پاکستانی فورسز نے پنجگور میں زیر حراست افراد کو قتل کرکے ان کی لاشیں مسخ کر دیں۔ بی وائی سی

18

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ ضلع پنجگور میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے تسلسل میں ایک اور افسوسناک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے ریاستی پالیسیوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پنجگور کے رہائشی سترہ سالہ طالبعلم حاتم بلوچ ولد حاجی محمد کو 5 اپریل 2026 کوتحصیل پروم (پنجگور) سے ایف سی اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ کئی روز تک حراست اور شدید جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ان کی گولیوں سے چھلنی اور مسخ شدہ لاش ویرانے میں پھینک دی گئی۔ بعد ازاں ریاستی اداروں کی جانب سے اس سفاک قتل کو ایک جعلی مقابلہ (انکاؤنٹر) ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ حاتم بلوچ پہلے سے جبری لاپتہ افراد میں شمار کیے جا رہے تھے۔

بی وائی سی نے کہاکہ اسی طرح ایک اور واقعے میں پاکستانی فورسز نے چار افراد کو ایک مبینہ مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کی لاشیں پنجگور ہسپتال منتقل کیں۔ تاہم مقامی ذرائع اور اہل خانہ کے مطابق یہ تمام افراد پہلے ہی جبری گمشدگی کا شکار تھے۔ ان میں پنجگور کے رہائشی اٹھارہ سالہ طالبعلم مروان بلوچ ولد حمزہ بلوچ بھی شامل ہیں، جنہیں ایف سی اہلکاروں نے پروم سے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا اور بعد ازاں دیگر لاپتہ افراد کے ہمراہ قتل کر دیا گیا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق یہ واقعات بلوچستان میں جاری اس منظم پالیسی کا حصہ ہیں جس کے تحت جبری گمشدگیوں کے بعد نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کر کے جعلی مقابلوں کا رنگ دیا جاتا ہے۔ صرف ضلع پنجگور میں گزشتہ تین ماہ کے دوران تقریباً 40 بلوچ نوجوانوں کو بے دردی سے قتل کر کے ان کی لاشیں پھینکی جا چکی ہیں، جو اس سنگین انسانی المیے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کو ایک ایسے خطے میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں انسانی جانوں کی کوئی قدر نہیں رہی اور روزانہ کی بنیاد پر بغیر کسی قانونی عمل کے لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ خوف و ہراس پھیلانے کے لیے ڈرون حملوں اور ریاستی جبر کا سہارا لیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو خاموش رکھا جا سکے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مزید کہا کہ ریاستی ادارے، بشمول عدلیہ، اس صورتحال میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں بلکہ ان کی خاموشی اس ظلم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی عدم توجہی اور عملی اقدامات کا فقدان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچ عوام کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بیان کے مطابق پارلیمان میں غیر اہم معاملات پر بحث ہوتی ہے، مگر بے گناہ انسانوں کے قتل عام پر مکمل خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ یہ صورتحال بلوچ عوام کو اس نتیجے پر پہنچا رہی ہے کہ انہیں اپنی بقا کے لیے خود جدوجہد کرنی ہوگی اور ایک دوسرے کی آواز بن کر اس ظلم کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی مطالبہ کرتی ہے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے تمام واقعات کی آزاد اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔لاپتہ افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے یا رہا کیا جائے۔ ذمہ دار ریاستی اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے،بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے کر متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔