کوئٹہ: نرسنگ طالبہ کی جبری گمشدگی کے خلاف دھرنا جاری

27

پاکستانی فورسز نے بولان میڈیکل کالج سے بلوچ طالبہ کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔

کوئٹہ بولان میڈیکل کالج کے سامنے طالبات و لواحقین کی جانب سے نرسنگ کے طالبہ خدیجہ بلوچ کی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے خلاف دھرنا آج بھی جاری رہا۔

بولان میڈیکل کالج کے سامنے طلباء کا دھرنا آج 12ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔

خدیجہ بلوچ کے لواحقین کے مطابق خدیجہ بلوچ کو پاکستانی سیکورٹی فورسز جن میں ایف سی و سی ٹی ڈی شامل ہے انھیں انکے ہاسٹل سے دیگر طلباء و طالبات کے سامنے گھسیٹ کر اپنے ہمراہ لے گئے، وہ گذشتہ دو ہفتوں سے انکی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی و دھرنے کے حوالے سے کہا ‏خدیجہ بلوچ کے لواحقین بی ایم سی کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے ہیں، مگر اب تک کسی قسم کی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی اور ریاستی بے حسی جوں کی توں قائم ہے۔

‏تنظیم نے مزید کہا ہر گزرتا دن انتظار کو مزید اذیت ناک بنا رہا ہے، جبکہ لواحقین کے جائز مطالبات بدستور نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست و بلوچستان حکومت بلوچ طلباء کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنانا بند کرے اور خدیجہ بلوچ و دیگر لاپتہ بلوچ طالبات کو فوری طور پر منظرعام لاکر بازیاب کرے۔