فائبر آپٹک ڈرون، یوکرین کی جنگ میں استعمال ہونے والا حزب اللہ کا نیا ہتھیار

123

حزب اللہ نے حالیہ لڑائی میں شمالی اسرائیل کے خلاف ایک نیا ہتھیار استعمال کیا ہے۔ یہ چھوٹے ڈرونز ہیں جو فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے کنٹرول ہوتے ہیں۔ یہ کیبلز بالکل باریک دھاگے کی طرح ہوتی ہیں اور ان کی خاصیت یہ ہے کہ انہیں الیکٹرانک طور پر جام نہیں کیا جا سکتا۔ یہی ٹیکنالوجی یوکرین کی جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوئی ہے۔

امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عام ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام جام کر سکتا ہے جس سے وہ گر جاتے ہیں یا واپس لوٹ جاتے ہیں۔

لیکن فائبر آپٹک ڈرونز براہِ راست آپریٹر سے جڑے ہوتے ہیں، اس لیے انہیں جام کرنا ممکن نہیں۔ البتہ ہوا یا دوسرے ڈرونز کی وجہ سے کیبل الجھ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر صحیح طریقے سے چلایا جائے تو یہ ڈرونز انتہائی مہلک ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ نیچے اور خاموشی سے ہدف تک پہنچ جاتے ہیں۔

اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق یہ ڈرونز نسبتاً نیا خطرہ ہیں۔ حزب اللہ نے انہیں اس لیے اپنایا ہے کہ اسرائیلی دفاعی نظام بڑے میزائلوں اور طاقتور ڈرونز کو روکنے میں کامیاب رہا ہے۔
اسرائیل کا خیال ہے کہ یہ ڈرونز مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں اور آسانی سے بنائے جا سکتے ہیں۔ صرف ایک عام ڈرون، تھوڑا سا بارود اور مارکیٹ میں دستیاب شفاف تار کافی ہے۔

اسرائیلی فوج انہیں لبنان میں موجود اپنے فوجیوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتی ہے اور اس کے مقابلے کے لیے نئی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے۔

سابق اسرائیلی فضائی دفاعی کمانڈر ران کوچاؤ کے مطابق اسرائیل ان ڈرونز کو روکنے میں ناکام رہا ہے کیونکہ یہ بہت چھوٹے، تیز اور نیچے پرواز کرتے ہیں۔
اسرائیل نے برسوں تک میزائلوں اور راکٹوں کے خلاف دفاعی نظام مضبوط کرنے پر توجہ دی، لیکن ڈرونز کو ترجیح نہیں دی۔ کوچاؤ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو یوکرین کی جنگ میں فائبر آپٹک ڈرونز کی ترقی پر نظر رکھنی چاہیے تھی، کیونکہ ایران کے اتحادی بھی انہیں استعمال کر سکتے تھے۔

یوکرین کی جنگ میں روس اور یوکرین دونوں نئی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل ہیں۔ روس ایران سے حاصل کردہ شاہد ڈرونز استعمال کرتا ہے، لیکن وہ اکثر جام ہو جاتے ہیں۔ اس مسئلے سے بچنے کے لیے فائبر آپٹک ڈرونز بنائے گئے، اگرچہ ان کی رینج محدود ہے۔ بعض اوقات ان کے تار 50 کلومیٹر تک پھیلے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔
حزب اللہ نے حالیہ ہفتوں میں ان ڈرونز کے حملوں کی ویڈیوز جاری کی ہیں۔ ایک حملے میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور چھ زخمی ہوئے، جبکہ دوسرے حملے میں ایک اسرائیلی کنٹریکٹر مارا گیا۔ ان حملوں نے عوامی توجہ حاصل کی ہے کیونکہ ڈرونز براہِ راست فوجیوں کے قریب جا کر دھماکہ کرتے ہیں۔

اسرائیل کے شمالی شہر کریات شمونا میں ایک ڈرون گرنے کے بعد ایک مقامی شخص نے اپنے گھر کے صحن میں باریک سفید تاروں کے گچھے دیکھے۔ اس ڈرون میں تقریباً دو کلو بارود موجود تھا جو خوش قسمتی سے پھٹ نہیں سکا۔ اس واقعے نے مقامی لوگوں میں خوف پیدا کر دیا ہے کیونکہ یہ ڈرونز نہ تو نظر آتے ہیں اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی وارننگ سائرن بجتا ہے۔