وقت کی پکار
تحریر: شاہین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
غلامی! یہ لفظ ہی روح کو گھائل کر دینے کے لیے کافی ہے۔ یہ صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ ایک زندہ انسان کی موت کا پروانہ، اس کی صلاحیتوں کا قبرستان اور اس کے ضمیر کا سودا ہے۔ ذرا سوچو، کیا تم نے اس لیے آنکھ کھولی تھی کہ تمہاری سانسوں پر بھی غیروں کا پہرا ہو؟ کیا تمہارا وجود اس لیے تخلیق کیا گیا تھا کہ تم اپنے ہی وطن میں اجنبی بن کر زندگی کی بھیک مانگو؟ نہیں! ہرگز نہیں! آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے اور اسے چھیننے والا کوئی بھی ظالم، کائنات کے سب سے بڑے جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔
آج ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ ایک غلام قوم صرف جسمانی طور پر ہی زنجیروں میں نہیں جکڑی جاتی، بلکہ اس کا سب سے بڑا المیہ اس کی فکری غلامی ہے۔ جب محکوم قوم کا شعور سلب کر لیا جاتا ہے، جب وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے سے ڈرنے لگتے ہیں، اور جب وہ اپنے آقا کی ہر بات کو حرفِ آخر مان لیتے ہیں، تو اصل تباہی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ غلام قوموں کے حکمران اور مفکر ان کی غلامی کو دوام بخشنے کے لیے تاویلوں کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کا مقدر یہی تاریکی رات ہے، لیکن اے غیور قوم! یہ جھوٹ ہے، ایک مکروہ فریب ہے۔
اے نوجوانو! اے ماؤں کے بہادر سپوتو! اٹھو اور اپنی تاریخ کے اوراق پلٹو۔ ماضی گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا ازم کیا، تو بڑے سے بڑے سلطنتوں کے غرور کو خاک میں ملایا ہے۔ آزادی کبھی پلیٹ میں سجا کر نہیں دی جاتی۔ اس کے لیے لہو کی قربانی دینی پڑتی ہے، صبر کی کٹھن راہوں سے گزرنا پڑتا ہے، اور ہر خوف کے بت کو پاش پاش کر کے چھیننا پڑتا ہے۔ غلامی کی زنجیریں خود بخود نہیں ٹوٹتی، انہیں اپنے عزم کے ہتھوڑے سے توڑنا پڑتا ہے۔ تمہاری خاموشی صبر نہیں، یہ تمہاری کھلی ہوئی خودکشی اور موت کا اقرار ہے۔
کیا تم بھول گئے کہ تم اسی قوم کے وارث ہو جس نے دنیا کو حق، سچ اور حریت کا درس دیا؟ تمہارے اسلاف نے بڑے سے بڑے ظالموں کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا، اور تم آج غلام کے غلام (پاکستان) کے ظلم کے آگے سر جھکائے بیٹھے ہو؟ ایک غلام قوم کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ نہ اس کا کوئی مستقبل ہوتا ہے، اور نہ ہی تاریخ میں اس کا کوئی نام لیوا بچتا ہے۔ تمہاری دولت، تمہارا علم، تمہاری عقل سب بے کار ہے اگر تم آزاد نہیں۔ غلامی کے دور میں تو خوشیاں بھی ماتم کا روپ دھار لیتی ہیں اور جشنِ آزادی بھی ایک تماشا بن کر رہ جاتا ہے۔
آج وقت کی پکار ہے کہ تم ان فرسودہ غلامی کی زنجیروں کو توڑ پھینک دو۔ خوف کے اس خول سے باہر نکلو جس میں صدیوں سے قید ہو۔ جب تم نکل کھڑے ہو گے، تو راستہ خود بخود بنتا چلا جائے گا۔ تمہارا ایک قدم، تمہاری قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ اپنے اندر وہ ‘ذوقِ یقین’ پیدا کرو جو کوہِ گراں کو بھی موم کر دے۔ یاد رکھو، جو قومیں اپنی آزادی کے لیے جان کی بازی لگانا نہیں جانتے، وہ صفحہ ہستی سے مٹا دی جاتی ہیں۔ تم نے جینا ہیں۔ تو ایک آزاد اور خوددار انسانوں کی طرح جیو۔ اپنے لہو کے آخری قطرے تک اس دھرتی کو غیروں کے پنجے سے آزاد کروانے کے لیے لڑو۔ آزادی کی راہ کٹھن سہی، مگر یقین کرے اس کی منزل ( انقلاب)سے زیادہ خوبصورت دنیا میں اور کوئی چیز نہیں۔
اٹھو! یہ وقت سوئے رہنے کا نہیں، یہ وقت تاریخ رقم کرنے کا ہے۔ اپنے حوصلوں کو چٹان بنا لو اور دشمن کے ہر ظلم کا ڈٹ کر مقابلہ کرو۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے: یا تو ذلت کی غلامی قبول کر لو، یا پھر اپنی آنے والی نسلوں کے لیے آزادی کا ایک ایسا سورج طلوع کرو جس کی روشنی کبھی ماند نہ پڑے۔ تم آزاد پیدا ہوئے تھے، اور اب تمہیں آزاد ہی رہنا ہے۔ قدم بڑھاؤ، منزل تمہارا انتظار کر رہی ہے!
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔












































