مٹی کی پکار اور مسخ شدہ لاشیں – شاہین بلوچ

13

مٹی کی پکار اور مسخ شدہ لاشیں

تحریر: شاہین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کائنات کا سب سے بڑا ظلم یہ نہیں ہے کہ کسی بے گناہ کی جان لے لی جائے، بلکہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس کی جان لینے کے بعد اس کے بے جان جسم کو مسخ کیا جائے، اس کی پاکیزہ مٹی کو “دہشتگرد” کا جھوٹا لیبل لگا کر بدنام کیا جائے، اور پھر اس کے بوڑھے باپ اور تڑپتی ہوئی ماں کو اس کا آخری دیدار تک نہ کرنے دیا جائے۔ جب ظالم خود ہی قاتل، خود ہی منصف اور خود ہی خفیہ قبروں کا گورکن بن جائے، تو سمجھ لو کہ وہ معاشرہ فرعونیت کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔

برسوں تک انتظار کی سولی پر لٹکنے والی مائیں جب اپنے بچوں کی راہ تکتے تکتے اندھی ہو جاتی ہیں، اور بوڑھے باپ جو اپنے بڈھاپے کا سہارا کے لیے دن رات رہیں تکتا ہے کہ کب ظالموں کے چنگل سے اس کے بڑھاپے کا سہارا چھوٹ کر آئے گا، وہ بہن جن کی عمر نکلتی جارہی ہے اپنے ڈھولی تک اٹھنے نہیں دیتی کہ میرا بھائی آئے گا اس کے ہاتھوں سے مجھے رخصت ہونا ہے وہ بھائی جو اپنے تمام تر خواہشات کا گلہ گھونٹ کر یہاں تک کہ عید کے دن کے کپڑوں تک کا پیسہ جمع کر کے بھاگ دوڑ کرتا ہے کہ لاپتہ بھائی آجائے ہمارا گھر پھر سے آباد ہو جائے مگر بد قسمتی سے ایک دن انہیں اپنے جگر گے ٹکڑے کی واپسی کی خبر نہیں ملتی، بلکہ ویرانوں سے ان کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ ظلم کی انتہا دیکھو! وہ معصوم چہرے جنہیں مائیں چومتے نہیں تھکتی تھیں، انہیں اس طرح تیزاب ڈال کر بگاڑ دیا جاتا ہے کہ پہچاننا مشکل ہو جائے۔ اور جب بے بس بوڑھے والدین کے ہاتھ اپنے بچے کے آخری جنازے اور کفن دفن کے لیے آگے بڑھتے ہیں، تو قابض فوج اور انکے درندے ڈیتھ اسکاڈز کے کارندے ان لاشوں کو بھی چھین لیتے ہیں۔ انہیں اندھیری راتوں میں بے نام و نشان قبروں میں چھپا دیا جاتا ہے تاکہ ظلم کے ثبوت مٹائے جا سکیں۔

ظالم ہمیشہ بزدل ہوتا ہے۔ وہ اپنے سنگین جرائم کو چھپانے کے لیے “دہشتگردی” کے جھوٹے بیانیے کا سہارا لیتا ہے۔ جو نوجوان قلم اور کتاب کے وارث تھے، جو بزرگ اپنی مٹی کی بقا کی بات کرتے تھے، انہیں مار کر ان پر وہ الزامات تھوپ دیے جاتے ہیں جن کا انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوتا۔ یہ دگنا قتل ہے۔ پہلے انسان کا جسمانی قتل، اور پھر اس کے کردار اور مظلومیت کا قتل۔

لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ گمنام قبروں سے اٹھنے والی مٹی کی خوشبو اور مسخ شدہ جسموں کے زخم خود گواہی دیتے ہیں کہ اصل دہشتگرد کون ہے۔ جب کسی شہید کا خون مٹی پر گرتا ہے، اور جب اس کے پیاروں کو اس کی میت تک نہیں ملتی، تو وہ غم ایک ایسی چنگاری میں بدل جاتا ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت بجھا نہیں سکتی۔

اب رونے کا نہیں، جاگنے کا وقت ہے ہم کب تک صرف لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟ ہم کب تک گمنام قبروں میں دفن ہوتے رہینگے ؟ جب ظلم اس نہج پر پہنچ جائے جہاں زار و قطار رونا اور فریادیں بے اثر ہو جائیں، تو وہاں صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے: مزاحمت انقلاب اور یکجہتی کا

ظالم چاہتا ہے کہ ہم ڈر کر اپنے گھروں تک محدود ہو جائیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی مسخ شدہ لاشیں دیکھ کر خاموش ہو جائیں تاکہ اگلی باری کسی اور کے بچے کی ہو۔ اگر آج ہم کسی دوسرے کے بچے کے حقوق اور اس کی میت کی بے حرمتی پر خاموش رہے، تو کل ہماری باری پر بولنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔

ہمیں اپنی صفوں میں موجود مصلحت پسندی اور خوف کو نکال پھینکنا ہوگا۔ جب ہماری ماؤں اور بہنوں کو اپنے پیاروں کے سوگ میں سڑکوں پر بیٹھنا پڑتا ہے، تو یہ صرف ایک خاندان کا ماتم نہیں ہے، یہ پوری قوم کی غیرت کا امتحان ہے۔ ہمیں ، سڑکوں میدانوں ہر محاذ اور ہر فورم پر اس جبر کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہوگا۔

میتوں کو چھپانے سے سچائی نہیں چھپتی۔ وہ لاشیں جنہیں ظالم نے بے نام قبروں میں دفن کیا، وہ دراصل اس مٹی کے سینے میں بوئے گئے وہ بیج ہیں جو ایک دن بیداری کا ایک عظیم طوفان بن کر ابھریں گے۔ اپنے شعور کو بیدار کریں، اپنے حق کے لیے ایک آواز بنیں، کیونکہ جب قومیں موت کے خوف سے آزاد ہو جاتی ہیں، تو ظالم کے ایوان کانپنے لگتے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔