خوبصورت لڑکی اور اناڑی سرفراز بگٹی
تحریر: سفر خان بلوچ (آسگال)
دی بلوچستان پوسٹ
دنیا کی تاریخ میں جابر ریاستوں کا ایک عجیب المیہ رہا ہے وہ اکثر حقیقت سے نہیں بلکہ اپنی بنائی ہوئی حقیقت سے محبت کرنے لگتی ہیں۔ جہاں سچائی ایک ناپسندیدہ مہمان بن جاتی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ حقیقت کو نہیں دیکھتی بلکہ وہ صرف وہی دیکھتی ہے جو وہ دیکھنا چاہتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں زمینی حقائق اور ریاستی دعوے دو الگ دنیاؤں میں رہنے لگتے ہیں۔ اور انکی سب سے بڑی خواہش صرف علاقوں پر قبضہ نہیں ہوتی بلکہ ذہنوں پر قبضہ بھی ہوتا ہے۔ اس کے لیے بیانیے تخلیق کیے جاتے ہیں، اعداد و شمار گھڑے جاتے ہیں، ٹیلی ویژن اسکرینوں پر مصنوعی اطمینان بکھیرا جاتا ہے اور باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جو کچھ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، دراصل ویسا ہے ہی نہیں۔ گویا حقیقت خود غلط ہے اور ان کا بیانیہ ہی اصل سچائی ہے۔
نفسیات میں اسے “انکار کی اجتماعی کیفیت” کہا جاتا ہے۔ جب کوئی طاقت اپنے اندر موجود خوف، ناکامی یا بے بسی کو تسلیم نہیں کرپاتی تو وہ حقیقت کو بدلنے کے بجائے اس کی تشریح بدلنا شروع کردیتی ہے۔ وہ اس کے وجود سے ہی انکار کرنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ریاستیں بحران کے وقت زمینی حقائق سے زیادہ اپنی ساکھ بچانے میں مصروف ہوجاتی ہیں۔ بلوچستان میں بھی برسوں سے یہی ہورہا ہے۔ ایک طرف زمینی حقیقت ہے جبکہ دوسری طرف پریس کانفرنسوں میں بیٹھے وہ چہرے ہیں جو ہر بار یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سب کچھ مکمل کنٹرول میں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنا زیادہ وہ “کنٹرول” کا لفظ دہراتے ہیں، اتنا ہی زیادہ عدمِ کنٹرول نمایاں ہوجاتا ہے۔
آج بلوچستان میں اس وقت صرف بندوقوں کی جنگ نہیں بلکہ حقیقت اور بیانیے کی جنگ بھی جاری ہے۔ ایک طرف زمینی حقائق ہیں، جبکہ دوسری طرف ریاستی بیانیہ ہے جو ہر بار یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ سب کچھ قابو میں ہے، مزاحمت محدود ہے، لوگ مطمئن ہیں اور حالات معمول کے مطابق ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر واقعی سب کچھ قابو میں ہے تو پھر خوف کیوں ہے؟ اتنی سخت نگرانی کیوں ہے؟ اتنے بیانات، وضاحتیں اور دعوے کیوں ہیں؟ فرانز کافکا نے ایک جگہ سچائی کے بارے میں ایک نہایت گہری بات کہی تھی کہ “سچائی ایک خوبصورت لڑکی کی مانند ہے، مگر کچھ اناڑی لوگ اسے زبردستی اپنے قابو میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ وہ انہیں خاطر میں نہیں لاتی۔” بلوچستان کے مسئلے کو اگر اس زاویے سے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ سچائی آج بھی آزاد کھڑی ہے، مگر مختلف طاقتیں اسے اپنی مرضی کے لباس میں پیش کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ریاستی ادارے اور ان سے وابستہ سیاسی چہرے ایک ایسا تاثر قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں بلوچستان کی مزاحمت محض چند افراد کی سرگرمی دکھائی دے، جبکہ زمینی واقعات بار بار اس بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں۔
تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ سچائی کو وقتی طور پر دبایا جاسکتا ہے مگر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ فرانسیسی استعمار نے الجزائر کے بارے میں یہی دعویٰ کیا تھا کہ آزادی کی تحریک دم توڑ چکی ہے، مگر چند ہی برس بعد وہی الجزائر ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ بلوچستان میں بھی مسلسل یہی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ زمینی حقائق کو کمزور اور مزاحمت کو غیر مقبول دکھایا جائے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ صرف چند سو لوگ ہیں، کبھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ چند فیصد عناصر ہیں، کبھی انہیں بیرونی ایجنڈا قرار دیا جاتا ہے، اور کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا عوام سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی یہ سب اتنا ہی محدود ہے تو پھر پورا ریاستی ڈھانچہ مسلسل انہی کے ذکر میں کیوں مصروف رہتا ہے؟
یہ تضاد سب سے زیادہ اس وقت مضحکہ خیز شکل اختیار کرگیا جب سرفراز بگٹی نے گذشتہ دنوں یہ شاہکار بیان دیا کہ بلوچستان میں جاری مزاحمت کو “صرف پانچ منٹ” میں ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہ بیان شاید سیاسی تاریخ کے اُن جملوں میں شامل ہوچکا ہے جو حقیقت سے زیادہ مذاق کا موضوع بن جاتے ہیں۔ کیونکہ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی سب کچھ صرف پانچ منٹ کا کھیل ہے تو پھر ریاست گزشتہ کئی برسوں سے کس گھڑی کے انتظار میں بیٹھی ہے؟ یہ پانچ منٹ آخر کہاں رہتے ہیں؟ کیا وہ عام گھڑی کے منٹ نہیں؟ کیا وہ کسی ایسی سرکاری گھڑی کے منٹ ہیں جو صرف پریس کانفرنسوں میں نمودار ہوتے ہیں مگر زمینی حقیقت میں کبھی نہیں آتے؟
اگر واقعی مزاحمت کو پانچ منٹ میں ختم کیا جاسکتا تھا تو پھر وہ کون سا لمحہ تھا جب بلوچ لبریشن آرمی کے آپریشن ہیروف کے دوران بلوچستان میں کئی دنوں تک شاہراہیں بند رہیں، حملے ہوتے رہے، ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جاتا رہا اور حساس علاقوں کو نشانہ بنایاگیا ریڈ زون میں حملےہوئے گوادر جیسے حساس علاقے میں حملے ہوئے؟ اس دوران وہ پانچ منٹ آخر کہاں سوئے ہوئے تھے؟
یہاں اصل مسئلہ صرف ایک بیان کی مضحکہ خیزی نہیں بلکہ اس ذہنیت کی عکاسی ہے جو حقیقت کو ماننے کے بجائے طاقت کے مبالغے میں پناہ لیتی ہے۔ کمزور بیانیے اکثر بلند دعوے کرتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت ان کے ساتھ نہیں۔ طاقتور نظام اپنی قوت ثابت نہیں کرتے، وہ اسے محسوس کرواتے ہیں۔ مسلسل چیخ چیخ کر طاقت کا اعلان دراصل اندرونی خوف کی علامت ہوتا ہے۔
یہاں سوال کسی ایک واقعے کا نہیں بلکہ ریاستی دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان موجود فاصلے کا ہے۔ کیونکہ حقیقت ہمیشہ اپنے آثار چھوڑتی ہے۔ اگر کوئی تحریک واقعی کمزور ہو تو ریاست کو اتنی وضاحتیں دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ طاقتور نظام عموماً خاموش اعتماد رکھتے ہیں، جبکہ مسلسل دعوے اکثر اندرونی خوف کی علامت ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ یہاں حقیقت کو چھپانے کی کوشش اتنی شدت سے کی جاتی ہے کہ بعض اوقات خود ریاستی بیانیہ ہی اپنے خلاف گواہی دینے لگتا ہے۔ اعداد و شمار، پریس ریلیز، ٹی وی مباحث اور سرکاری دعوے مسلسل ایک ایسی تصویر بنانے کی کوشش کرتے ہیں جس میں بلوچستان مکمل طور پر، پرسکون اور قابو میں نظر آئے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ جتنا زیادہ یہ تصویر رنگین بنائی جاتی ہے، اتنی ہی زیادہ اس کی دراڑیں واضح ہوجاتی ہیں۔ اگر واقعی حالات مکمل طور پر معمول کے مطابق ہیں تو پھر خوف کیوں ہے؟ اظہارِ رائے پر اتنی حساسیت کیوں ہے؟ ایک طالبِ علم کے سوال سے لے کر ایک صحافی کی رپورٹ تک ہر چیز کو خطرہ کیوں سمجھا جاتا ہے؟ نفسیاتی طور پر یہ وہ کیفیت ہوتی ہے جب طاقت حقیقت سے خوفزدہ ہونے لگتی ہے۔ کیونکہ حقیقت کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ وہ پروپیگنڈے کی دیوار میں ایک چھوٹا سا سوراخ کردیتی ہے، اور پھر وہی سوراخ آہستہ آہستہ پوری دیوار کو ناکارہ بنا دیتا ہے۔
یہ صرف بلوچستان کا مسئلہ نہیں بلکہ طاقت اور سچائی کے تعلق کا مسئلہ ہے۔ میشل فوکو نے کہا تھا “ہر طاقت اپنا سچ پیدا کرتی ہے۔”ریاستیں اکثر اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک مخصوص سچ تشکیل دیتی ہیں۔ یہ سچ اخبارات، ٹیلی ویژن، پریس کانفرنسوں اور سیاسی بیانات کے ذریعے بار بار دہرایا جاتا ہے تاکہ وہ حقیقت معلوم ہونے لگے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ مصنوعی سچ اور حقیقی سچ میں فرق ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ مصنوعی سچ شور پیدا کرتا ہے، جبکہ حقیقی سچ خاموشی کے باوجود باقی رہتا ہے۔ بلوچستان میں بھی یہی ہورہا ہے۔ ایک طرف ریاستی دعوے ہیں کہ مزاحمت دم توڑ رہی ہے، دوسری طرف ہر گزرتے وقت کے ساتھ وہ مزید شدت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ عوام مطمئن ہیں، دوسری طرف نوجوانوں کی ایک نئی نسل مسلسل مزاحمت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہاں کافکا کی سچائی والی مثال اسی لیے اتنی اہم ہے کیونکہ وہ ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ سچائی کو طاقت کے ذریعے قابو نہیں کیا جاسکتا۔ سچائی کسی قیدی کی طرح نہیں کہ اسے دیواروں میں بند کردیا جائے۔ وہ بار بار نئی صورت میں سامنے آتی ہے۔ کبھی سوال بن کر، کبھی مزاحمت بن کر، کبھی خاموشی بن کر، اور کبھی تاریخ بن کر۔ بلوچستان میں ریاست ایک ایسی تصویر پیش کرنا چاہتی ہے جس میں سب کچھ مستحکم نظر آئے، جبکہ زمینی حقیقت اس تصویر میں دراڑیں ڈال دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نیا واقعہ، ہر نئی مزاحمت ریاستی بیانیے کو دوبارہ سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا کردیتی ہے۔
دنیا کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ طاقتور بیانیے ہمیشہ قائم نہیں رہتے۔ ہر طاقتور نظام نے اپنے سچ کو حتمی سمجھا، مگر وقت نے ان کے دعوؤں کو بدل دیا۔ تاریخ ہمیشہ طاقت سے زیادہ حقیقت کو یاد رکھتی ہے۔
بلوچستان میں آج جو کچھ ہورہا ہے، وہ بھی اسی تاریخی عمل کا حصہ ہے۔ یہاں ایک طرف طاقت ہے، ریاستی بیانیہ ہے، میڈیا کا شور ہے، سیاسی دعوے ہیں، جبکہ دوسری طرف زمینی حقیقت ہے جو بار بار ان دعوؤں کو چیلنج کرتی ہے۔ سرفراز بگٹی کا “پانچ منٹ” والا بیان دراصل اب محض ایک سیاسی جملہ نہیں رہا بلکہ پورے ریاستی بیانیے کا استعارہ بن چکا ہے۔ ایک ایسا استعارہ جو طاقت کے دعوے اور زمینی حقیقت کے درمیان موجود خلیج کو نمایاں کرتا ہے۔ اگر واقعی سب کچھ پانچ منٹ میں ختم ہوسکتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ پانچ منٹ آخر کب شروع ہوں گے؟ کیا یہ وہی افسانوی پانچ منٹ ہیں جو ہر بحران کے وقت تقریروں میں پیدا ہوتے ہیں اور زمینی حقیقت کے سامنے آتے ہی غائب ہوجاتے ہیں؟ یا پھر یہ گھڑی کے وہ منٹ ہیں جو شاید فزکس کے کسی نئے قانون کے تحت صرف سرکاری بیانات میں چلتے ہیں؟ مذاق کی انتہا یہ ہے کہ ایک طرف حالات کو معمولی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف پورا ریاستی ڈھانچہ مسلسل انہی “چند لوگوں” کے خلاف متحرک رہتا ہے۔ اگر واقعی مسئلہ اتنا چھوٹا ہے تو پھر خوف اتنا بڑا کیوں ہے؟ اگر سب کچھ قابو میں ہے تو پھر ہر چند دن بعد “کنٹرول” کا اعلان دوبارہ کیوں کرنا پڑتا ہے؟
اصل میں جب کوئی حقیقت سے دور ہوجاتی ہیں تو وہ طاقت کے مبالغے میں سکون تلاش کرنے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے بیانات وقتی تالیاں تو حاصل کرلیتے ہیں مگر تاریخ میں اکثر مذاق بن کر رہ جاتے ہیں۔
بلوچستان میں سچائی اور ریاستی جھوٹے بیانیے کے درمیان ایک جنگ جاری ہے۔ ریاست من گھڑت بیانیہ تراش کر، حقائق کو مسخ کرنے، مزاحمتی تحریک کو دہشت گردی کا لیبل دے کر اور زمینی حقیقت کو چھپانے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔طاقت سچائی کو ہمیشہ کے لیے نہیں دبا سکتی۔ کافکا کی مثال کی طرح، ریاست جتنا زور لگا کر جھوٹے بیانیے گھڑتی ہے، تاریخ اتنی ہی شدت سے ان بیانیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































