سوچ و فکرِ شہید رضا عرف مشمار – شاری بلوچ

33

سوچ و فکرِ شہید رضا عرف مشمار

تحریر: شاری بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

سامراجوں کی نفسیات یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی قوم اور سرزمین کو غلام بنانا چاہتے ہیں۔ ابتدا میں ان سامراجوں کا مقصد اپنی زمینی طاقت اور معاشی حیثیت کو بہتر اور مضبوط بنانا ہوتا ہے، لیکن قبضہ جمانے کے بعد ان کے ارادے بدلنے لگتے ہیں۔ وہ اس سرزمین کے باسیوں کو دنیا کے وجود سے مٹانا چاہتے ہیں۔ اس قوم کی نسل‌کشی کی جاتی ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ مزاحمت بھی اپنی جھلکیاں دکھانے لگتی ہے۔ قبضہ‌گیر کے خلاف ہر محاذ پر مزاحمت شروع ہو جاتی ہے۔ مظلوم کا ہر فرد کسی نہ کسی محاذ پر دشمن کے خلاف مورچہ‌زن ہو جاتا ہے۔ سیاسی اور عسکری محاذ دشمن کے وجود کو ختم کرنے میں سرگرم ہو جاتے ہیں۔ یہی مزاحمت ایک جنگ کی شکل اختیار کرتے ہوئے دشمن کے وجود کو ختم کرتی ہے۔

جنگ امن کو خراب کرنے کے لیے نہیں، بلکہ امن لانے کے لیے لڑی جاتی ہے۔ جنگ دشمن کے خون کے ساتھ آپ کے خون کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ اس جنگ کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ ان عظیم ہستیوں کو بھی نگل لیتی ہے جن کی آنکھوں میں دیکھا بھی نہیں جا سکتا۔ جنگ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے آگے لہو کے سمندر بھی کم پڑ جاتے ہیں۔ جنگ قربانی کے بغیر لڑی نہیں جا سکتی؛ قربانی اس کی پہلی شرط ہے، اور قربانی کے بغیر جنگ ایک ادھورے خواب کی مانند رہ جاتی ہے۔ جنگ کا ایندھن شہدا کا لہو ہے۔ آج بلوچ کی جنگ جس شدت کے ساتھ جاری ہے، وہ ہمارے شہدا کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

شہدا کو چند الفاظ میں بیان کرنا ان کے ساتھ سب سے بڑا ظلم ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے لہو سے بلوچ سرزمین کا دفاع کیا ہے۔ لہو کا بدلہ لہو ہی ہے۔ خیر، یہ ایک حقیقت ہے کہ انہیں لفظوں میں سمیٹا نہیں جا سکتا، لیکن میں چند یادیں ایک ایسے کردار کے بارے میں رقم کر رہا ہوں جسے میں کبھی اپنے سے جدا نہیں کرنا چاہتا اور جسے میں نے ہمیشہ اپنے دل میں بسائے رکھا ہے۔ وہ کردار ’’شہید رضا جان عرف مشمار‘‘ کا ہے۔ ان کا نام لیتے ہی میرا کلیجہ پھٹ جاتا ہے، کیونکہ ایک نظریاتی انسان کا تعلق خون کے رشتے سے ہزار گنا بڑھ کر ہوتا ہے۔ رضا ان لوگوں میں سے ایک تھے جو ہمیشہ اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر محاذ پر سرگرمِ عمل رہے۔ انہیں اپنی ذات کی کوئی پروا نہیں ہوتی تھی؛ ان کے دل میں ہمیشہ اپنی زمین کا درد موجود رہتا تھا۔ اسی درد کو اپنے ساتھ لیے انہوں نے اپنے آخری سانس تک اپنی سرزمین کا دفاع کیا۔

شہید رضا بلوچ ایک ایسے انسان تھے جنہوں نے اپنے بچپن سے لے کر آخری دم تک سامراج کے ظلم کے خلاف ہر محاذ پر مزاحمت کی۔ آپ نے اپنی سرزمین کے دفاع میں زندان کی تاریکیاں دیکھیں۔ آپ نے سامراج کے ہر ظلم کو اپنے سینے پر جھیلا۔ آپ نے خاموشی کے بجائے مزاحمت کی راہ اپنائی۔ دشمن نے آپ کو خاموش کرانے کے لیے ہر طرح کی ذہنی اور جسمانی اذیت دی، لیکن آپ شعور سے لیس ایک عظیم جدوجہد کرنے والے انسان تھے۔ آپ اپنے اوپر ہونے والے مظالم کو صرف اپنی ذات پر ہونے والا ظلم نہیں سمجھتے تھے، بلکہ انہیں ایک اجتماعی سزا سمجھتے تھے، کیونکہ ہم غلام ہیں، اور سامراج ہمیشہ غلاموں کو اجتماعی سزا دیتا ہے تاکہ غلام کی سوچ بھی غلام ہی کی طرح رہے۔ جب ظلم اجتماعی ہو تو مزاحمت کا بھی اجتماعی ہونا لازم ہو جاتا ہے۔

رضا نے اس فلسفے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خود اس اجتماعی ظلم کے خلاف مزاحمت کا آغاز کیا۔ آپ عسکری محاذ پر قدم رکھتے ہی دشمن کو اس کے کیمپوں میں رلانے پر مجبور کر دیتے تھے۔ آپ نے کئی محاذوں پر دشمن کو پسپا کیا اور نوشکی کی پاک سرزمین پر ہیروف کی تیز طوفان میں اپنے کئی ساتھیوں سمیت اپنا خون اپنی سرزمین کی آزادی اور اپنے لوگوں کے بہتر مستقبل کے لیے پیش کیا۔ آپ کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ ہم اس فلسفے کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی منزل تک مزاحمت جاری رکھیں گے۔ آپ لوگوں کے لہو نے ہمیں استقلال اور مستقل مزاجی کا درس دیا ہے، کیونکہ ہماری منزل بہت انمول ہے، اور اس کے لیے نسل در نسل قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ ہم نسل در نسل یہ قربانی دینے کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔