منگچر میں گزشتہ دو روز سے کرفیو جیسے حالات نے معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ بازار ویران ہیں، گلیاں سنسان، اور روزمرہ زندگی کی روانی جیسے تھم سی گئی ہو۔ اس غیر یقینی فضا کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جہاں اشیائے خورد و نوش کی قلت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب میڈیکل اسٹورز اور دیگر بنیادی سہولیات کی بندش نے عوام کی پریشانی میں اضافہ کر دیا۔ بیمار افراد کے لیے ادویات کا حصول ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق، نہ صرف ضروری اشیاء نایاب ہو چکی ہیں بلکہ نقل و حرکت کی محدودیت نے زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔
ایسے میں عوامی حلقوں کی جانب سے صوبائی وزیر داخلہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی گئی ہے، تاکہ صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ حکام عملی اقدامات اٹھائیں، رکاوٹیں دور کریں اور علاقے میں زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائیں، تاکہ منگچر کے باسی ایک بار پھر سکھ کا سانس لے سکیں۔












































