کوئٹہ، گوادر: پروفیسر غمخوار حیات کے قتل اور گوادر یونیورسٹی حکام کی بازیابی کے لیے احتجاج

1

پروفیسر غمخوار حیات کے قتل اور گوادر یونیورسٹی حکام کے اغوا کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق پروفیسر غمخوار حیات کے بہیمانہ قتل کے خلاف، اور گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور ایک فیکلٹی رکن کی بحفاظت رہائی کے لیے ایک پُرامن واک کا انعقاد کیا گیا۔ یہ واک یونیورسٹی کے اندر منعقد ہوئی جس میں بڑی تعداد میں طلبہ، اساتذہ اور پروفیسرز نے شرکت کی۔

منتظمین نے کہا کہ یہ پُرامن واک بلوچستان میں تعلیمی برادری کے خلاف جاری مظالم کے خلاف ایک علامتی احتجاج تھا۔ اس کا اہتمام اسٹوڈنٹس آرگنائزیشنز الائنس بلوچستان نے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ تعلیمی و تدریسی برادری کے خلاف کسی بھی قسم کا تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں، یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر سمیت دیگر مغوی ارکان کی عدم بازیابی کے خلاف سول سوسائٹی گوادر نے احتجاج کرتے ہوئے ان کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔

گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد، لیکچرار ڈاکٹر ارشاد بلیدی اور ڈرائیور حاتم کی گمشدگی کے خلاف بلوچستان بھر کی طرح گوادر یونیورسٹی کے اسٹاف اور طلبہ نے بھی ریلی نکالی۔

مظاہرین نے اس موقع پر احتجاج کرتے ہوئے مغویوں کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ 14 مئی کو گوادر سے کوئٹہ جاتے ہوئے مستونگ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد، لیکچرار شکیل احمد اور ان کے ڈرائیور کو کھڈکوچہ کے مقام سے اغوا کرکے اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔