تنظیم کی جانب سے گذشتہ ماہ آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے میں شامل جانبحق اور فدائین سرمچاروں کے تصاویر و تفصیلات جاری کئے جارہے ہیں، تنظیم نے مزید چار سرمچاروں کے تفصیلات شائع کئے ہیں۔
بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ونگ ہکل کی جانب سے شائع کردہ تفصیلات کے مطابق آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلہ میں حصہ لینے والے فدائی نادر بنگلزئی عرف شئے مرید، ولد نواب خان بنگلزئی
سکنہ اسپلنجی نے 2025 میں تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد مجید برگیڈ کا حصہ بنیں۔
تنظیم نے کہا ہے فدائی نادر تنظیم میں شمولیت کے بعد ناگاہو کے محاذ پر منتقل ہوئے ناگاہو کے محاذ پر شئے مرید نے مزاحمت کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے دشمن کے خلاف جدوجہد میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
ان کی شخصیت میں عزم، بے خوفی اور اپنی قوم کے ساتھ گہری وابستگی نمایاں تھی۔ اسی قومی شعور کی بنیاد پر انہوں نے مجید بریگیڈ میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ محض ایک راستے کا انتخاب نہیں بلکہ اپنی دھرتی اور اپنی قوم کے ساتھ ایک عہد تھا۔
بی ایل اے کے مطابق فدائی نادر بلوچ نے آپریشن ہیروف فیز کے دوران مستونگ کے محاذ پر لڑتے ہوئے آزادی کے عظیم مقصد کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور یوں قربانی کی اُس روایت میں اپنا نام شامل کر گئے جو بلوچ مزاحمت کی تاریخ کا بنیادی جوہر ہے۔
ہکل میڈیا پر جاری تفصیلات کے مطابق فدائی مستونگ اسپلنجی کے رہائشی 21 سالہ عبدالسلام کرد عرف نصراللہ، ولد حضور بخش کرد بھی اسی سال تنظیم کا اور بعد ازاں مجید بریگیڈیر کا حصہ بنیں اور ناگاہو کے محاذ پر منتقل ہوئے، ناگاہو کے محاذ پر نصراللہ نے انقلابی یقین کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا اور دشمن کے خلاف جدوجہد میں ثابت قدم رہے۔
تنظیم کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی کو قومی جدوجہد کے ساتھ جوڑ دیا جلد ہی وہ مجید بریگیڈ کا حصہ بن گئے، جو اس بات کی علامت تھا کہ نصراللہ نے آزادی کے مقصد کو اپنی ذاتی زندگی سے بھی زیادہ اہم سمجھ لیا تھا، اسی عزم نے انہیں کم عمری کے باوجود مزاحمت کی صفوں میں ایک مضبوط کردار بنا دیا۔ فدائی عبدالسلام، فدائی مجید بلوچ کے کزن تھے، فدائی مجید بلوچ نے آپریشن ہیروف فیز دو میں کوئٹہ کے محاذ پر ریڈ زون میں فدائی حملہ کیا تھا۔
بی ایل اے کے مطابق فدائی عبدالسلام نے آپریشن ہیروف فیز دو میں مستونگ کے محاذ پر لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور یوں مزاحمت کی تاریخ میں ایک اور روشن باب کا اضافہ کر گئے، نصراللہ کی شہادت اس حقیقت کی گواہی بن گئی کہ آزادی کی جدوجہد نوجوان دلوں کے عزم اور قربانیوں سے زندہ رہتی ہے، اور ایسے کردار قوم کی اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
ہکل میڈیا نے مزید سرمچاروں کے تفصیلات شائع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں شامل امتیاز بلوچ عرف حاجی توکل، ولد جنگیان بلوچ، سکنہ بالیچہ تلوکان 2017 میں مسلح تحریک سے منسلک ہوئے اور سال 2020 میں بی ایل اے کا حصہ بنیں وہ فتح یونٹ کے حصہ تھے۔
تنظیم نے کہا ہے امتیاز بلوچ عرف حاجی توکل اُن تجربہ کار سرمچاروں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے طویل عرصے تک قومی آزادی کی مسلح جدوجہد میں سرگرم کردار ادا کیا، 2017 میں مسلح تحریک سے وابستگی کے بعد انہوں نے جلد ہی اپنی سنجیدگی، تنظیمی فہم اور جنگی مہارت کے باعث ساتھیوں کے درمیان ایک قابلِ اعتماد کردار کے طور پر پہچان حاصل کی۔
سال 2018 میں پہاڑی محاذ پر منتقل ہونے کے بعد انہوں نے زامران، کلبر، دشت اور تربت کے وسیع علاقوں میں مختلف معرکوں میں حصہ لیا اور عملی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔
تنظیم نے انکے حوالے بتایا ہے کہ حاجی توکل نے نہ صرف پہاڑی محاذوں پر سرگرم کردار ادا کیا بلکہ شہری نیٹ ورکس کو منظم کرنے میں بھی اہم ذمہ داری نبھائی، ناصر آباد اور میر آباد کے علاقوں میں شہری نیٹ ورک کے ذمہ دار کی حیثیت سے انہوں نے انتہائی رازداری، نظم و ضبط اور احتیاط کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیے۔
شہری اور پہاڑی دونوں محاذوں کے تجربے نے انہیں ایک ایسے ہمہ جہت سرمچار کے طور پر نمایاں کیا جو مختلف حالات میں مؤثر حکمتِ عملی کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
اپنی جنگی مہارت اور تنظیمی بصیرت کے باعث حاجی توکل کو تنظیم کے ہر اول دستہ “ فتح اسکواڈ” میں شامل کیا گیا اور ساتھ ہی انہیں کیمپ کی مشاورتی کمیٹی کا رکن بھی بنایا گیا۔ یہ ذمہ داریاں اس بات کا ثبوت تھیں کہ وہ نہ صرف ایک مؤثر جنگجو تھے بلکہ فیصلوں اور حکمتِ عملی کی سطح پر بھی اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
آپریشن ہیروف فیز دو کے دوران رودبُن کے محاذ پر وہ بطور کمانڈر اپنے دستے کی قیادت کر رہے تھے، اس معرکے میں انہوں نے منظم حکمتِ عملی اور جرات کے ساتھ دشمن کے خلاف لڑائی کی قیادت کی اور آخری لمحے تک محاذ پر ڈٹے رہے، اسی معرکے کے دوران انہوں نے آزادی کے مقصد کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
تنظیم نے کہا ہے کہ امتیاز بلوچ عرف حاجی توکل کی جدوجہد اس حقیقت کی علامت بن گئی کہ تجربہ، نظم اور قربانی کا امتزاج ہی مزاحمتی تحریک کو مضبوط بناتا ہے، اور ایسے کردار اپنی زندگی کے بعد بھی جدوجہد کی تاریخ میں ایک روشن مثال بن کر باقی رہتے ہیں۔
ہکل میڈیا کے مطابق کوہاڈ تمپ سے تعلق رکھنے والے شہید لیاقت عرف نود، ولد مولا بخش 2019 میں تنظیم کا حصہ بنیں اور وہ بطور فتح اسکواڈ سرمچار کشتی کمانڈر کے طور پر اپنی زمہ داریاں سرانجام دئے۔
تنظیم نے کہا ہے کہ شہید لیاقت عرف نود کا تعلق تمپ کے علاقے کوہاڈ سے تھا، 2019 میں بی ایل اے میں شمولیت کے بعد نود نے زامران اور کلبر کے محاذوں پر مسلسل سرگرم رہ کر خود کو ایک باصلاحیت جنگجو کے طور پر منوایا، پہاڑی علاقوں کی پیچیدہ جغرافیائی صورتحال اور دشمن کی مسلسل نگرانی کے باوجود نود ہمیشہ پیش قدم رہتے تھے، ان کی جنگی سوچ عملی تجربے سے جڑی ہوئی تھی۔
نود کو اپنی مہارت اور ذمہ داری کے احساس کے باعث گشتی کمانڈ کی ذمہ داری دی گئی، جہاں انہوں نے پہاڑی راستوں اور دشوار گزار گزرگاہوں پر اپنے دستوں کی قیادت کرتے ہوئے دشمن پر کاری ضربیں لگائی اور دشمن کی نقل و حرکت کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کیا، بعد ازاں انہیں زامران میں سائیڈ کیمپ کمانڈر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے کیمپ کی ڈسپلن، دفاع اور تربیت کے امور مؤثر انداز میں سنبھالے۔
تنظیم کے مطابق وہ مائن کاری کے ماہر سمجھے جاتے تھے اور بارود کو انتہائی مہارت کے ساتھ استعمال کرتے تھے، جس کے ذریعے دشمن کی پیش قدمی کو روکنے اور اس کی عسکری قوت کو کمزور کرنے میں انہیں خاص مہارت حاصل تھی، وہ آزادی پسند تنظیموں کے اتحاد براس کے متعدد معرکوں میں بھی شریک رہے اور ہر معرکے میں اپنی ثابت قدمی اور جنگی نظم کا مظاہرہ کیا۔
بی ایل اے کے مطابق نود کی انہی صلاحیتوں اور جنگی تجربے کے باعث انہیں تنظیم کے فرنٹ لائن دستے، فتح اسکواڈ، میں شامل کیا گیا فتح اسکواڈ میں شامل ہونا اس بات کی علامت تھا کہ نود نہ صرف ایک قابل جنگجو تھے بلکہ انتہائی حساس اور فیصلہ کن کارروائیوں کے لیے بھی موزوں سمجھے جاتے تھے۔
آپریشن ہیروف فیز دو کے دوران پل آباد کے محاذ پر انہوں نے اپنے دستے کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کے خلاف شدید معرکے میں حصہ لیا اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے جنگِ آزادی کی تاریخ میں امر ہو گئے۔



















































