۔ آپ کی مستقل مزاجی کا اندازہ آپ کی ایک یاد سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کتنی مستقل مزاج تھیں، آپ کتنی مخلص اور بہادر تھیں۔ ایک مرتبہ آپ کئی دنوں تک تنظیمی کاموں میں مصروف تھیں، آپ کو سونے اور آرام کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ آپ دن رات تنظیمی کاموں میں مصروف عمل تھیں۔ آپ کی پوری زندگی تحریک میں وقف تھی۔ آپ اپنا سب کچھ اپنے منزل کے لیے سمجھتی تھیں۔ اتنے دنوں کی تکاوٹ اور بغیر آرام کے ایک دن آپ کو نیند کا موقع ملا تو آپ سو گئیں۔ آپ کی سونے کی مدت تیس یا چالیس منٹ تھی کہ اچانک ایک ایمرجنسی کام میں آپ کی ضرورت پڑی، تو دوستوں نے کہا کہ ظہیر کو سونے دیں گے، انہیں جگائیں گے نہیں، لیکن وقت اور حالت کے مطابق آپ کو جگانا پڑا۔ تو ایک دوست کو کہا گیا کہ ظہیر کو جگاؤ تو وہ گھبرا رہا تھا کہ انہیں اتنے دنوں کی بے آرامی اور نیند کے بغیر کیسے جگاؤں۔ لیکن خیر، آخر وہ آگے بڑھا اور ظہیر کو گھبرا کر جگا دیا اور اس کے دل میں ڈر تھا کہ ظہیر اسے ڈانٹے مت۔ جب اس نے ظہیر کو جگایا تو ظہیر جان مسکراتے ہوئے ان سے بات کرنے لگیں، تو وہ دوست حیران رہ گیا اور کہا “ظالم! آپ کو میں نے گہری نیند سے جگا لیا، پھر بھی ظالم آپ مسکرائے اور بات کر رہے ہو۔”

یہ لمحہ شاید الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا جو ہم نے دیکھا۔ آپ کے سینکڑوں ایسے یادیں ہیں جن سے ہم نے آپ کی مخلصی اور مستقل مزاجی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ آپ کے اس انقلابی طرزِ عمل نے کئی لوگوں کو تحریک سے وابستہ کیا۔ آپ کا لہو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ ہمیشہ تحریک میں ایک چراغ کی مانند رہیں گی۔ آپ کا فلسفہ، نظریہ بلوچ کے ہر فرد کے دل میں بسا ہوا اور زندہ ہے۔ آپ ایک رہنما اور ایک استاد ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔