اہلکاروں کو بے ہوشی کی حالت میں اغواء کیا گیا تھا۔ ایران کادعویٰ

192

اغواءکاروں کو اندرونی معاونت حاصل تھی۔ ایرانی جنرل کا میڈیا نمائندوں سے گفتگو

دی بلوچستا ن پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق منگل کے روز اغواءہونے والے ایران کے سرحدی محافظوں کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پاسدارنِ انقلاب کور کے سرابرہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اہلکاروں کو اغواء کرنے سے پہلے بے ہوش کیا گیا تھا۔

پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل محمد علی جعفری کا دعویٰ تھا کہ اس واقعے میں اغواء کاروں کو اندرونی معاونت حاصل تھی، جس کے بغیر یہ ممکن نہیں ہوتا۔

محمد علی جعفری نے میڈیا کو بتایا کہ سرحدی فورسز اور مقامی باسیج فورسز کے اہلکاروں کو سیستان و بلوچستان کے سرحدی علاقے میرجاوہ کے علاقے گوالشتاپ کے مقام پر قائم چوکی سے اغواء کیا گیا جہاں گزشتہ کئی سالوں سنی بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم ایرانی فورسز پر حملہ کرنے کے بعد پاکستان فرار ہوجاتے ہیں۔

پاسداران انقلاب کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کی جانب سے مذکورہ کیمپ کو پہلے بھی متعدد بار حملہ کر کے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس میں شدت پسند ناکام رہے۔

ایرانی جنرل نے دعوی کیا ہے کہ ہمارے دشمنوں کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ فورسز کے اہکاروں کو ہوش میں رہتے ہوئے زندہ اغواء کرتے اس لیے پہلے اندرونی مدد سے اہکاروں کو بے ہوش کیا گیا جس کے بعد اُن کو اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے ۔

جنرل جعفری کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے ذمہ دار اپنے انجام کے لیے تیار رہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کو غیر مستحقم کرنے کے لیے دشمن ممالک بڑے پیمانے پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں، لیکن ایرانی فورسز انکے ان سازشوں کو ناکام کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔

یاد رہے ایرانی فورسز اہلکاروں کو منگل صبح نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کیا تھا ۔

ایران حکام کے مطابق اغواء ہونے والے اہلکاروں کی تعداد چودہ ہے جبکہ دیگر ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مغوی اہلکاروں کی تعداد انیس بتائی جاتی ہے ۔ تاہم آزاد ذرائع سے ابتک اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

خیال رہے اس واقعے کی ذمہ داری ابتک کسی تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے تاہم ایران کے بلوچ آبادی والے علاقے میں اس سے قبل ہونے والے حملوں کی ذمہ داری جیش العدل نامی تنظیم قبول کرتی آرہی ہے۔

جیش العدل ایک سنی انتہاء پسند تنطیم ہے جس کے بارے میں یہ بھی دعویں آتے رہے ہیں کہ یہ تنظیم گولڈ سمڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتی اور بلوچستان کی آزادی چاہتی ہے۔