متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے، جسے عالمی توانائی منڈی اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے ایک بڑا جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی جنگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے اور عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
یو اے ای کے اس اقدام سے اوپیک، جس کی قیادت غیر رسمی طور پر سعودی عرب کے پاس سمجھی جاتی ہے، کے اندر اتحاد پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اوپیک ممالک پہلے ہی آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں ایران کی دھمکیوں اور حملوں کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے اوپیک پر تنقید کی ہے کہ یہ تنظیم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو بڑھا کر غیر منصفانہ فائدہ حاصل کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ خلیجی ممالک کی سکیورٹی میں کردار ادا کرتا ہے، لیکن اس کے بدلے میں انہیں مہنگا تیل ملتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات نے حالیہ مہینوں میں خطے میں ایرانی حملوں کے خلاف کمزور ردعمل پر بھی عرب اور خلیجی ممالک پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یو اے ای کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے ایک حالیہ فورم میں کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک نے ایک دوسرے کو لاجسٹک سطح پر تو سپورٹ کیا، تاہم سیاسی اور عسکری سطح پر ان کا ردعمل کمزور رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے کو عالمی توانائی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔


















































