زہری کرفیو سے تنگ شہریوں کا فوج کو علاقے سے نکالنے کا مطالبہ

50

سات ماہ سے جاری کرفیو نے علاقے کو مفلوج کردیا ہے، لوگ گھروں سے نکلنے میں خوفزدہ ہیں۔

بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل زہری میں گزشتہ کئی ماہ سے پاکستانی فورسز کی جانب سے کرفیو نافذ کیا گیا ہے، جہاں شہریوں کو بغیر اجازت سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے اور علاقے میں موبائل سروس و دیگر مواصلاتی نظام بھی معطل کردیا گیا ہے۔

گزشتہ سال بلوچ آزادی پسندوں کے علاقے میں داخل ہونے کے بعد پاکستانی فوج نے بڑے پیمانے پر آپریشن کرتے ہوئے زہری کے مرکزی بازار اور دیگر مقامات پر کیمپ قائم کر دیے تھے، اس دوران علاقے میں کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا تھا۔

علاقہ مکینوں کے مطابق زہری کے واحد بازار نورگامہ میں جگہ جگہ پاکستانی فورسز کے اہلکار تعینات ہیں، اور روزانہ صرف دو گھنٹوں کے لیے شہریوں کو بازار جانے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ شہری بغیر اجازت کوئٹہ اور خضدار تک سفر نہیں کر سکتے۔

مقامی افراد نے شکایت کی ہے کہ پاکستانی فورسز نورگامہ کی جامع مسجد کو کیمپ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، جس کے باعث لوگ عید اور جمعہ کی نماز ادا کرنے سے بھی محروم ہیں اور گھروں میں نماز پڑھنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بلوچستان حکومت سے شکایت بھی کی ہے، تاہم زہری سے منتخب ہونے والے سردار ثناء اللہ زہری نے خود یہ حکم جاری کیا ہے کہ فوج کرفیو نافذ رکھے، جس کے باعث علاقے میں شدید خوف اور مایوسی پائی جاتی ہے۔

مزید برآں زہری کے علاقے سوہندہ میں حالیہ عرصے کے دوران پاکستانی فوج کے ڈرون حملوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ڈرون حملوں کے ایک واقعے میں دو افراد کے جاںنبحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جبکہ اس سے قبل تقریباً ایک ماہ پہلے مذکورہ مقام کے قریب ایک اور مبینہ ڈرون حملے میں دو خواتین سمیت چار افراد کی ہلاکت کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔

رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات نے علاقے میں خوف و ہراس میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں فوری طور پر کرفیو کا خاتمہ کیا جائے اور مریضوں کو کراچی اور کوئٹہ سفر کرنے کی اجازت دی جائے۔

یاد رہے کہ زہری کی طرح نوشکی میں بھی گزشتہ فروری سے کرفیو نافذ ہے، جہاں شام ہوتے ہی بازار بند کر دیے جاتے ہیں، جہاں نوشکی کے رہائشیوں کو بھی مغرب کے بعد مریضوں کو اسپتال لے جانے سمیت کوئٹہ جانے والے راستوں سے روک دیا جاتا ہے۔

نوشکی کے رہائشیوں نے شکایت کی ہے کہ چھ فروری سے شروع ہونے والا کرفیو تاحال جاری ہے جہاں فوجی حکام نے حکم جاری کیا ہے کہ جب تک علاقہ مکین پاکستانی فوج کے حق میں ریلی نہیں نکالتے کرفیو جاری رہے گا۔

نوشکی اور زہری کے رہائشیوں نے بلوچستان کی سیاسی و عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے ان اقدامات کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ شہریوں کے جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے۔