آٹھ مختلف کارروائیوں میں دشمن کے 15 فوجی اور ایک ریاستی آلہ کار ہلاک، پولیس تھانہ و موبائل ٹاور نذرِ آتش۔میجر گہرام بلوچ

56

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہاکہ سرمچاروں نے 19 مئی 2026 کو مند کے علاقے گوبرد میں کَرگیت ڈکّ کے مقام پر فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ سرمچاروں کا راستہ روکنے کے لیے پوزیشنز سنبھالے مورچہ زن تھے۔ مستعد سرمچاروں نے ان اہلکاروں پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس مؤثر کارروائی کے نتیجے میں ایف سی کے 2 اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔ اس حملے کے باعث دشمن کے بقایا 2 اہلکار حواس باختہ ہو کر اپنے زخمی ساتھیوں کو جائے وقوعہ پر ہی چھوڑ کر وہاں سے فرار ہو گئے۔
 
ترجمان نے کہاکہ سرمچاروں نے 19 مئی 2026 کو بلیدہ کے علاقے میناز میں پیش قدمی کرنے والے قابض پاکستانی فوج کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ سرمچاروں نے فوجی قافلے کو مختلف اطراف سے بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دشمن فوج کے 3 اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔ سرمچاروں کی اس کارروائی کے نتیجے میں دشمن فوج کے قافلے میں موجود گاڑیوں کو بھاری نقصان پہنچا۔
 
انہوں نے کہاکہ سرمچاروں نے 19 مئی 2026 کو وڈھ کے علاقے وہیر کے مقام پر ایک کارروائی کے دوران، نال سے قومی وسائل (پتھر) لے جانے والی دو مال بردار گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے گاڑیوں پر فائرنگ کر کے ان کے ٹائر برسٹ کر دیے۔ اس کارروائی کے بعد سرمچاروں نے گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو قومی وسائل کی لوٹ مار کا حصہ نہ بننے کی سخت تنبیہ کر کے چھوڑ دیا۔

انہوں نے کہاکہ بی ایل ایف تمام ٹرانسپورٹرز، ٹھیکیداروں اور ڈرائیوروں کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں خبردار کرتی ہے کہ وہ قابض فورسز اور کمپنیوں کی سہولت کاری کرتے ہوئے بلوچستان کے قومی وسائل کی غیر قانونی نقل و حمل سے دور رہیں، بصورتِ دیگر وہ آئندہ اپنے کسی بھی جانی و مالی نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔
 
ترجمان نے کہاکہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 18 مئی 2026 کو مشکے کے علاقے شریکی میں قابض پاکستانی فوج کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ اس حملے میں سرمچاروں نے فوجی قافلے کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 7 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
اس دوران سرمچاروں کے ایک دوسرے دستے نے فوجی قافلے کی کمک کے لیے آنے والے اضافی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا، جس میں مزید اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ کارروائی کے دوران فوجی اہلکاروں نے سرمچاروں کے پوزیشنوں پر کواڈ کاپٹر کے ذریعے فضائی حملہ کرنے کی کوشش کی، جسے سرمچاروں نے بروقت جوابی کارروائی سے ناکام بنا دیا اور فائرنگ کر کے ایک کواڈ کاپٹر مار گرایا۔
 
انہوں نے کہاکہ سرمچاروں نے 18 مئی 2026 کو کولواہ کے علاقوں ھوٹان اور مرہ شم کے درمیان مقامی آبادیوں پر جارحیت کی غرض سے آپریشن کے لیے پیش قدمی کرنے والے قابض پاکستانی فوج کے قافلے پر مختلف سمتوں سے بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ سرمچاروں کی اس بروقت کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کے انفنٹری یونٹ کے 3 اہلکار سپاہی عدنان، عارف علی اور افتخار احمد موقع پر ہی ہلاک، جبکہ 2 زخمی ہو گئے۔ اس کارروائی کے باعث دشمن فوج آگے بڑھنے میں ناکام رہی اور پسپائی اختیار کرتے ہوئے اپنی پیش قدمی روکنے پر مجبور ہو گئی۔
 
ترجمان نے کہاکہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 18 مئی 2026 کو شام تقریباً پانچ بجے، چاغی کے علاقے پدگ میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کی۔ اس کارروائی کا بنیادی مقصد علاقے میں اپنا عسکری کنٹرول اور اثر و رسوخ برقرار رکھنا اور ریاستی اداروں، اور ان کے لیے جاسوسی کرنے والے مشکوک عناصر کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا تھا۔ ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے شاہراہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی۔ اس ناکہ بندی اور سخت چیکنگ کے دوران یہ اہم شاہراہ کئی گھنٹوں تک سرمچاروں بی ایل ایف کی سرمچاروں کے قبضہ و کنٹرول میں رہی۔

انہوں نے کہاکہ اسی کارروائی کے تسلسل میں، سرمچاروں کے ایک دوسرے دستے نے وڈھ پولیس تھانے پر حملہ کر کے اسے اپنے مکمل کنٹرول میں لے لیا۔ تھانے پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں موجود عسکری و سرکاری تنصیبات، دفتری ریکارڈ سمیت مشینری کو آگ لگا کر نذرِ آتش کر دیا۔ اس کارروائی کو کامیابی سے سرانجام دینے اور اپنے اہداف حاصل کرنے کے بعد سرمچار بحفاظت اپنے ٹھکانوں کی طرف روانہ ہو گئے۔
 
مزید کہاکہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 17 مئی 2026 کو بارکھان کے علاقہ رکھنی میں کندی کے مقام پر نصب جاسوسی کے آلات سے لیس یوفون کمپنی کے ایک موبائل ٹاور کو مشینری سمیت نذرِ آتش کر دیا۔ اس موبائل ٹاور پر قابض فوج اور اس کے خفیہ اداروں کی جانب سے مقامی آبادی کی نقل و حرکت، اور  نجی پیغامات پر نظر رکھنے کے لیے جاسوسی کے آلات اور کیمرے نصب کیے گئے تھے، جنہیں سرمچاروں نے اس کارروائی کے دوران مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
 
بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 13 مئی 2026 کو بلیدہ کے علاقے میناز میں ایک ٹارگٹڈ کارروائی کرتے ہوئے، ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہم کارندے راشد ولد رشید ساکن سلو، بلیدہ کو ہلاک کر دیا اور اس کے زیر استعمال کلاشنکوف اپنے قبضے میں لے لیا۔ حملے میں ہلاک کارندہ ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ سرور قریش کے مسلح گروہ سے منسلک تھا، اور طویل عرصے سے بلوچ قومی تحریک کے خلاف سرگرمِ عمل تھا۔ وہ علاقے میں فوجی آپریشنز کے دوران قابض فورسز کیلئے مخبری، اور ان کی معاونت کرنے میں براہِ راست ملوث تھا۔ ان سرگرمیوں کے عوض فوج کی جانب سے اسے علاقے میں منشیات فروشی، بھتہ خوری اور دیگر سماجی برائیوں کی کھلی چھوٹ دی گئی تھی، مگر تنظیم نے مجرم کو  اس کے جرائم کی سزا دے کر اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیا ہے۔

بیان میں کہاکہ اس کارروائی کے دوران راشد کے ہمراہ موجود اسماعیل ولد سفر ساکن سلو، بلیدہ زخمی ہوا۔ بی ایل ایف عوام الناس سے ایک بار پھر درخواست کرتی ہے کہ وہ اپنے جانی و مالی نقصانات سے بچنے کے لئے راشد جیسے ریاستی آلہ کاروں اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں سے دور رہیں،۔ راشد جیسے قومی مجرم اور ریاستی آلہ کار ہر وقت سرمچاروں کے نشانے پر ہیں اور ان کے خلاف کسی بھی وقت کارروائی کی جاسکتی ہے۔
 
آخر میں کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ مند، بلیدہ، وڈھ، مشکے، کولواہ، چاغی اور بارکھان میں ہونے والی ان تمام کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔