پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ سمیر صابر کی والدہ انتقال کر گئیں۔
یاد رہے کہ سمیر صابر کو پاکستانی فورسز نے 2013 میں ضلع کیچ کے علاقے مند سے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، اور 13 سال گزرنے کے باوجود وہ آج تک لاپتہ ہیں۔ ان کی والدہ نے احتجاج کیے اور عدالتوں کے دروازے بھی کھٹکھٹائے، مگر طویل جدوجہد کے بعد وہ انتقال کر گئیں۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں کئی لاپتہ افراد کی والدین اپنے بچوں کی راہ تکتے اس دنیا سے چل بسے ہیں جبکہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے مظاہروں کے دوران ایسے مناظر دیکھے گئے ہیں کہ لاپتہ افراد کے والدین بے ہوش ہوئے ہیں –
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے شکار بننے والے دو دہائیوں سے لاپتہ سیاسی کارکنوں کی والدین سمیت لواحقین غم اور پریشانی سے مختلف مسائل کے شکار ہیں –
لاپتہ افراد کی لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت سے یہی مطالبہ کرتے آرہے ہیں کہ اگر انکے پیاروں نے کوئی جرم کیا ہے تو عدالت میں انہیں پیش کرکے سزائیں دی جائے لیکن اس طرح سالوں سے انہیں لاپتہ کرکے پورے خاندان کو اذیت میں ڈال دیا جاتا ہے –
بلوچستان میں قوم پرست جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستانی فورسز کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور لوگوں کو جبری لاپتہ کرنے کا ذمہ دار ٹہراتے ہیں



















































