جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج 6140ویں روز بھی جاری رہا۔
آج کے احتجاج میں جبری لاپتہ دوست محمد کرد، بدل خان کرد اور حضور بخش کرد کے لواحقین نے شرکت کی۔ لواحقین کے مطابق 13 اپریل کو دوست محمد کرد ولد حضور بخش کو کلی خلی، کوئٹہ سے جبکہ حضور بخش کرد ولد نور محمد اور بدل خان کرد ولد رسول بخش کو مرو گڑھ، ضلع مستونگ سے مبینہ طور پر حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ نہ تو انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت اور کرب کا شکار ہے۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے لواحقین کو یقین دہانی کرائی کہ تنظیم دوست محمد، بدل خان اور حضور بخش کے کیسز کو اعلیٰ حکام تک پہنچانے اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تینوں افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔
















































