فکر آزادی کو سچ ثابت کرنا – فلسفہ فدائین – برزکوہی

120

فکر آزادی کو سچ ثابت کرنا
فلسفہ فدائین

برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

سقراط نے علم فلسفہ کو سچ ثابت کرنے کے لیئے زہر کا پیالہ پی کر جام شہادت نوش کی، اسکندریہ کے فلسفی پروفیسر ہائی پیشیا کو فلسفے کو سچ ثابت کرنے کی پاداش میں ڈنڈوں سے مار مار کر شہید کیا گیا، پھر اس کی لاش کی چھوٹی چھوٹی بوٹیاں کی گئیں اور ان بوٹیوں کو گلی میں رکھ کر آگ لگایا گیا تاکہ خوف مسلط ہو، علم فلسفہ کی سوچ دم توڑ دے۔اٹلی کے برونو کو کمبھے پر باندھ کر زندہ آگ لگائی گئی اور اس کی راکھ ہوا میں اڑا کر خوشیاں منائی گئیں۔

دنیا میں ایسے بے شمار انسان گزر چکے ہیں کہ اپنے نظریہ و افکار کو دنیا میں سچ ثابت کر نے اور پھیلانے کی خاطر ہر قسم کی اذیت حتی کے موت کو بھی خوشی سے قبول کرچکے، تاکہ تاریخ میں وہ امر ہوجائیں اور ان کی فکر بھی زندہ اور سچ ثابت ہو۔ جس طرح سقراط نے سزا موت دینے والی جیوری سے اپنے خطاب میں کہا تھا”یاد رکھو تم مجھے سزائے موت دیکر ذندہ کررہے ہو، اب میں اور میرا علم کبھی نہیں مریں گے کیونکہ میری تمام دلیلیں زندہ رہیں گی، اس لیئے میں زندہ رہونگا۔”

بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے دانستہ طور پر دشمن کو نقصان دیئے بغیر، صرف آواز کے بم اسمبلی میں گرا کر پھانسی کا تختہ بخوشی قبول کرکے اپنی قومی آذادی کی فکر کو اپنے قوم اور دنیا کے سامنے سچ ثابت کردیا۔اسی طرح بلوچ قومی لیجنڈ ریحان نے خود کو بارود سے بخوشی اڑا کر، بلوچ قوم خاص کر دنیا اور چین سمیت پاکستان جیسے دشمن کے سامنے قومی فکر کو سچ ثابت کردیا کہ قومی آزادی کی فکر سچائی کی فکر ہے۔ اگر اس فکر میں سچائی نہیں ہوتا تو اپنی جان کو خود فدا کرنا دور کی بات، باشعور انسان بغیر سچ اور حقیقت کے اپنا ایک انگلی بھی کٹا نہیں سکتا ہے۔

دنیا میں ہر سچائی کو صرف باتوں اور لفاظیت سے کوئی سچ ثابت نہیں کرسکتا، اگر اس طرح ممکن ہوتا تو حضرت محمد پر خدا کا وحی اور قران پاک نازل ہوتے ہوئے بھی انہوں نے کیوں فکر اسلام کو سچ ثابت کرنے کے لیئے جہاد شروع کی تکلیف اور مشکلات برداشت کیں؟ وہ بھی بیٹھ کر آرام سے صرف دعوے اور لفاظیت کے ذریعے اسلام کو سچا ثابت کرسکتا تھا حالانکہ آپ پر خدا کا وحی ناذل ہوچکا تھا پھر بھی سچائی کے لیئے اسے قربانی دینا پڑا تب جاکر اسلام دنیا کے کونے کونے میں پہنچا اور سچ ثابت ہوا۔ صرف باتوں دلیل اور لفاظیت سے ممکن ہوتا تو نبی کریم بھی بیٹھ کر صرف سچ کی دعوی کرتا۔ قران پاک اور خدا کا رسول ہونے کے دلیل سے زیادہ طاقتور دلیل اور کیا ہوسکتا تھا؟

آج ہم جتنا بھی، جس حدتک یہ دلیل دیں کہ پاکستان بلوچستان پر قابض ہے، ہم بحثیت بلوچ قوم بلوچ سرزمین کے مالک ہوتے ہوئے پاکستان کو اپنے سرزمین پر نہیں چھوڑتے اور چین بھی پاکستان کا ساتھ نہ دے اور بلوچ قوم کے وسائل کا لوٹ کھسوٹ بند کردے بلکل یہ فکر سچ اور سچائی پر مبنی ہے، کیا اس طرح کہنے اور دلیل پیش کرنے سے پاکستان اور چین بلوچ سرزمین کو چھوڑ دینگے؟ اور خود بلوچ قوم اس سچائی کو قبول کرلیگا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر 70 سالوں سے کیوں ایسا نہیں ہوا؟ کیوں سننے والا کوئی نہیں؟ اگر سنتے بھی ہیں لیکن کوئی توجہ نہیں ہورہا ہے؟کیوں سارے ٹھوس دلیل اور تاریخی حقائق نظر انداز ہورہے ہیں؟ کیوں بلوچ وسائل کے لوٹ کھسوٹ میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے؟ کیوں چین اور دیگر بیرونی سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے؟کیونکہ سب کچھ طاقت اور تشدد کی بنیاد پر ہورہا ہے، طاقت کو طاقت اور تشدد کو تشدد ہی ختم کرسکتا ہے دنیا میں کوئی ایسا ایک مثال ہے؟ بغیر طاقت اور بغیر تشدد سے طاقت اور تشدد کوئی ختم کرسکا ہے؟ میرے خیال میں بالکل نہیں پھر بلوچ قوم کس طرح اور کیسے چین اور پاکستان کی طاقت اور تشدد کو صرف دعووں اور لفاظیت سے ختم کرسکتا ہے؟ یا پھر انتہائی چھوٹے چھوٹے کاروائیوں سے اتنے بڑے پیمانے پر طاقت اور تشدد کو ختم کرسکتے ہیں؟ یہاں رکاوٹ اور پریشر کی حد تک بالکل کافی ہیں لیکن خاتمہ کرنا ناممکن نہیں۔

اگر ہم بحثیت بلوچ قوم اور بلوچ جہدکار صرف اور صرف رکاوٹ اور پریشر گروپ یا ہر ایک اپنے آپ کو انفرادی طور پر تاریخ میں محدود سطح تک زندہ رکھنے کی خواہش مند ہیں تو پھر جو چل رہا ہے، وہ صحیح ہے، پھر ہم تاریخ میں ضرور بالضرور اور ایک محدود سطح تک یاد رکھے جائینگے لیکن بطور کامیاب انسان اور کامیاب تحریک اور کامیاب قوم کے نام سے کبھی بھی نہ یاد رہینگے نہ ہی تاریخ بنیں گے، تو پھر اس طرح کے سینکڑوں قوم اور تحریک پہلے بھی گزر چکے اور آج بھی گزر رہیں ہیں جنکی کوئی خاص تاریخی اہمیت نہیں ہے۔

میں تو سمجھتا ہوں آج شعور و علم کی سطح کی کمزوری اور پست ہونے کی وجہ سے ہم سوچ کے حوالے سے انتہائی محدود دائرے اور مقام پر کھڑے ہوکر اس محدود دائرے اور سطحی مقام کو وسیع اور اعلیٰ مقام تصور کررہے ہیں حالانکہ حقیقت ایسا نہیں ہے۔

آج یہ بات روز روشن کی طرح عیاں اور شیشے کی طرح صاف اور واضح ہوچکا ہے، کچھ طبقے شعوری یا لاشعوری، دانستہ یا غیر دانستہ اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپری سطح تک مکمل ایک بلوچ قومی اور عوامی تحریک کی سوچ تک نہیں رکھتے ہیں یا ان کی سوچ اور اپروچ کی سطح یہاں تک ہے یا پھر سب کچھ جانتے ہوئے صرف اور صرف تحریک کی شکل اور نام پر بزنس یا وقت گزاری کرتے ہیں، جو قومی المیہ ہے۔

اس سوچ سے نہ تو دنیا کی توجہ بلوچستان پر مبذول ہوگا اور نہ دشمن سے چھٹکارہ حاصل ہوگا، البتہ دشمن کے لیئے کم سطح پر تکلیف اور پریشانی ضرور ہوگا اور اس سطح کے تحریک کو دنیا کبھی بھی کھل کر اور بڑے پیمانے پر سپورٹ نہیں کریگا اور دنیا اتنا بے وقوف بھی نہیں کہ وہ پاکستان اور چین جیسے طاقتوں سے مفت میں دشمنی مول لے، جب تک دنیا کی طاقت آپ میں وہ قوت اور طاقت محسوس نہ کرلے، اس وقت تک عملاً اور مکمل مدد ممکن نہیں۔

البتہ صرف پریشر گروپ کی حد تک توجہ دینا اور مدد کرنا ممکن ہوگا، جو بلوچ قومی تحریک اور مجموعی بلوچ قوم کے لیئے مفید ثابت نہیں ہوگا، البتہ کچھ لوگوں اور کچھ خاندانوں کے لیئے ضرور فائدہ مند ہوگا۔

انفرادی، خاندانی اور گروہی فوائد کے لیئے آج بلوچ تحریک میں کچھ طبقات اسی سوچ پر کاربند ہیں، جو انتہائی خطرناک ہیں، ایسی سوچ پر تحریک کو قومی اور عوامی تحریک کی شکل اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے، کچھ طبقات کبھی برداشت نہیں کرینگے، کیونکہ قومی اور عوامی تحریک کی شکل میں ان کی ذاتی، خاندانی اور گروہی مفادات کی تحفظ نہیں ہوگی، پھر پانے کے لیئے ان کے پاس کچھ نہیں۔

پھر پاکستان اور چین جیسے بلوچ دشمن قوتوں کا ردعمل آخری حد تک ہوگا، اس خوف کے تناظر اور ذاتی خوشحال زندگی گذارنے کی نقطہ نظر سے پاکستان اور چین جیسے دشمن کو زیادہ تکلیف دینا، انکو ناگوار گذرتا ہے، بس ایک حدتک اور معمولی سطح پر دشمن کو دشمن کہنا اور اس کے خلاف کچھ نہ کچھ کرنے والا حکمت عملی کافی ہوتا ہے، اس سے بڑھ کر کچھ کرنے والے اور قدم اٹھانے والوں کا گلہ گھونٹنا، حوصلہ شکنی اور مخالفت کرنا اس سوچ کے تحت تاکہ قومی اور عوامی تحریک اور دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان کی سوچ پروان نہ چڑھے جو کہ بلوچ تحریک میں انتہائی خطرناک سوچ اور حکمت عملی ہے۔ اسی خطرناک سوچ اور حکمت عملی کی وجہ سے تحریک سے وابستہ مخلص، قربانی کے جذبے سے سرشار جہدکاروں کے خلاف حربے، پروپگنڈے، دیوار سے لگانے والے سازش، کردار کشی، الزام تراشی، حوصلہ شکنی، مخالفت در مخالفت جاری و ساری ہے۔

بلوچ قومی لیجنڈ ریحان بلوچ نے قومی آزادی کی فکر کو مذید سچ ثابت کرنے کے لیئے اور دشمن کو یہ پیغام دینے کے لیئے پاکستان اور چین پر فدائی حملہ کرکے یہ ثابت کیا کہ بلوچ اپنی سرزمین پر کسی کو برداشت نہیں کرتا، اب یہ سچ اور سچائی خود بلوچ معاشرے میں پروان چڑھ کر آئندہ مزید کئی ریحان جیسے سپوت پیدا کریگا اور دشمن کے خلاف مزید ایسے اقدامات سامنے آئینگے، تو بلوچ قومی تحریک اور بلوچ سیاست میں متوقع تبدیلیوں کے ساتھ مزید ردانقلابی قوتیں واضح ہوکر اصل قومی جہدوجہد کے سامنے رکاوٹ ہونگے، ان کو سمجھنا اور جاننا ہر مخلص ایماندار اور ہم خیال جہدکار کی ذمہ داری ہے، یہ اس وقت ممکن ہوگا، جب سطحی اور محدود سوچوں کا خاتمہ ہوکر شعور اور سنجیدگی اپنی بلندیوں پر ہو۔