کوئٹہ: لاپتہ افراد کے لواحقین کیلئے احتجاج کو 4420 دن مکمل

116

 

کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے لواحقین کا کیمپ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کے قیادت میں جاری، کیمپ کو 4420 دن مکمل ہوگئے ہیں۔ انجمن تاجران ہزار گنجی سریاب کے صدر خان محمد خوندئی، حاجی محمد رئیسانی ابراہیم کاکڑ نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی –

کیمپ آئے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ہمارے پر امن احتجاج کو سبوتاژ کرنے 13 سالوں سے ریاستی کوشش جاری ہے تاکہ ریاست اپنے ناجائز قبضہ کو برقرار رکھ سکے، جب جب بلوچوں کے پر امن احتجاج نے شدت اختیار کی تمام ریاستی ادارے اس جہدوجہد کو ختم کرنے کے اپنے کوششوں کو مزید تیز کردی ہے –

ماما قدیر بلوچ کے مطابق ریاست ہمیشہ نوکریوں کا جھانسہ دے کر بلوچ نوجوانوں کو انکے قومی شناخت سے دور کرنے کی کوشش کی اور بلوچوں کو انکے بنیادی سہولیات سے محروم رکھا اور انہیں اپنے جہدو جہد سے بیگانہ کرنے کی ناکام کوشش کی اسکے باوجود بلوچ آبادیوں پر ریاستی یلغار بلوچ نوجوانوں کی اغواء و جھوٹے انکاؤنٹر میں قتل کرنے کی پالسی کو جاری رکھا تاکہ بلوچوں کے پر امن جہدو جہد کو ختم کیا جاسکے –

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ریاستی خفیہ ادارے مذہبی شدت پسندی کو بلوچستان میں بھڑاوا دیکر دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ بلوچستان میں جو فوجی جارحیت مذہبی شدت پسندی کے خلاف ہے –

ماما قدیر بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ ریاست کے ان اقدامات سے واضح ہے کہ وہ بلوچ قومی جہدوجہد میں شامل تنظیموں و انکے ارکان کے خلاف کریک ڈاؤن کو جواز فراہم کرکے ان میں مزید شدت لانے پر عمل پیرا ہے –