بلوچستان اپنا کام کرچکا ہے
تحریر: شے بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
دسمبر میں اُن ٹھنڈی سردیوں میں کھلے آسمان تلے لاپتہ بلوچ جوانوں کے لواحقین اپنا درد لیے اسلام آباد میں بیٹھے رہے کہ شاید کوئی انصاف مل جائے۔ اسلام آباد کی وہ سرد راتیں جہاں ایک جانور بمشکل پناہ پائے، وہاں اپنے بچوں کے درد کے لیے میلوں دور بلوچستان سے سفر کرتے ہوئے لاپتہ راشد بلوچ کی بوڑھی ماں، لاپتہ ذاکر مجید کی والدہ اور اس طرح کئی لاپتہ جوانوں کے لواحقین ان کڑک راتوں میں بیٹھ کر وقت کے آقاؤں سے انصاف کی التجا کرتے رہے۔
مسلسل بیس دن بلوچ مائیں، بہنیں اور بزرگ دارالحکومت کے پریس کلب کے سامنے سراپا احتجاج رہے، لیکن افسوس کے ساتھ ان کا درد نہیں سنا گیا۔ حتیٰ کہ اس زخم اور درد پر مزید نمک چھڑکنے کے لیے ریاست نے ان پر لاٹھی چارج کیا، نوجوانوں کو اٹھایا گیا، بزرگوں کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا گیا اور تو اور اس شدید سردی میں لواحقین پر ٹھنڈا پانی پھینکا گیا۔ اس وقت اس تحریک کی قیادت بی وائی سی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کر رہی تھیں۔
مزید کچھ وقت رہنے کے بعد جب ریاست کی طرف سے سوائے ڈر اور نفرت کے کچھ نہ ملا تو تحریک نے واپسی کا رخ کیا۔ اس دوران جب بلوچ لواحقین واپسی بلوچستان کی تیاریوں میں تھے تو ایک خاتون جو کہ ایک ٹی وی چینل کی طرف سے اس وفد کی قیادت کرنے والی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ سے انٹرویو لے رہی تھی، سوال کرتی ہے:
خاتون: آپ لوگوں کو ریاست کی طرف سے جواب نہ ملنے پر آپ لوگوں نے واپسی کا رخ کیا، تو آپ ریاست کو کیا بتانا چاہتی ہیں؟
ڈاکٹر: ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنا کام کر چکے ہیں، بلوچستان اپنا کام کر چکا ہے، ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو بتا دیا ہے کہ آپ کی قوم کے ساتھ کیا ہوا ہے۔
آج میری نگاہوں کے سامنے ایک ویڈیو اور چند عکس رونما ہوئے جو 24 جون کو ہونے والی شٹر ڈاؤن ہڑتال کے حوالے سے کوئٹہ (شال) میں ایک آگاہی مہم کے تھے۔ اس مہم میں ویڈیو میں چند نو عمر بچے ہم آواز ہو کر نعرے بلند کر رہے تھے: “ڈاکٹر ماہ رنگ تیرے جانثار بے شمار” اور اس طرح کے کئی نعروں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ اس کے علاوہ چند عکس میرے نگاہوں کے سامنے ہوئے جو شال کے ان معصوم بچوں کے تھے جن کے ہاتھوں میں آگاہی مہم کے پمفلٹ اور پوسٹر تھے، جو واضح طور پر بتا رہے تھے کہ قوم کے بچوں کے دل میں ڈاکٹر ماہ رنگ کے لیے محبت اور شفقت ہے۔
آج اگر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھی کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، اگر ڈاکٹر قید میں ہیں تو میری نظر میں میں انہیں جیت کر آؤں گا، کیونکہ ریاست اس ڈر اور خوف کے باوجود اس نہتی خاتون کا مقابلہ نہ کر پائی اور فیس لیس ٹرائل کے ذریعے انہیں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ یہ سب حالات دیکھ کر میرے ذہن میں ڈاکٹر کے وہ الفاظ یاد آرہے تھے: بلوچستان اپنا کام کر چکا ہے، ڈاکٹر اپنا کام کر چکا ہے۔
آج اگر بلوچستان میں بچہ بچہ سراپا احتجاج ہے تو یہ سب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے دیے ہوئے آگاہی اور حوصلے کے نتیجہ ہیں۔ ریاست کے ان ڈھائے ہوئے مظالم اور تشدد کے باوجود بلوچ قوم اپنے رہنماؤں کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے احتجاج کرتی رہی، اور ریاست کو کھل کر بتا دیا کہ بلوچ قوم اب جاگ چکی ہے؛ بلوچ قوم اب مزید قوم پرستی اور مذہب پرستی کے باعث تقسیم نہیں ہوگی۔ آج اگر ڈاکٹر ماہ رنگ کے لیے پورے بلوچستان میں لوگ سراپا احتجاج ہیں اور تاجر برادری، طلبہ، اساتذہ، کسان اور عام لوگ ہڑتال کو کامیاب بنائے ہوئے ہیں، تو یہ چند گھنٹوں کی معمولی ہڑتال نہیں بلکہ ریاست کے لیے ایک پیغام ہے کہ بلوچ قوم اب منظم ہو چکی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































