ہم جن مظالم کے خلاف مسلسل آواز بلند کرتے رہے ہیں، آج انہی حقائق کا اعتراف خود متعلقہ حلقوں کی جانب سے میڈیا پر کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان حکومت کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی جانب سے دسمبر 2025 میں جبری گمشدگی کا نشانہ بنے والے خضدار کے رہائشی خاتون کو مبینہ خودکش بمبار ظاہر کرکے آج کوئٹہ میں پریس کانفرنس کی گئی۔
پریس کانفرنس میں سرفراز بگٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ بلوچ مسلح تنظیمیں خواتین کو بلیک کرتی ہیں، جبکہ فرزانہ زہری کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماء نے خوکش حملہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اس پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ اور بلوچ سیاسی کارکن ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا ہے کہ فرزانہ زہری یکم دسمبر 2025 سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں، ان کا کیس قومی اور بین الاقوامی سطح پر اٹھایا گیا ہم مسلسل یہ مؤقف رکھتے آئے ہیں کہ جبری گمشدگیاں صرف غیر قانونی اقدام نہیں بلکہ بلیک میلنگ اور دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا موجودہ صورتحال اس امر کو واضح کرتی ہے کہ کس طرح ایک کمزور خاتون کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور بعد ازاں ان کے خلاف میڈیا ٹرائل شروع کیا گیا۔
ہم نے یہ بھی کہا ہے کہ جنگی منافع خوری کے مفادات رکھنے والے عناصر پرامن سیاسی جدوجہد سے خوفزدہ ہیں، آج میرے خلاف منظم بیانیہ سازی اس حقیقت کو مزید آشکار کرتی ہے۔
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا میں ایک پرامن سیاسی کارکن ہوں، اور میرے خلاف جاری یہ مہم نہ صرف میری ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش ہے بلکہ مجھے خاموش کرنے کا ذریعہ بھی بنائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا میرے اہلِ خانہ کو مسلسل ہراسانی کا سامنا ہے میرے دوستوں کو ذہنی دباؤ میں رکھا جا رہا ہے، ہماری تنظیم کے پانچ ساتھی بغیر کسی ثابت شدہ جرم کے گزشتہ ایک سال سے قید میں ہیں۔
انکے مطابق یہ معاملہ صرف میری ذات یا ہماری تنظیم تک محدود نہیں یہ ان سنگین الزامات اور جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے جن کا بلوچ عوام طویل عرصے سے سامنا کر رہے ہیں یہ خاموشی کے پردے میں جاری جبر اور اجتماعی سزا کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔
صبیحہ بلوچ نے کہا اگر ریاست یہ سمجھتی ہے کہ میرے خلاف من گھڑت الزامات اور میڈیا ٹرائل کے ذریعے میری سیاسی آواز کو دبایا جا سکتا ہے، یا مجھے دھمکا کر خاموش کرایا جا سکتا ہے، تو یہ ریاست اور اس کے جنگی مفاد پرست عناصر کی خام خیالی ہے۔
میں ایک سیاسی کارکن ہوں، اور میں بلوچ نسل کشی اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہوں گی۔ میرے خلاف میڈیا ٹرائل اور کردار کشی کی مہم مجھے ہرگز خاموش نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا خواتین کی جبری گمشدگی، ان کے خلاف میڈیا ٹرائل، اور ایک پرامن سیاسی کارکن کے خلاف منظم بیانیہ سازی جیسے اقدامات قابلِ مذمت ہیں ان پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کا مزید کہنا تھا ہم تمام باشعور افراد، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنان اور میڈیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس عمل کے خلاف آواز بلند کریں، اس سے پہلے کہ ہر آواز کو خاموش کر دیا جائے۔



















































