ایک استاد کی یاد، ایک صحافی کا صدمہ، اور وقت کی بے رحمی – فہیم بلوچ

19

ایک استاد کی یاد، ایک صحافی کا صدمہ، اور وقت کی بے رحمی

تحریر: فہیم بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

یہ کہانی ایک پرانی یاد سے شروع ہوتی ہے، جب میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا۔

ہمارے اسکول میں ایک استاد تھے۔ سخت مزاج، اصول پسند، مگر علم کے لیے بے حد پرجوش۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ تدریس کے لیے وقف تھا۔ نہ کبھی غیر حاضر ہوتے، نہ دیر کرتے، اور نہ ہی ایک منٹ ضائع ہونے دیتے۔ ایسا لگتا تھا جیسے ان کی پوری شناخت صرف تعلیم دینے سے جڑی ہو۔

ہم اُس وقت بچے تھے۔ ان کی سختی ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی۔ وہ ہمیں اکثر سخت لگتے، کیونکہ وہ ہم سے وہ محنت چاہتے تھے جو ہماری عمر کے مطابق مشکل تھی۔ مگر وہ کبھی نہیں بدلے۔ پھر ایک دن اسکول میں اعلان ہوا کہ ہمارے استاد کے بیٹے کا رات کو انتقال ہو گیا ہے۔ پورا ماحول سوگوار ہو گیا۔ ہم بچوں کے ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ اب شاید استاد کچھ دن کے لیے نہیں آئیں گے۔

لیکن اگلے دن وہ استاد کلاس میں موجود تھے۔
خاموش چہرے کے ساتھ مگر مضبوط لہجے میں انہوں نے کہا:
“میں بچوں کا وقت ضائع نہیں کر سکتا۔”
یہ جملہ اُس وقت شاید مکمل طور پر سمجھ نہیں آیا، مگر وقت کے ساتھ یہ ایک اصول بن گیا؛ ذمہ داری، قربانی اور اپنے فرض سے وفاداری کا اصول۔

آج میں اپنی عملی زندگی میں ہوں، مگر وہ استاد آج بھی میرے ذہن میں زندہ ہیں۔
اور پھر گزشتہ صبح ایک اور خبر نے دل کو جھنجھوڑ دیا۔

یہ خبر پروفیسر غمخوار حیات کی تھی، ایک معروف شاعر، ادیب اور استاد، جنہیں گزشتہ روز ضلع نوشکی میں مسلح افراد نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا، جو براہوی زبان میں اپنی ادبی خدمات کے لیے جانے جاتے تھے۔ ان کی علمی اور ادبی خدمات نے انہیں اپنے حلقوں میں ایک باوقار مقام دیا تھا۔ ان کی خبر نے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پورے ادبی اور علمی حلقے کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا۔ اسی خبر کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی سامنے آئی جس نے اس دکھ کو ذاتی سطح پر اور بھی گہرا کر دیا۔

جب یہ بات سامنے آئی کہ اس سانحے سے بلوچ صحافی باہوٹ بلوچ ذاتی طور پر متاثر ہوئے ہیں، باہوٹ بلوچ جو بلوچستان میں جاری حالات اور واقعات کی رپورٹنگ کرتے ہیں، وہ اس ذاتی صدمے کے باوجود اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹے۔ میں نے جب ان کی رپورٹس اور بیانات دوبارہ دیکھے تو وہی تسلسل، وہی ذمہ داری اور وہی پیشہ ورانہ سنجیدگی نظر آئی جو پہلے ان کی پہچان تھی۔ گویا ذاتی صدمہ اپنی جگہ، مگر خبر کی سچائی اور عوام تک اس کی ترسیل کا فرض اپنی جگہ قائم رہا۔

یہ منظر ذہن میں ایک پرانا عکس تازہ کر دیتا ہے، وہ استاد جو اپنے ذاتی غم کے باوجود کلاس میں آ گیا تھا، اور وہ صحافی جو اپنے ذاتی دکھ کے باوجود اپنے فرائض سے پیچھے نہیں ہٹا۔ دونوں کے درمیان فاصلہ وقت اور حالات کا ہے، مگر ان کے عمل میں ایک ہی قدر مشترک ہے: ذمہ داری کو ذاتی تکلیف پر مقدم رکھنا۔

یہی وہ لمحہ تھا جب محسوس ہوا کہ کچھ لوگ صرف اپنے پیشے نہیں نبھاتے، بلکہ وہ اپنے عمل سے ایک خاموش مثال قائم کرتے ہیں، ایسی مثال جو وقت کے ساتھ اور زیادہ واضح ہوتی جاتی ہے، اور شاید اسی خاموشی میں ہی اصل وقار چھپا ہوتا ہے۔

یہ تحریر کسی ایک واقعے کا اظہار نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کی یاد ہے جو اپنے ذاتی غم کے باوجود اپنی ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑتے، اور شاید یہی لوگ خاموشی میں تاریخ لکھتے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔