افغانستان میں طالبان کی وزارتِ دفاع کے نائب ترجمان صدیق اللہ نصرت نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان فضائیہ نے بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان اور خیبر پختونخوا کے مختلف مقامات پر ’داعش‘ کے مبینہ مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔
انھوں نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے علاقے سرانان میں ایک مشترکہ مرکز پر فضائی حملہ کیا گیا، جس کے بارے میں انھوں نے الزام عائد کیا کہ اسے افغانستان میں تخریبی سرگرمیوں اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
وزارت نے مزید دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے قمبرخیل علاقے میں داعش کے ایک مبینہ مرکز، جبکہ چترال کی شاہ سلیم وادی کے گرم چشمہ علاقے میں داعش اور دیگر مسلح عناصر کے ایک اور مشترکہ مبینہ مرکز کو بھی فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان مراکز سے افغانستان میں تخریبی کارروائیوں اور شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔
افغان طالبان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ کارروائیوں میں داعش کے جنگجوؤں، ان کے حامیوں اور دیگر مسلح عناصر کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا، جبکہ حملے انتہائی درستگی سے کیے گئے اور ان میں کوئی شہری جانی نقصان نہیں ہوا۔
ضلع پشین سے اطلاعات ہیں کہ ڈرونز گرنے کے نتیجے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایک عینی شاہد پشین کے علاقے سرانان میں افغانستان کی جانب سے آنے والے ڈرونز دیکھے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے ایک یا دو ڈرونز کو فائرنگ کر کے گرا دیا گیا، جن کے گرنے سے کم از کم دو افراد زخمی ہوئے۔
دوسری جانب مقامی ذرائع کے مطابق ڈرون نے سرانان کے علاقے میں ایک اسکول کو نشانہ بنایا جس میں افغان حکومت کے سابق سیکیورٹی اہلکار رہائش پذیر تھے جبکہ دھماکے میں تین افراد زخمی ہوئے۔
دریں اثنا بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں رات کے وقت جنگی طیاروں کی پروازوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
واقعہ کے بعد پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا کہ 30 جون کو افغان طالبان حکومت نے بلوچستان میں سرحد پار چار ابتدائی نوعیت کے ڈرون بھیجے، جنھیں پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے بروقت نشاندہی کے بعد ناکام بنا دیا۔
بدھ کو جاری بیان میں آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ یہ ڈرونز افغان طالبان کی جانب سے اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں سے سرگرم مسلح گروہوں کی سرپرستی اور حمایت کے سلسلے کا حصہ تھے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے ان تمام ڈرونز کی فوری نشاندہی کی، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جدید دفاعی اقدامات کے ذریعے چاروں ڈرونز کو تباہ کر دیا۔
















































