باغی لڑکی شہناز – حیراس بلوچ

58

باغی لڑکی شہناز

تحریر: حیراس بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

فلسفی البرٹ کامو نے شاید بے معنویت پر سب سے خوبصورت اور واضح الفاظ لکھے ہیں۔ اس نے اپنی مشہور کتاب The Myth of Sisyphus میں کہا کہ انسان اور کائنات کے درمیان ایک بنیادی دوری ہے، انسان معنی چاہتا ہے، کائنات خاموش ہے۔ اس تضاد کو “عبثیت” کہتے ہیں۔ اور جب یہ عبث ہمارے دل میں اتر جائے تو زندگی کا ہر منصوبہ، ہر محبت، ہر جدوجہد بے معنی لگنے لگتی ہے۔ لیکن کامو ہمیں تین راستے بتاتا ہے: پہلا، خودکشی جسے وہ مسترد کرتا ہے کیونکہ یہ بے معنویت کو حل کرنے کے بجائے ختم کر دیتا ہے۔ دوسرا، فلسفیانہ خودکشی یعنی کسی مطلق سچائی یا مذہب میں جا چھپنا، جسے وہ دانشورانہ بزدلی کہتا ہے اور تیسرا، بغاوت یعنی بے معنویت کا سامنا کرنا، اسے دل سے قبول کرنا، اور پھر بھی جینے کا انتخاب کرنا۔

فلسفی ژاں پال سارتر نے بے معنویت کو اپنے فلسفے کی مرکزی حیثیت دی۔ اُس نے کہا کہ “وجود ماہیت سے پہلے ہے” یعنی انسان پہلے پیدا ہوتا ہے، بغیر کسی پہلے سے متعین مقصد کے، اور پھر وہ خود اپنی زندگی کو معنی بخشتا ہے، یا بخشتا نہیں۔ لیکن یہاں سارتر ایک اور بڑی سچائی کی طرف لے جاتا ہے: بہت سے لوگ اپنی زندگی کو کوئی معنی نہیں دیتے، وہ بھیڑ میں گھل جاتے ہیں، وہ غلط عقیدے کا شکار ہو کر دوسروں کے بتائے ہوئے راستوں پر چلتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے زندگی نہ صرف بے معنی ہے، بلکہ وہ اس بے معنویت کو محسوس کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ سارتر کا اصرار ہے کہ بے معنویت کو تسلیم کرنا ہی بہادری ہے، اور پھر اس کے باوجود اپنے منصوبے بنانا، اپنے اہداف طے کرنا، اور ان کے لیے مر مٹنا یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اس خلا سے نکالتا ہے۔

کیا زندگی کو بغیر معنی محض جینے کا ایک وسیلہ اور ذریعہ تصور کرتے ہوئے اسی نقشِ قدم پر چل کر جینا اور مرنا بھی زندگی کی زمروں میں آتا ہے؟ بیشتر تمام مفکروں اور فلسفیوں کی پوری زندگی اسی سوال کے آس پاس گھومتی پھیرتی ہے؛ آخر یہاں ہی خود ان کی زندگی بھی ختم ہوتی ہے۔

زندگی کو زندگی میں بدلنا محض معنی نہیں؛ زندگی کو معنیویت کے اس مقام پر لا کھڑا کرنا جہاں پہلا قدم بغاوت: سماج سے بغاوت، فرسودہ رسم و رواج سے بغاوت، جہالت سے بغاوت، لاشعور سے بغاوت، ہیجانات، وہمات، تہمات اور عقائد سے بغاوت، تب محض زندگی کی معنی بدل نہیں جاتی بلکہ بے معنویت زندگی کی معنیویت شروع ہوتی ہے۔

شہناز بلوچ ایک باغی ہے مگر اپنی قومی رسم و رواج اور سماج سے نہیں بلکہ اپنی غلامانہ اور فرسودہ رسم و رواج اور سماج سے بغاوت کر چکی ہے۔

جہاں اور جس سماج میں عورت کو محض بطور صنفی عصبیت کے صنفِ نازک شمار کیا جائے اور مرد کو عزت و غیریت اور ننگ و ناموس کے حوالے سے استثنا حاصل ہو، اور عورت ہی کو صرف ننگ و ناموس و غیرت و عزت کے طور پر بطور علامت استعمال کیا ہو اور عورت کو چادر و چاردیواری کی محدود قید میں قیدی تصور کیا جائے، وہاں پھر سماجی شعور خود اس تلخ حقیقت کی طرف سادہ مگر انتہائی گہرا ثبوت اور منطق کے ساتھ اس سفاک سچ کو آشکار کرتا ہے کہ اب تک تمہارا سماج علم و شعور اور حکمت کے حوالے سے اس سطح پر کھڑا ہے جہاں سماجی ترقی و انقلابی تبدیلی ناپید ہوتے ہوئے ایک خالص تہذیب یافتہ و ترقی یافتہ قومی ریاست کی تشکیل میں نہ صرف بہت پیچھے ہے بلکہ اب تک ناممکنات کی دلدل میں پھنسے ہوئے ایک پسماندہ، فرسودہ اور غلامانہ سماج کا واضح ڈھیر ہے۔

قومی جنگیں، قربانیاں، سختیاں، تکالیف، اذیتیں، شہادتیں، گمشدگیاں، دردناک اور کربناک ادوار صرف قابض دشمن کو شکست و ریخت سے دوچار کرتے ہیں اور غلامانہ و نوآبادیاتی نظام کی کھوکھ سے جنم لیے والی فرسودہ روایات و رسم و رواج اور عقائد کو کسی نہ کسی حد تک صرف توڑتے ہیں، مگر انہیں واپس اپنے کھوئے ہوئے تہذیبی شعور میں جدیدیت کے ساتھ ازسرِنو تشکیل دینے میں کارگر اور موثر ثابت نہیں ہوتے۔

اسی لیے تاریخ میں اکثر انقلابی تحریکیں اور قومی آزادی کی تحریکیں اپنی طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کی بدولت اپنے دشمنوں کو شکست سے دوچار کرکے انقلاب تو برپا کر چکی ہیں اور دشمن سے آزادی حاصل تو کر چکی ہیں، مگر انہیں برقرار رکھنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ ان کی بنیادی وجوہات میں بہت سی ہیں مگر ایک اہم وجہ اپنی غلامانہ اور نوآبادیاتی سماجی روایات سے بغاوت اور مزاحمت کے جذبے اور شعور کی قلت، اور دورانِ جنگ و جدوجہد اپنی اصل اور تاریخی تہذیب، رسم و روایات کی پہچان اور تشکیل میں غفلت و روگردانی رہی ہے۔

بلوچ قومی جنگ خاص کر بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) آج محض عسکری طور پر دشمن پر کاری ضرب لگا کر صرف حملہ آور تنظیم نہیں ہے کہ بس دشمن کو شکست دے کر بلوچستان کو آزاد کرنا ہے بلکہ بی ایل اے بلوچ جدوجہد میں طویل قربانیوں اور بے شمار شہیدوں کے لہو سے آبیاری کی قیمت فقط قابض ریاست پاکستان کی شکست اور آزاد بلوچستان حاصل کرنے تک محدود نہیں رکھتی بلکہ اسے یہ مقام اس لیے بھی بلند و مقدم ہے کہ ایک ایسا آزاد بلوچستان ہو جہاں انگریز اور پنجابی غلیظ نوآبادیاتی اور غلامانہ نظام کے منفی اثرات باقی نہ رہ جائیں تاکہ بلوچستان ایک مہذب اور تہذیب یافتہ ملک بنے۔

اسی لیے بی ایل اے آج اپنی تنظیمی پالیسی اور تنظیمی حکمتِ عملی کے تحت نہ صرف قومی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں بلکہ بلوچ قومی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ ہر ایسی حکمتِ عملی اپنا رہے ہیں جس سے نوآبادیاتی قوت پاکستان کو انتہائی تکلیف اور بلوچ قوم میں شعور و آگہی پیدا ہو رہی ہے۔

آج شہناز بلوچ اور دیگر سینکڑوں خواتین کی جنگ میں شمولیت اور بطور اعلان تنظیم کے کمانڈر کی شکل میں میدان میں آنا، بی ایل اے کی اسی پالیسی اور حکمتِ عملی کا شاخسانہ ہے۔ کہ آج بلوچ قومی جنگ میں ایک نمایاں تبدیلی واضح ہو رہی ہے: یہ جنگ صرف دشمن کو شکست دینے کے لیے نہیں، بلکہ بلوچ قومی تشکیل اور قومی ریاست کی تشکیل کے لیے ہے۔

جس میں آج ہزاروں بلوچ قربان ہو چکے ہیں اور قربان ہو رہے ہیں وہ صرف غلامانہ و فرسودہ سماجی دلدل میں غرق آزادی کے لیے نہیں بلکہ ایک تہذیب یافتہ اور ترقی یافتہ بلوچستان کے لیے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔