ہمارے سوداگر – انور ساجدی

37

ہمارے سوداگر

تحریر: انور ساجدی

دی بلوچستان پوسٹ

مشر محمود خان نے عید کے بعد چمن میں جلسے سے خطاب کے دوران بلوچستان کے پشتونوں کو جو مشورے دیے اس پر کئی لوگ تنقید اور غصے کا اظہار کر رہے ہیں میرے خیال میں یہ تنقید بلاوجہ ہے کیونکہ ایک ہوتا ہے سودا گر جس کا کام اور پیشہ ہوتا ہے ،سودا بیچنا، جناب محمود خان بھی سیاسی سودا گر ہیں ان کے پاس صرف ایک سودا ہے اور وہ ہے پشتون کارڈ لہٰذا اگر وہ یہ نہ بیچیں تو اور کیا بیچیں بدقسمتی سے خان صاحب کو بڑے مواقع ملے لیکن وہ ایک کے سوا اور کوئی آئٹم نہ لاسکے مثال کے طور پر نواز شریف یا ڈاکٹر مالک کے دور میں برابر کے حصہ دار تھے ان کی جماعت سیاہ سفید کی مالک تھی ان کے بھائی حامد خان سینئر وزیر کے عہدے پر فائز تھے ان کے دوسرے بھائی بلوچستان کی گورنر شپ کے عہدے پر متمکن تھے ڈاکٹر مالک صاحب بلوچوں کے نمائندہ تھے لیکن پی ایس ڈی پی کا زیادہ تر حصہ پشتونخواءلے جاتی تھی وزیراعلیٰ ہاﺅس پر بھی اچھا خاصا ساجھے داری تھی ۔

مجھے کئی مرتبہ وہاں جانا پڑا ہر مرتبہ جناب زیارتوال صاحب وہاں پائے گئے ایک مرتبہ صحافیوں کا وفد گیا تو بجائے کہ وفد کو بات کرنے دیتے زیارتوال صاحب نے اپنے رجسٹروں کے صفحات کھول دیے میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ ان سے فارغ ہو جائیں اس کے بعد ہم سے بات کریں تو انہوں نے کہا کہ یار یہ تو یہاں کا مستقل مکین ہے، سورج نکلنے سے پہلے آجاتے ہیں اور رات گئے چلے جاتے ہیں۔

ایک دفعہ بڑے خان صاحب نے کہا کہ ساجدی تیرا گوادر گیا میں نے کہا کہ آپ درست فرما رہے ہیں پھر کہا کہ میں اسے بچا سکتا ہوں تو میں نے کہا کہ اچھی بات ہے پھر کہا کہ مفت میں نہیں آپ مجھے بلوچستان کا آدھا حصہ لکھ کر دیدیں تب میں بچاﺅں گا میں نے کہا کہ خان صاحب میں ایک عام آدمی ہوں بلوچستان کا اسٹیک ہولڈر نہیں ہوں آپ پونم میں سردار صاحب کے ساتھ رہے ہیں اس لئے اختر مینگل سے ملکیت لکھوا دیں یا ڈاکٹر صاحب سے لکھوائیں جو حکومت میں آپ کے پارٹنر ہیں خان صاحب نے کہا کہ اگر آپ آدھا حصہ لکھ کر دیدیں تو مجھے وہ بھی قبول ہے میں نے کہا کہ خان صاحب آدھا کیوں اگر آپ کوہ سلیمان سے لے کر گوادر تک جو تحریک چل رہی ہے اس کی قیادت کریں تو پورا بلوچستان آپ کا، کہنے لگے میں اتنا پاگل نہیں ہوں میں نے کہا کہ پھر آپ نصف حصہ کیوں مانگ رہے ہیں یہ جو نصف حصہ ہے یہ پشتونخواءپارٹی کا پرانا مطالبہ ہے ۔

1970ءمیں صوبہ بننے کے بعد خان شہید نے یہ مطالبہ خان عبدالولی خان سے کیا تھا انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دو قومیتی صوبہ یا آدھا حصہ یہ جائز مطالبہ نہیں کیونکہ یہ وراثت کی تقسیم نہیں ہے، انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ وہ کوئٹہ جا کر نواب خیر بخش مری سے اپنے معاملات طے کریں جو نیپ کے صوبائی صدر ہیں اس پر خان شہید ناراض ہوگئے تھے ان کا کہنا تھا کہ وہ باچا خان کے ہم مرتبہ رہنما ہیں وہ خیر بخش مری سے کوئی ڈیل نہیں کریں گے اس کے بعد انہوں نے پشتونخواءنیشنل عوامی پارٹی بنائی انتخابات میں حصہ لیا، قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے البتہ صوبائی نشست جیت گئے، بلوچستان اسمبلی کے قیام کے بعد وہ اپوزیشن اتحاد میں شامل ہوگئے اور پیپلز پارٹی یا بھٹو کی حمایت کرنے لگے، انہوں نے بدلہ لینے کیلئے پہلی افغان مہاجرین کی بستی قائم کی جو آج پشتون آبادکے نام سے مشہور ہے پشتونخواءکا منشور اگرچہ شاندار ہے لیکن اس کے عمل میں کافی تضادات ہیں جب نیپ کی حکومت قائم ہوئی تو خان صاحب نے جام غلام قادر، نواب رئیسانی، نواب یوسف مگسی، سیف اللہ پراچہ اور سردار دودا خان کے ساتھ مل کر اس حکومت کو چلنے نہ دیا۔ انہوں نے بھٹو کو قائل کیا کہ اگر نیپ کی حکومت برطرف کردی جائے تو اپوزیشن آسانی کے ساتھ حکومت بناسکتی ہے، بھٹو نے پہلے گورنر راج لگایا اور 1973ءکے آئین کے نفاذ کے بعد جام صاحب کی قیادت میں ایک اقلیتی حکومت قائم کی مکران کی دو نشستیں سردار عبدالرحمان اور میر دوست محمد کو غدار قرار دے کر خالی قرار دی گئیں ان نشستوں پر صابر بلوچ اور قادر بخش بلوچ کو کامیاب کردیا گیا، مولانا صالح محمد کو جے یو آئی سے توڑ لیا گیا، مولوی حسن شاہ بھی مراعات کی زد میں آگئے اس طرح ایک اقلیتی حکومت 1976ءتک مسلط رہی اسی سال سردار محمد خان باروزئی کو جام صاحب کی جگہ وزیراعلیٰ بنایا گیا۔

عجیب بات تھی کہ پیپلز پارٹی بلوچستان کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھٹو نے امان گچکی سے کہا کہ آپ محمد خان باروزئی کا نام تجویز کردیں جس پر وہ 5جولائی 1977ءتک وزیراعلیٰ رہے سردار باروزئی سردار عطاءاللہ مینگل کے قریبی ساتھی تھے لیکن وہ پارٹی چھوڑنے اور پیپلز پارٹی میں شمولیت پر مجبور ہوئے۔

1977ءکے آسیب زدہ الیکشن میں مشر محمود خان پہلی مرتبہ ایم پی اے بن گئے ایک مرتبہ انہوں نے ایوان کا محاصرہ کر کے تمام اراکین کو اندر محصور کردیا یہ محاصرہ سردار دودا خان نے باہر نکل کر توڑ دیا تھا، مشر محمود خان نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز ”نہ منوں“ یعنی نہیں مانتا سے کیا بھٹو نے پشین کوئٹہ سے کاٹ کر علیحدہ ضلع بنایا تھا جس پر محمود خان نے پشین ضلع نہ منوں والی تحریک چلائی تھی وہ 1983ءمیں ضیاءالحق کے خلاف تحریک میں حصہ لینے کی بجائے افغانستان چلے گئے تھے تاہم 1988ءمیں نام نہاد جمہوریت کی بحالی کے بعد وہ ہمیشہ پارلیمنٹ کا حصہ رہے حتیٰ کہ 2014ءمیں عمران خان کے دھرنے کے دوران وہ نواز شریف کے پروٹیکٹر کے طور پر سامنے آئے وہ عام انتخابات میں کوئٹہ کی نشست پر نواز شریف کے حامی سیٹلروں کے ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے بہر حال عمران خان نے انہیں صدارتی امیدوار اور اپوزیشن لیڈر بنوایا اس سے انہیں نئی سیاسی زندگی مل گئی لیکن 2024ءکے عام انتخابات میں بلوچستان کی نئی نسل نے بیشتر جماعتوں کو مسترد کر دیا جس پر موجودہ اراکین کو فارم 47کے تحت لایا گیا ان میں مشر محمود خان اور قبلہ مولانا صاحب بھی شامل تھے کیا کریں زمانہ بدل رہا ہے بلکہ بدل چکا ہے پشتونوں کی جنریشن ذی نے اپنے تمام اکابرین کو رد کر دیا ہے اسفند یار تو گوشہ نشین ہوگئے ہیں لیکن محمود خان حوصلے کے ساتھ برسرپیکار ہیں وہ اگرچہ زرداری کے دور میں ایک نئے صوبہ کے مطالبہ سے دستبردار ہوگئے تھے سیاسی سودا ختم ہونے کے بعد انہوں نے دوبارہ بولان تا چترال کا نعرہ بلند کردیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل جب پشتونخوا اسمبلی نے صوبہ ہزارہ کی قرارداد منظور کی تھی تو پشتونخوا نے اسے پختون وطن کی وحدت کے خلاف قرار دیا تھا حالانکہ وہ خیبر پختونخوا کے اسٹیک ہولڈر نہیں ہیں اس فیصلہ نے بولان تا چترال پختون صوبے کا جنازہ نکال دیا، چمن جلسے میں محمود خان نے فرمایا تھا کہ پشتون ٹرانسپورٹر اور تاجر تجارت کیلئے بلوچ راستے استعمال نہ کریں یہ صائب مشورہ ہے لیکن سارے راستے بلوچ علاقوں سے گزر کر جاتے ہیں، سوائے کوئٹہ سے ڈی آئی خان، تاریخی طور پر ”درابن“ سے ڈی آئی خان کا علاقہ بھی بلوچ عملداری میں رہا ہے۔

چمن جلسہ میں کاکڑ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ مسلح بلوچ گروہوں کے ساتھ گزارہ مشکل ہے اسی جلسہ میں قبائلی لشکر کی تشکیل کا نعرہ لگایا گیا پختون اکابرین بلوچستان میں رہتے ہیں لیکن اس کی سماجی ساخت اور تبدیلیوں سے ناواقف ہیں بلوچوں میں تمام قبائلی لشکر ختم ہوگئے ہیں تمام قبائلی سردار غیر موثر ہوگئے ہیں لہٰذا پختون قبائلی لشکر کیا کرے گا آیا یہ مقتدرہ کی پراکسی کے طور پر کام کرے گا جیسے کہ مختلف اوقات میں پشتونخوا میپ کرتی رہی ہے جہاں تک پختون عوام کا تعلق ہے تو وہ اپنے وطن میں آباد ہیں اور ایک ہزار سال سے بلوچوں کے ہمسایہ ہیں دونوں کی موت و زیست اور نفع نقصان ایک ہی ہے باہم رشتے ناطے ہیں وہ کسی لیڈر اور پراکسی کی وجہ سے الگ ہونے والے نہیں ہیں یہ خیال بھی آتا ہے کہ مرکز نے نئے صوبوں کا شوشہ چھوڑا ہے تو مشر محمود خان بھی سرگرم ہوگئے ہیں حالانکہ پشتون صوبے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کوئی اس کا مخالف نہیں ہے پھر وہ کیوں مخصوص طاقتوں کا آلہ کار بننے پر آمادہ ہورہے ہیں وہ پورے صوبہ کے لیڈر ہیں انہیں اپنے مقام اور مرتبہ کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے شگر گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پہلی مرتبہ تصدیق کی ہے کہ مرکز کراچی اور گوادر کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہتا ہے، انہوں نے ہلکے الفاظ میں اس کی مخالفت کی لیکن کھل کر اظہار خیال سے گریز کیا، اب جو یہ نئے صوبوں کا شوشہ ہے اس کی تصدیق ہوگئی ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ ایک تباہ کن فیصلہ ہوگا خاص طور پر سندھ اسے کبھی قبول نہیں کرے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔