وی بی ایم پی کا احتجاج 6138ویں روز جاری، جبری لاپتہ نظر مری کے لواحقین کا رابطہ

8

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج بروز ہفتہ 6138ویں روز بھی جاری رہا۔

اس دوران نظر مری کے لواحقین نے وی بی ایم پی سے رابطہ کرتے ہوئے بتایا کہ نظر مری کو گزشتہ سال 27 اگست کو کوئٹہ سے ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

لواحقین کے مطابق نظر مری کی جبری گمشدگی کو آٹھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں، تاہم تاحال نہ تو انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کی خیریت کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید کرب و اذیت کا شکار ہے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے لواحقین کو یقین دہانی کرائی کہ تنظیم نظر مری کے کیس کو آئین و قانون کے مطابق متعلقہ اعلیٰ حکام اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کے سامنے اٹھائے گی، اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔

انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کیا کہ نظر مری کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے، اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ خاندان کو اس اذیت ناک صورتحال سے نجات مل سکے۔