پچیس حملوں میں قابض فوج کے 18 اہلکار ہلاک، اعلیٰ افسر گرفتار، شاہراہوں پر کنٹرول برقرار – بی ایل اے

1

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرمچاروں نے 15 مئی سے 22 مئی کے دوران پچیس کارروائیاں سر انجام دیں، جن میں قابض فوج، پولیس اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ سرمچاروں نے مرکزی شاہراہوں پر کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے قابض فوج اور استحصالی کمپنیوں سے منسلک افراد کو حراست میں لیا، جبکہ استحصالی کمپنیوں کی سائٹس پر حملوں کے دوران بھاری مشینری کو نذرِ آتش کردیا گیا۔ ان حملوں میں قابض فوج کے اٹھارہ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ جھڑپوں کے دوران بی ایل اے کے دو سرمچار بھی شہید ہو گئے۔

جیئند بلوچ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 15 مئی: پنجگور کے علاقے گوارگو میں سرمچاروں نے “ڈیتھ اسکواڈ” کے کارندوں کو گھات لگا کر ایک حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین کارندے ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔ مزید برآں، سرمچاروں نے نوشکی کے علاقے کلی جمالدینی میں “ڈیتھ اسکواڈ” کے کارندے سائرس جمالدینی کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا، تاہم بزدل کارندے اپنا ٹھکانہ چھوڑ کر فرار ہو گئے، سرمچاروں نے مذکورہ ٹھکانے کو مکمل طور پر نذرِ آتش کرکے تباہ کردیا۔

“17 مئی: مستونگ کے علاقے دشت میں سرمچاروں نے قابض فوج کے لیئے رسد پہنچانے والی ایک گاڑی کو نذرِ آتش کر دیا۔ بسیمہ کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے لیئے راشن لے جانے والی ایک اور گاڑی کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

زامران کے علاقے جابشان میں سرمچاروں نے قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو ایک آئی ای ڈی حملے کا نشانہ بنایا، جس میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

تربت کے علاقے للین میں سرمچاروں نے پاکستانی فوج کی ماتحت کمپنی ایف ڈبلیو اوکے کیمپ پر حملہ کر کے سیکیورٹی اہلکاروں کا اسلحہ ضبط کرلیا، جبکہ وہاں موجود بھاری مشینری اور دیگر گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔ اسی دوران سرمچاروں کے ایک اور دستے نے پیش قدمی کی کوشش کرنے والے قابض فوج کے قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں قابض فوج کے تین اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

18 مئی: کوئٹہ میں ڈگری کالج کے قریب سرمچاروں نے قابض فوج کی ایک پوسٹ پر گرینیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ کر اسے شدید نقصان پہنچایا۔

سوراب میں سرمچاروں نے مرکزی شاہراہ کا کنٹرول سنبھال کر اسنیپ چیکنگ کی، جہاں معدنیات لے جانے والی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ پیش قدمی کرنے والے قابض فوج کے ایک قافلے پر بھی حملہ کیا گیا۔ دریں اثنا، رودینجو کے مقام پر قابض فوج اور “ڈیتھ اسکواڈ” کے کارندوں کو سرمچاروں نے حملے میں نشانہ بنایا، ان شدید جھڑپوں کے دوران بی ایل اے کے دو سرمچار سلمان عرف فرزند اور ان کے ایک اور ساتھی شہید ہوگئے۔

خاران کے ریڈ زون میں سرمچاروں نے “سی ٹی ڈی” کے دفتر پر حملہ کیا، جہاں انہوں نے بیک وقت حفاظتی چوکیوں اور دفتر کو گرینیڈ لانچر سے نشانہ بناتے ہوئے متعدد گولے داغے۔

19 مئی: تربت میں سرمچاروں نے “سی ٹی ڈی” کے اہلکار شبیر آسکانی کو مسلح حملے میں ہلاک کر کے اس کا اسلحہ ضبط کر لیا۔ مذکورہ کارندہ جعلی مقابلوں میں معصوم نوجوانوں کے قتل سمیت ٹارگٹ کلنگ کی متعدد وارداتوں میں براہِ راست ملوث تھا، جبکہ وہ کم عمر نوجوانوں کو بلیک میل کرنے اور دیگر سماجی برائیوں میں بھی ملوث پایا گیا تھا۔

نوشکی میں مَل کے مقام پر سرمچاروں نے کوئٹہ-تفتان مرکزی شاہراہ کا کنٹرول سنبھال کر اسنیپ چیکنگ کی، جس کے دوران ریکوڈک پروجیکٹ سے منسلک 17 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ بعدازاں، مذکورہ افراد کو اتحادی تنظیم ایس آر اے کے کمانڈر انچیف سید اصغر شاہ کی گزارش پر رہا کر دیا گیا۔

20 مئی: مستونگ کے علاقے کردگاپ کے مقام پر سرمچاروں نے کوئٹہ-تفتان مرکزی شاہراہ کا کنٹرول سنبھال کر 10 گاڑیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا، جن میں سے سرکاری اداروں کے لیئے سامان ترسیل کرنے والی 5 گاڑیوں کو نذرِ آتش کردیا گیا۔

کیچ میں بلنگور کے قریب جتانی بازار کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کی دو گاڑیوں کو گھات لگا کر نشانہ بنایا، اس حملے میں قابض فوج کے کم از کم دو اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔

خاران میں کوئٹہ-خاران مرکزی شاہراہ پر بی بی آزاد گز کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں کو ایک ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے کا نشانہ بنایا، جس میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک ہو گیا۔

اسی روز، مستونگ کے علاقے دشت میں پھنگو کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

مزید برآں، پاکستان کی وزارتِ دفاع کے زیرِ اثر کام کرنے والی ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور کمانڈنگ افسر وسیم احمد کو سرمچاروں نے قلات کی مرکزی شاہراہ پر ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران شناخت کے بعد حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائی بی ایل اے کے انٹیلی جنس ونگ ‘زراب’ کی فراہم کردہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر سرانجام دی گئی۔

اے ایس ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر وسیم احمد کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ کوئٹہ سے کراچی کی طرف سفر کر رہا تھا۔ ہماری انٹیلی جنس ونگ زراب مذکورہ افسر پر کئی مہینوں سے نظر رکھے ہوئے تھی اور ژوب، کوئٹہ اور کراچی میں ان کی نقل و حرکت کو مستقل مشاہدے میں رکھا گیا تھا۔ مذکورہ افسر اس سے قبل بلوچستان کے علاقے پنجگور میں بھی تعینات رہ چکا ہے، اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

21 مئی: خضدار کے علاقے ونگو میں سی پیک روٹ (M-8) کا کنٹرول حاصل کر کے چیک پوائنٹس قائم کیے گئے، جہاں دو گھنٹوں سے زائد وقت تک اسنیپ چیکنگ جاری رہی۔ اس دوران پیش قدمی کرنے والی قابض فوج کو سرمچاروں نے حملے کا نشانہ بنایا، جس میں دشمن کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہو گئے، جبکہ سرمچاروں نے دشمن کا ایک کواڈ کاپٹر (ڈرون) بھی مار گرایا۔

جھل مگسی، کوٹڑہ اور گندواہ میں بلوچ لبریشن آرمی اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے سرمچاروں نے مشترکہ، منظم اور مربوط حملوں میں قابض فوج اور پولیس کو نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے کوٹڑہ تھانے پر اس وقت حملہ کیا جب وہاں پولیس کے ہمراہ قابض فوج کے اہلکار بھی موجود تھے، جبکہ گنداوہ میں سرمچاروں نے پولیس چوکی پر کنٹرول حاصل کر کے اسے نذرِ آتش کر دیا اور وہاں موجود اسلحہ تحویل میں لینے سمیت ایک اہلکار کو حراست میں لے لیا؛ تاہم مذکورہ اہلکار کو بعد میں تنظیمی پالیسی کے تحت رہا کر دیا گیا۔

زامران کے علاقے تگران میں وقائی کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنا کر شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا۔

پنجگور میں چیدگی روٹ پر سرمچاروں نے کنٹرول حاصل کر کے قابض سرکار کی ترسیل میں ملوث چار بڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔

دالبندین، چہتر کے مقام پر سرمچاروں نے کوئٹہ – تفتان مرکزی شاہراہ کا کنٹرول حاصل کرکے سیندک پروجیکٹ کیلئے ایندھن لیجانے والی گاڑیوں سمیت ترسیل میں ملوث دیگر گاڑیوں کو نذر تش کردیا۔

22 مئی: مستونگ کے علاقے دشت میں کلی شاہوانی کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں کو آئی ای ڈی حملے کا نشانہ بنایا، جس میں دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔

خضدار کے علاقے اورناچ میں سرمچاروں نے مرکزی شاہراہ کا کنٹرول سنبھال کر تین گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ جاری رکھی، اس دوران بھیس بدل کر سفر کرنے والے پاکستانی فوج کے ایک اہلکار کو ایک اور مشکوک شخص کے ہمراہ حراست میں لے لیا گیا۔

خضدار کے علاقے وڈھ میں سونارو کے مقام پر سرمچاروں نے پاکستانی فوج کی تعمیراتی کمپنی ایف ڈبلیو او کے کیمپ پر حملہ کر کے وہاں موجود دس سے زائد گاڑیوں کو تباہ کر دیا، جبکہ اسی دوران قابض فوج کے ایک قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا جس میں تین دشمن اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے۔”

بی ایل اے ترجمان نے کہا کہ یہ مربوط کارروائیاں بی ایل اے کی بڑھتی ہوئی عسکری اور سیاسی پختگی کی واضح عکاس ہیں۔ ایک طرف ریکوڈک پروجیکٹ کے سترہ ملازمین کو حلیف تنظیم ایس آر اے کی سفارش پر اور گنداوہ سے زیرِ حراست اہلکار کو تنظیمی پالیسی کے تحت رہا کرنا ہماری اعلیٰ اخلاقی اقدار اور پائیدار ڈسپلن کا ثبوت ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ہماری جدوجہد اندھے تشدد کے بجائے واضح ضوابط کے تابع ہے۔ دوسری طرف ہماری انٹیلی جنس ونگ ‘زراب’ کے مربوط آپریشن کے ذریعے اے ایس ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر وسیم احمد کی گرفتاری دشمن کے پورے دفاعی نیٹ ورک کے لیئے ایک بڑا تزویراتی دھچکا ہے، جس سے تنظیمی قوانین کے مطابق تفتیش کا عمل جاری ہے۔ اخلاقی اصولوں کی پاسداری اور قومی مجرموں پر اس سخت گرفت کی یہ متوازی حکمتِ عملی ثابت کرتی ہے کہ بی ایل اے اب بلوچستان کی سرزمین پر قانون نافذ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھنے والی ایک باقاعدہ اور منظم قومی فوج بن چکی ہے۔