“ٹیکنالوجی کسی ایک کی میراث نہیں
تحریر: میر سانول بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
1973 کی جنگ میں پاکستان فوج کے ایک افسر نے یہ کہا تھا کہ ہمارے پاس جدید اور آٹومیٹک ہتھیار ہیں، جو ایک منٹ میں سینکڑوں گولیاں چلا سکتے ہیں۔ تم قبائلی مریوں کے پاس تو سو سال پرانے ہتھیار ہیں، تم ایک جدید فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتے، اس لیے اپنے ہتھیار ڈال دو۔
جنگ کے دوران حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ پاکستانی کمانڈروں کے زیرِ استعمال جدید ہتھیار بلوچ مری مزاحمت کاروں کے ہاتھ لگے، اور یوں وہی مزاحمت کار اس مرحلے پر پاکستان فوج کے عام سپاہی سے بھی بہتر اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہو گئے۔ اس وقت بہت کم لوگوں کو معلوم تھا کہ کلاشنکوف جیسے ہتھیار کیسے چلائے جاتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ یہ فاصلہ ختم ہوتا چلا گیا۔ آج وہی کلاشنکوف مری بلوچ اپنے گھروں میں بیٹھ کر دوسروں کو چلا کر دکھاتے ہیں۔ بلکہ انہیں بناتے بھی ہے
یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ قابض ریاستیں اپنی جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں پر گھمنڈ کرتی ہیں۔ شاید انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ جنگ کی صورت میں وہی ٹیکنالوجی مخالف فریق کے ہاتھ بھی لگ سکتی ہے۔ آج پاکستان ڈرون طیاروں کے ذریعے بلوچ علاقوں پر بمباری کر رہا ہے، کل کسی آپریشن میں یہی ڈرون بلوچ مزاحمت کاروں کے قبضے میں آ سکتے ہیں اور پاکستان فوج کے خلاف استعمال بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ جدید ہتھیار اور ٹیکنالوجی ہمیشہ کسی ایک کے ہاتھ میں نہیں رہتے۔
آپریشن ہیروف کے بعد پاکستانی وزیرِ دفاع پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر بول رہے تھے کہ بی ایل اے کے پاس اب ایسے ہتھیار ہیں جو ہماری فوج کے پاس بھی نہیں۔ یہ سچائی ہے کہ پاکستان خود تسلیم کر رہا ہے کہ آنے والے وقت میں بلوچ مزید جدید ہتھیاروں سے پاکستان کا مقابلہ کرے گا۔ ایک وقت میں بلوچ کو قبائلی، ان پڑھ کہہ کر مذاق اڑانے والے دشمن اب بلوچ مزاحمت کاروں کے جدید ہتھیاروں اور حکمتِ عملی کے سامنے ہتھیار ڈال رہا ہے۔ کچھ وقت پہلے بلوچوں کو ہتھیار ڈالنے کی نصیحت کرنے والے فوجی اب سرفراز کے ذریعے یہ بول رہے ہیں کہ ہم بلوچ تحریک کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔
سالوں پہلے اپنی طاقت کے گھمنڈ سے جن بلوچوں کو “قبائلی” کہہ کر ان پر چڑھائی کی گئی، بعد میں انہی کو قابو میں لانے کے لیے بیرونی ممالک سے ہیلی کاپٹرز اور جنگی طیاروں کی مدد لی گئی۔ صرف اس جنگ میں پاکستان فوج کے تیس ہزار فوجی اور پانچ ہزار بلوچ جنگجو مارے گئے۔ آج بھی بلوچ اور پاکستان کے درمیان ایک شدید جنگ جاری ہے۔
تاریخ سے ناواقف دشمن شاید آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ بلوچ نہ ڈرون اڑا سکتے ہیں اور نہ جہاز، مگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ بلوچ دنیا کے کونے کونے میں آباد ہیں اور مختلف ملکوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آج بہت سے بلوچ نوجوان دنیا بھر میں افواج، ناسا، اور بڑے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو کل بلوچ قومی فوج میں شامل ہو سکتے ہیں، کیونکہ ٹیکنالوجی کسی قابض کی میراث نہیں کہ ہمیشہ صرف اسی کے پاس رہے۔
آج ایسے ہزاروں بلوچ خاندان بیرونِ ممالک رہ کر وہاں کی شہریت حاصل کر کے ان ملکوں کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہاں جدید تعلیم اور ہنر سیکھ کر ان ملکوں کی خدمت کریں اور وہ تجربات اپنے بلوچستان کے لیے بھی استعمال کریں۔
میں بلوچ نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اگر آج ہم جہاز نہیں بنا سکتے تو کم از کم یہ تو سیکھ سکتے ہیں کہ انہیں چلایا کیسے جاتا ہے۔ آج جو بلوچ نوجوان دنیا بھر میں مقیم ہیں، وہی سب کچھ سیکھ کر کل بلوچستان کے لیے اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں۔
کیونکہ تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ طاقت کا غرور عارضی ہوتا ہے، جبکہ علم، وقت اور حالات مل کر ٹیکنالوجی کو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کر دیتے ہیں۔ اسی لیے ٹیکنالوجی کسی ایک ریاست، ادارے یا قوم کی میراث نہیں ہو سکتی۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































