سندھودیش روولیوشنری آرمی (ایس آر اے) کے ترجمان سوڈھو سندھی نے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا کو معلوم ہے کہ اس وقت بلوچستان حالتِ جنگ میں ہے اور یہاں پاکستانی پنجابی ریاست اور اس کی فوج کے خلاف آزادی کے لیے گھمسان کی جنگ چل رہی ہے۔ اس لیے ہر ایک سندھی اس جنگ کو اپنی جنگ سمجھتے ہوئے ریاست کی سرپرستی میں بلوچستان کے اندر چلنے والی مختلف استحصالی کمپنیوں، پراجیکٹس اور ملازمتوں کا حصہ بننے اور دو چار اضافی روپوں کے لالچ میں آ کر اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کریں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اس وقت بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 21 سندھی مزدور ہماری برادر تنظیم بی ایل اے (BLA) کی تحویل میں قید ہیں۔ جو پاکستانی ریاست اور فوج کی نگرانی میں بلوچستان کی مختلف کمپنیوں، پراجیکٹس اور ملازمتوں میں کام کر رہے تھے۔ جبکہ اس سے قبل بھی ایسی استحصالی کمپنیوں، پراجیکٹس اور اداروں میں کام کرنے والے سندھی مزدوروں کو ہماری برادر بلوچ تنظیمیں، خاص طور پر بی ایل اے اور بی ایل ایف اپنی تحویل میں لیتی رہی ہیں، لیکن انہیں بحیثیت برادر قوم، بلوچ-سندھی تاریخی ثقافتی باہمی احترام اور براس (BRAS) میں شامل ایس آر اے کے سربراہ سید اصغر شاہ کی اپیل پر آزاد کرتی رہی ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اب بھی ایس آر اے کے سربراہ سید اصغر شاہ کی اپیل پر ہماری برادر تنظیم بی ایل اے 21 سندھی مزدوروں کو آزاد کر رہی ہے۔ جس کے لیے ہم برادر تنظیم بی ایل اے کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔
ترجمان نے آخر میں کہا کہ ہم ایک بار پھر سندھی قوم سے اپیل، ہدایت اور تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی اولاد کو بلوچستان میں پاکستانی ریاست اور فوج کی سربراہی میں چلنے والی مختلف استحصالی کمپنیوں، پراجیکٹس اور اداروں کا حصہ بننے اور نوکریاں کرنے سے منع کریں اور اپنی اولاد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کریں۔ اس کے ساتھ ہم سندھ کے اندر کام کرنے والی مختلف قومی، سیاسی، سماجی، ادبی اور صحافتی تنظیموں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں سندھی قوم کے افراد اور خاندانوں کی زندگیاں بچانے کے لیے بلوچستان کے جنگی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کو وہاں جانے سے منع کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔















































