تیرہ مل میں دفنائے گئے مسخ شدہ لاشیں لاپتہ بلوچ افراد کی ہیں – ماما قدیر بلوچ

132
File Photo

ہم عرصہ دراز سے مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ جو بھی لاوارث مسخ شدہ لاش برآمد ہوجائے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ان کی ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے کیونکہ ان میں سے بیشتر مسخ شدہ لاشیں قلی کیمپ و دیگر فوجی مراکز کے قریب سے پائے گئے ہیں – ماما قدیر بلوچ

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 3455 دن مکمل ہوگئے۔ اظہار یکجتی کرنے والوں میں سول سوسائٹی و زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ کے بی ایچ آر او طیبہ بلوچ نے ساتھیوں کے ہمراہ لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے اس موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی تشویش ناک صورت حال اور پامالیوں پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مختلف ممالک اپنے خدشات کا اظہار کرتے آرہے ہیں لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان خصوصاً بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں، ریاست کے ہاتھوں شہریوں کی جبری اغواء، آپریشن،ب ستیوں کے بستی جلانے کے عمل، طاقت کے زور پر لوگوں کو ان کے آبائی و جدی مسکنوں سے ہجرت کرانے کی عمل میں کمی کی بجائے روز بہ روز تیزی آرہی ہے جس کی تشویشناک ترین مثال آج ایدھی فاؤنڈیشن کے ذریعے تیرہ مل کوئٹہ کے قبرستان میں دس مسخ شدہ لاوارث لاشوں کی دفن کرنے کی ہے۔ ہم عرصہ دراز سے مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ جو بھی لاوارث مسخ شدہ لاش برآمد ہوجائے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ان کی ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے کیونکہ ان میں سے بیشتر مسخ شدہ لاشیں قلی کیمپ و دیگر فوجی مراکز کے قریب سے پائے گئے ہیں۔ یہ صرف آج کی دس لاشوں کا واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی متعدد بار سینکڑوں لاوارث مسخ شدہ لاشوں کو بغیر ڈی این اے ٹیسٹ و کسی شناخت کے تیرہ مل کے قبرستان میں دفنایا گیا اور ہمیں قوی یقین ہے کہ یہ ناقابل شناخت مسخ شدہ لاشیں بلوچ مسنگ پرسنز کی ہی ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں پاکستان کی عدلیہ اور دیگر نام نہاد ادارے محض اپنے پرتعش سماعتوں اور اجلاسوں کے ذریعے انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کے حوالے سے اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کو آج بھی گمراہ کررہے ہیں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی سے توجہ ہٹانے کے لیئے گمراہ کن و من گھڑت رپورٹیں پیش کررہے۔

ماما قدیر نے کہا کہ آج بھی بلوچستان میں ہزاروں بلوچ نوجوان، 12 سال سے 15 سال تک کے بچے، 70 سال کے بوڑھے خواتین ریاستی خفییہ اداروں و فوج کی تحویل میں انسانیت سوز ازیت سہہ رہے ہیں جن پر فوجی ٹارچر سیلوں میں بدترین تشدد کیا جارہا ہے، آرمی اور خفیہ ایجنسیاں بلوچ سیاسی ورکروں اور بے گناہ لوگوں کو اغوا کرنے کے بعد پہلے مسخ شدہ لاشوں کو ویرانوں میں پھنک دیتے تھے لیکن اب اُن کی خفیہ طریقے سے ڈمپ کرتے ہیں تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے۔

 ‎ہم عالمی برادری و اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچستان میں اس تشویشناک انسانی حقوق کی صورتحال کا از خود نوٹس لیں۔