فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) نے مطالبہ کیاہے کہ چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو تبدیل کیا جائے جبکہ فیکلٹی ممبروں کے لئے تدریسی تجربے و پروموشن کے لیے پی ایچ ڈی کے بعد کے تجربے کی ضرورت کے نفاذ میں مزید 5 سال کی توسیع دینے سمیت ایچ ای سی کی نئی ریسرچ جرنل پالیسی کے نوٹفیکیشن کو واپس لیا جائے اور اساتذہ اور ریسرچرز کے لئے 75٪ ٹیکس چھوٹ دی جائے جبکہ اساتذہ کو درپیش دیگر مسائل حل کیے جائے اور دھمکی دی اگر 30جون تک مطالبات پورے نہ ہوئے تو ان لائن کلاسز سے بایئکاٹ کرینگے اور ایچ ای سی کے تمام پالیسز سے بایئکاٹ کرنے سمیت احتجاج پر مجبور ہونگے اس بات کا فیصلہ فیڈریشن کی آن لائن ایگزیکٹیو باڈی میں کیا گیاجسمیں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے صوبائی چیپٹرز اور اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (اے ایس اے) کے نمائندوں نے شرکت کی اجلاس میں اعلی تعلیم کے شعبے کو نقصان پہنچانے اور تحقیقی کلچر کی حوصلہ شکنی کے لئے پالیسیاں شروع کرنے پر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ان کی نااہل ٹیم کی کارگردگی کی شدید مذمت کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی اور ایچ ای سی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ فیکلٹی کے مسائل حل کرے نے کیلئے اہل شخص کو ایچ ای سی کا چیئرمین مققرر کیا جائے تاکہ پاکستان کے اعلی تعلیم کے شعبے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکیں۔انہوں نے چیئرمین ایچ ای سی کے رویہ پر مایوسی کا اظہار کیا، جو پچھلے دو سالوں میں متعدد بار اکیڈیمیا کے امور کو حل کرنے اور اپنے وعدوں کو برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اجلاس میں پنجاب حکومت کی ”پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے بارے (ترمیمی) ایکٹ 2020” نافذ کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت اور مخالفت کی گئی اور واضح کیا کہ یونیورسٹیوں کی خودمختاری کو کم کرنے یا سمجھوتہ کرنے کی ایسی کوئی بھی کوشش کی گئی اساتذہ کی حمایت کے سا تھ بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ فپواسا کے مطابق غیر ماہر تعلیم کو سنڈیکیٹ کا سربراہ مقرر کرنے کی تجویز کو قبول نہیں کرینگے جبکہ سالانہ بجٹ میں تعلیمی شعبے اور یونیورسٹیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا فپواسا کے مطابق سالانہ بجٹ میں حکومت کی جانب سے یونیورسٹیوں کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے جبکہ کہ ایچ ای سی کا جامعات کے حوالے سے کردار کو حوصلہ شکن قرار دیا ہے جبکہ ا یچ ای سی جامعات کے بجٹ کے حوالے سے مکمل نا کام ہو چکی ہیں جسکی وجہ سے تعلیمی اور انتظامی عملے کو وقت پر تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہیں۔فپواسا نے ٹینوئر ٹریک (ٹی ٹی ایس) فیکلٹی سے متعلق ایچ ای سی کے 36 ویں کمیشن اجلاس کی سفارشات کو مسترد کردیاہے کیونکہ اسمیں فپواساکے سفارشات کو نظر اندز کیا گیا ہے ۔فپواسا نے 30جون تک مطالبات حل کرنے کی ڈیڈ لائن دی ہے بصورت دیگر ان لائن کالاسز سے بائیکاٹ سمیت احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرینگے۔
تازہ ترین
تربت: فائرنگ سے بلیدہ کا رہائشی قتل
ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں ایم ایٹ شاہراہ پر کلگ کراس کے مقام پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک...
کوئٹہ: گیس کے بھاری بلوں کے خلاف شہریوں کا احتجاج
بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں سوئی گیس کے بھاری، غیر منصفانہ اور مبینہ طور پر غلط بلوں کے خلاف شہری سراپا...
مستونگ: پاکستانی فورسز قافلے پر حملہ
پیر کے روز بلوچستان کے ضلع مستونگ میں پاکستانی فورسز ایک قافلے پر حملہ ۔
تفصیلات کے مطابق مستونگ...
نوشکی، خاران: پاکستانی فورسز پر حملے، جانی نقصان کی اطلاعات
بلوچستان کے اضلاع نوشکی اور خاران میں پاکستانی فورسز کو مسلح حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تفصیلات کے...
کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6407ویں روز...
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ...



















































