رات گئے 22 گاڑیوں میں اہلکاروں نے میرے گھر پر چھاپہ مارا۔ سمی دین بلوچ

1

انسانی حقوق کی کارکن سمی دین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہراسانی کے بعد گزشتہ رات تقریباً ایک بجے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس اہلکاروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔

سمی دین کے مطابق اس وقت میں گھر پر موجود نہیں تھی۔ اہلکاروں نے گھر کے دروازے توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوئے اور تقریباً پانچ گھنٹے تک گھر کے اندر موجود رہے۔ اس دوران انہوں نے پورے گھر کی تلاشی لی اور گھر میں موجود تمام سامان، بشمول لیپ ٹاپ، کیمرے، موبائل فون، کتابیں، دستاویزات اور زیورات اپنے ساتھ لے گئے۔

انہوں کہا کہ اگر ان کا مقصد مجھے گرفتار کرنا تھا تو میری غیر موجودگی کا کنفرم کرنے کے باوجود میرے گھر کے دروازے توڑ کر داخل ہونے کی کیا مقصد تھا؟ میرے گھر میں موجود قیمتی اشیاء کو چوری کرنے، سامان کی توڑ پھوڑ کرنے اور ہمسائیوں کو تشدد اور ہراساں کرنے کا کیا مقصد تھا؟ کس قانون کے تحت یہ سب کچھ کیا جارہا ہے؟

سمی دین کا کہنا ہے کہ میں متعدد بار یہ واضح کر چکی ہوں کہ اگر میرے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو میں اسے قانونی فورمز پر سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تاہم ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کے گھر پر رات کے اندھیرے میں دھاوا بولنا، ہمسایوں کو تشدد اور دھمکیوں کے ذریعے خوفزدہ کرنا، اور میرے خاندان کو ہراساں کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقصد قانون کا نفاذ نہیں بلکہ مجھے اور میرے اہلِ خانہ کو ڈرانا اور خاموش کرانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے گھر کو پہنچنے والے تمام نقصان اور اس کارروائی کے نتائج کی ذمہ داری بغدادی پولیس، لیاری پولیس اور سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔

‏انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔

انہوں نے کہا کہ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔

سمی دین کا کہنا ہے کہ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔