پاکستان سابق افغان فوجی اہلکاروں کو بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف استعمال کررہا ہے- ایرانی میڈیا

1

ایران کے نیم سرکاری میڈیا ادارہ تسنیم نیوز کے رپورٹ کے مطابق پاکستان کے فوجی اور انٹیلی جینس ادارے بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کو استعمال کرتے ہیں، اور افغانستان کے سابق سکیورٹی اہلکاروں کی ایک تعداد بھی ان گروہوں میں شامل ہو چکی ہے۔

چھ اگست کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں نام نہاد “لشکر” (ڈیتھ اسکواڈز) پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی حمایت سے سرگرم ہیں اور فوج، سرحدی فورسز اور ملک کے انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مل کر سکیورٹی آپریشنز اور شورش سے نمٹنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ گروہ پراکسی فورسز کے طور پر کام کرتے ہیں اور ریاستی ڈھانچے میں باضابطہ طور پر شامل ہوئے بغیر پاکستان کی بعض سکیورٹی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ ہے کہ افغانستان کے سابق سکیورٹی اہلکاروں کی ایک تعداد، جنہوں نے 2021 میں جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان چھوڑ دیا تھا، پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور نام نہاد مسلح گروہوں (ڈیتھ اسکواڈز) میں شامل ہو چکی ہے۔ ان افراد کی بھرتی کی وجوہات میں فوجی تربیت، جنگی تجربہ اور سرحدی کارروائیوں سے واقفیت کو بیان کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق افغان اہلکاروں کے استعمال سے پاکستان کی حمایت یافتہ مسلح تنظیموں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز کی تعداد میں باضابطہ اضافہ کیے بغیر تجربہ کار اہلکاروں سے استفادہ کریں۔

اس میڈیا رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق افغان اہلکاروں کی بنیادی ترجیح مالی وسائل کا حصول اور زندگی کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔