سیٹلر اور سہولت کار ڈاکٹر صفدر حنیف راجپوت کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ ایس آر اے

1

سندھو دیش روولیوشنری کے ترجمان سوڈھو سندھی نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی پنجابی ریاست اور اس کی فوج شروع سے ہی منظم منصوبہ بندی کے تحت کبھی کراچی کو دارالحکومت بنانے کے بہانے، کبھی ون یونٹ نافذ کر کے، تو کبھی غلام محمد بیراج، سکھر بیراج اور جمڑاؤ کینال بنا کر اپنی پنجابی آبادی کو سندھ کی طرف منتقل کرتی رہی ہے۔ یہ پنجابی آباد کاری نہ صرف سندھ کی زرخیز زمینوں اور وسائل پر تسلط اور قبضے کرتی رہی ہے، بلکہ سہولت کار بن کر اپنی مزید اضافی آبادی کو بھی یہاں بلاتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج پورا لاڑ (زیریں سندھ) کا علاقہ، بدین سے لے کر گھوٹکی تک کے مشرقی اضلاع اور چھوٹے بڑے شہر پنجابیوں کے ٹھکانے بن چکے ہیں اور ہماری ڈیموگرافی (آبادیاتی توازن)، زمینیں اور وسائل داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی نوآبادیاتی سوال رہا ہے، وہاں غیر مقامی (بیرونی) آباد کاری کا مسئلہ انتہائی سنگین نوعیت کا رہا ہے اور اس کا حل بھی جنگ کے ذریعے غیروں کو نکال باہر کرنے سے ہی نکلا ہے۔ اس لیے ہمیں بھی بقول کسی سندھی شاعر کے کہ “جڏھن جنگ طَبلَ وڳا، ڌاريا ڀونءِ ڇڏي ڀڳا (جب جب جنگ کے طبل بجتے ہیں، غیر ملکی دھرتی چھوڑ کر بھاگتے ہیں)” کے راستے پر چل کر پنجابیوں سمیت دیگر غیر مقامی لوگوں کو نکالنا پڑے گا۔ تب ہی سندھی قوم کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے بچایا جا سکے گا اور سندھ وطن کی ڈیموگرافی اور وجود کو محفوظ بنایا جا سکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھودیش روولیوشنری آرمی (ایس آر اے) سندھودیش کی مکمل قومی آزادی تک اپنی جنگ جاری رکھنے کے عہد کو دہراتی ہے۔