تاریخ رقم کرنے والے فدائین ۔ زہیر بلوچ

328

‎تاریخ رقم کرنے والے فدائین

‎تحریر: زہیربلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

‎تاریخ باتوں و شور و غل سے رقم نہیں ہوتی ہے بلکہ تاریخ کردار، عمل، جدوجہد اور عظیم قربانیوں سے رقم ہوتی ہے۔ تاریخ کو رقم کرنے والے آسمانی فرشتے نہیں ہوتے ہیں بلکہ خدا کے مخلوق انسان ہوتے ہیں، سو سال پہلے کوہ پروش کے مقام پر بلوچ خان نے انگریز سامراجیوں سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے ہوئے تاریخ رقم کر دی، اپنے آنے والے نسلوں کو راہ دکھائی کہ ہمیں مرنا سیکھنا چاہیئے لیکن کسی بھی جابر طاقتور اور قابض کی غلامی ہمیں نہیں کرنا چاہیئے، بلوچ قوم میں ایسے عظیم تاریخ رقم کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، میر محراب خان نے بھی دشمن سے لڑ کر تاریخ رقم کر دی کہ ہمیں قابض ریاستوں کے سامنے جھکنے کے بجائے جنگ لڑنی چاہیئے لیکن شاید 11 مئی کو بلوچ عظیم سپوتوں نے بلوچ تاریخ میں ایک ایسی تاریخ رقم کی ہے جس کی مثال صدیوں تک شاید نہ ملے، اس تاریخ کو رقم کرنے والے بلوچستان دھرتی کے عظیم سپوت اور بلوچ قومی فوج بلوچ لبریشن آرمی کے فدائی یونٹ مجید برگیڈ کے سپاہی اور قومی جہدکار کچکول بلوچ، اسد بلوچ، حمل بلوچ اور منصب بلوچ نے انجام دیا، 11 مئی کو چار بجے سوشل میڈیا میں گوادر میں حملے کی نیوز وائرل ہونے لگی پہلے پہل ہم سمجھے کہ کوئی چھوٹا موٹا دھماکہ یا حملہ ہوگا جو روزانہ کی بنیاد پر بلوچ سرمچار قابض فوج کے اہلکاروں پر کرتے ہیں لیکن کچھ ہی وقت بعد نیوز آنے لگے کہ تین سے چار مسلح افراد گوادر کے پی سی ہوٹل یعنی پرل کونٹینٹل ہوٹل میں گھس گئے ہیں۔

‎ یہ ہوٹل گوادر کا سب سے اہم اور غیر ملکیوں کیلئے منصوب ہے، یہاں بڑے سرمایہ دار اور اعلیٰ حکام رہائش کرتے ہیں، عام لوگوں کو اس ہوٹل میں جانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ شاید اس حملے نے دشمن کے ہوش اڑا دیئے قابض ریاست کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا کروں لیکن اس دورانیہ میں بلوچ سرمچار پہلے سے تیار اور بالکل جنگی اصولوں سے واقف حکمت عملیوں کے ساتھ آئے تھے، سب سے پہلے بلوچ لبریشن آرمی اور قوم کے عظیم سپوتوں نے ہوٹل کے لگائے گئے سارے سی سی ٹی وی کیمرے نست و نابود کیئے، دوستوں کا یہ عمل نہایت ہی اہم اور ضروری تھا کیونکہ اگر سی سی ٹی وی کیمرے بند نہ کیئے گئے ہوتے تو دشمن آسانی سے ان کی لوکیشن سمیت ان کی سرگرمیوں کا مکمل ادراک رکھ سکتا تھا لیکن بہت ہی مہارت سے دھرتی کے تینوں عظیم سپوتوں نے سب سے پہلے ہوٹل کے سی سی ٹی وی کیمرے تباہ کیئے اس سے دشمن کو فدائیوں کے کسی بھی عمل کا علم نہیں ہوا، جس سے انہیں بہت زیادہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد تنظیم کی جانب سے ساتھیوں کی خبر کو میڈیا میں لانے کی حکمت عملی بی ایل اے کی جنگی حکمت عملیوں کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

‎تنظیم کی جانب سے اعلان کے بعد قابض نے سکھ کا سانس لیا تھا کہ اب شہید ہو گئے ہیں تو وہ رش کرتے ہوئے اندر پہنچنے کی کوشش میں لگے لیکن اس سے دشمن اور قابض فوج کو بھاری جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، انہی کامیاب حکمت عملیوں کی وجہ سے دشمن کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ میں ہمیشہ اس اس فلسفے کا حامی رہا ہوں کہ جنگ میں صرف حکمت عملی ہی اہمیت رکھتا ہے، اگر بہتر ٹیکنیکل اور جدید حکمت عملیاں ہیں تو ہم دشمن کو بڑا شکست دے سکتے ہیں لیکن اگر یہ نہیں ہیں تو جذباتیت کے بنیاد پر قابض کو شکست دینا آسان نہیں ہوگا۔

‎شہید کچکول جان، شہید اسد جان، شہید منصب جان اور شہید حمل جان نے اس کامیاب جنگ جو جنگِ “زِر پہازگ” کے نام سے اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے کو عملی جامہ پہنایا، یقیناً یہ حملہ قابض کیلئے خدا کی قہر سے کم نہیں ہوگا کیونکہ یہ حملہ سی پیک کے مرکز گوادر میں کیا گیا ہے۔ جہاں چینی سمیت دیگر عالمی سرمایہ دار آتے جاتے ہیں، اب اس حملے کے بعد قابض کے سارے کوششیں ناکام ہو جائیں گی جو پچھلے کئی سالوں سے کوشش میں لگا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کا ماحول ہے لیکن حقیقت میں اس طرح نہیں ہے بلکہ قابض کو بلوچ سرمچاروں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔ اگر میں زِر پہازگ آپریشن یا کارروائی کو بلوچ قومی تحریک میں سب سے بڑی کامیاب کارروائی قرار دوں تو میں نہیں سمجھتا کہ میں غلط ہونگا کیونکہ شاید تاریخ کا پہلا مقام ہوگا کہ چار ساتھیوں نے ایک ساتھ فدائی حملے کی شکل میں اپنی جان کی قربانی دی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ شاید یہ بھی پہلا مقام ہوگا کہ چار عظیم ساتھی دشمن کے حصار میں بیٹھ کر ہزاروں فوجیوں، ہیلی کاپٹروں، جنگی جہازوں، جیٹ طیاروں، ڈرون سمیت ہزاروں فوجیوں کے درمیان میں رہ کر چوبیس گھنٹے تک دشمن کا مقابلہ کریں۔ قابض فوج نے اپنی مرے ہوئے فوجیوں کی تعداد بتانے میں تو جھوٹ کا سہارہ لیا لیکن دنیا اندھی نہیں کہ بلوچ سرمچاروں کے اس کامیاب حملے کا اندازہ نہ لگا سکیں۔

‎بلوچ لبریشن آرمی پہلے بھی ایسے کاروائیاں کر چکی ہے، پیچھلے سال کراچی کونصلیٹ خانے پر بھی ایک زبردست فدائی حملہ کیا گیا تھا جہاں تنظیم کے تین فدائی ساتھیوں نے ایک ساتھ کراچی کے مین ریڈ زون میں گھس کر دشمن کی نیندیں خراب کر دی لیکن اُس حملے سے بھی چین بلوچ کو زیادہ سیریس نہیں لے رہا تھا لیکن گوادر حملے نے چینیوں کی چیخیں نکالی ہوگی، چین گوادر کو اپنے لیئے سب سے زیادہ سیف جگہ محسوس کر رہے تھے لیکن بلوچ سرمچاروں کی جانب سے گوادر کی سب سے زیادہ سیکورٹی والے ہوٹل پر حملہ چین کو ضرور سوچنے پر مجبور کرے گا کہ بلوچ کسی بھی صورت میں قابض پاکستان اور کسی بھی ریاستی ادارے کو یہ اختیار نہیں دینگے کہ بلوچ سرزمین پر بلوچ کی مرضی و منشا کے بغیر کوئی سرمایہ کاری کر سکیں گوادر سے لیکر پورا بلوچستان بلوچوں کا ہے پاکستان ایک قابض فوج ہے اس قابض فوج سے آزادی تک لڑنا بلوچ اپنا فرض سمجھتا ہے۔

‎بلوچ لبریشن آرمی کا یہ تاریخ ساز حملہ جو بقول بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ کہ اس حملے میں ہمیں بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچ رپبیلکن آرمی بیبگر گروپ کی بھرپور کمک حاصل تھی ایک جانب دشمن کیلئے تباہی کا سبب ہے تو دوسری جانب بلوچ قوم کیلئے ایک نئی امید، گوادر میں اس طرح کے بڑے پیمانہ کا حملہ خود بلوچ سرمچاروں کی طاقت کے اظہار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بلوچ قوم جو پچھلے کچھ وقتوں سے مایوسی کی کیفیت میں مبتلا تھا ایک بار پھر جوش میں ہے ایک جانب ہم دیکھ رہے ہیں کہ بلوچ قومی فوج ایک ہی طاقت کے پیچھے کھڑے ہونے کی کوشش کر رہا ہے، مثال کے طور پر براس اس کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ رپبیلکن گارڈ اب ایک ساتھ دشمن کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ یہ حملہ کئی پیمانوں میں اپنی نوعیت میں تاریخ ساز ہے۔ ایک گوادر کے دلبند پر حملہ چین اور پاکستان کے ان سارے دعوؤں کو رد کر دیتا ہے کہ بلوچ سرمچار اب طاقت نہیں رکھتے ہیں دوسری بات جنگ کو اتنی طویل وقت تک جاری رکھنا تیسری کامیابی بلوچ قوم کے دل میں ایک نئی امید دلانا، چھوتی بات پہلی مرتبہ بی ایل ایف بی ایل اے اور بی آر اے نے اتنی بڑی کارروائی ایک ساتھ انجام دیا ہے جو اتحاد کا ایک ثبوت ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔