وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے جان محمد کرد کی دوبارہ جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل نہ صرف ماورائے قانون ہے بلکہ آئینِ پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جان محمد کرد ولد عبد الرحیم کے لواحقین نے تنظیم سے رابطہ کر کے آگاہ کیا کہ انہیں 13 اپریل کی رات کوئٹہ کے علاقے کلی لوڑ کاریز، برمہ ہوٹل کے قریب ان کے گھر سے سیکیورٹی فورسز نے اہلخانہ کے سامنے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ گرفتاری کی کوئی وجہ بتائی گئی اور نہ ہی ان کی خیریت کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم کی جا رہی ہے۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ اس صورتحال نے خاندان کو شدید ذہنی اذیت، خوف اور غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اہلخانہ اپنے پیارے کی زندگی کے حوالے سے شدید خدشات کا شکار ہیں، خصوصاً اس تناظر میں کہ جان محمد کرد اس سے قبل بھی نو سال تک جبری گمشدگی کا شکار رہ چکے ہیں اور رہائی کے بعد مسلسل علالت میں مبتلا رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی شہری کو بغیر قانونی جواز، وارنٹ اور عدالتی عمل کے حراست میں لینا نہ صرف آئین کے آرٹیکل 9 (زندگی اور آزادی کا تحفظ) اور آرٹیکل 10 (منصفانہ ٹرائل کا حق) کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ریاستی اداروں کی قانونی ذمہ داریوں سے انحراف بھی ہے۔
انہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین ماورائے قانون اقدام کا فوری نوٹس لیں، متعلقہ اداروں کو جوابدہ بنائیں اور جان محمد کرد کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ عدلیہ پر یہ آئینی و اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور ایسے اقدامات کا سدباب کرے جو قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتے ہیں۔













































