ڈیرہ جات، کینسر کے ذریعے بلوچ نسل کشی کا المیہ
تحریر: جعفر قمبرانی
دی بلوچستان پوسٹ
کوہ سلیمان کے دامن، ڈیرہ جات میں کینسر ایک قدرتی وباء نہیں بلکہ بلوچ قبائلیوں کے خلاف ایک جان لیوہ سیاسی اور نسل کش ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا آرہا ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے سابقہ ممبر شہید کامریڈ حمیدہ بلوچ کی کینسر سے ناگہانی موت، نوجوان شاعر بسمل ندیم اور پٹواری جنگ کے راہشون ماسٹر وحید کی کینسر سے انتقال کے علاوہ بلوچستان کے سینئیر سیاستدان غوث بخش بزنجو اور میر حاصل خان بزنجو کی آخری اوقات میں کینسر کے وباء میں مبتلا ہونا اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ روڑ حادثات کی طرح بلوچستان میں کینسر بھی ایک قدرتی بیماری سے زیادہ ایک سیاسی بیماری اور ہتھیار ہے جسے نہ روکنے سے بلوچ قوم ذہنی و جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہوچکی ہے۔
یاد رہے یورینیم کی دریافت نے جہاں پاکستان کے دیگر صوبوں کو مالا مال خوش اور ترقی یافتہ بنادیا ہے تو وہی یہ دریافت بلوچ قوم خاص کر ڈیرہ جات میں پائے جانے والے بلوچ قبائل پر مصیبت بن کر گری۔ پاکستان اٹامک انرجی نے پہلی بار 1977 میں ڈیرہ غازی کے علاقے بغلچر میں مائننگ کرکے یورینیم نکالنا شروع کیا تھا جو کہ تاحال بین الاقوامی مائننگ قوانین کو روندتے ہوئے جاری ہے۔
اخبار میں شائع ہونے والے 2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق کوہ سلیمان میں اب تک آٹھ مائننگ پلاٹس لگائے گئے ہیں جو کہ آبادی سے چند کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیرہ غازی خان، تونسہ اور کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں یورینیم پلانٹس اور ایٹمی تابکاری کی وجہ سے کینسر روز بہ روز زور پکڑ رہی ہے اور سالانہ ہزاروں لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق کینسر کے شعبے سے وابستہ ایک ڈاکٹر نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کوہ سلیمان و ڈیرہ جات میں کینسر کے پھیلنے کی سب سے بڑے وجوہات آلودہ پانی اور آب و ہوا ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یورینیم کی کان کنی کے بعد جب اسے صاف کرکے ٹھیلوں کی شکل دی جاتی ہے تو یہ خشک ہونے کے بعد چھوٹے چھوٹے ذرات میں تبدیل ہوکر ہوا اور پانی میں تحلیل ہوتے ہیں۔ ایک رپورٹ میں بلوچ قبائلیوں پر اس سیاسی بیماری جو کہ ماہرین کے مطابق بلوچ نسل کشی ہی کی ایک قسم ہے، پر اپنی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ماہرین لکھتے ہے کہ “دنیا بھر میں جوہری پروجیکٹ سے نکلنے والی ریڈی ایشن سے وہاں کے باشندوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مختلف قسم کے حفاظتی تدابیر کے انتظامات کیے جاتے ہیں تاکہ تابکاری شعاعوں سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچا جا سکے مگر بغلچر کے کانوں میں ‘ویسٹ مٹیریل’ کو ڈرموں میں ڈال کر پانی میں یوں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے جسکی وجہ سے ‘ویسٹ مٹیریل’ زیر زمین پانی کا حصہ بن کر ‘ہیوی میٹل’ز اور ‘ریڈی ایٹڈ’ پانی کا باعث بن رہی ہے۔”
ان کا مزید کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان اور قرب و جوار کے علاقوں میں شہری بون میرو ،جگر کا کینسر، پھیپھڑوں کا کینسر، گردوں، ہڈیوں کی کینسر، دماغی فالج، چہرے کا ٹیومر، ٹیوبر کلوسس، اسقاط حمل، جسمانی معذوری، انتوں کا کینسر کا شکار ہورہے ہیں۔”
کوہ سلیمان میں اس وقت کینسر کے رپورٹ شدہ ایکٹو کیسز کی تعداد لگ بھگ پانچ سو چھتیس (536) ہیں جن میں میدانی علاقوں کے رپورٹس سرکاری پابندیوں کے سبب اب تک شامل نہیں ہو پائے۔ تاہم رپورٹ ہونے والے اموات 2022 میں 37، جبکہ 2023 میں 51، اور 2024میں 97 اور 2025 میں پچھلے تمام ریکارڈ کو توڑتے ہوئے ایک سو اکتالیس (141) تک پہنچ چکے ہیں۔
اپنے سیاسی دورے کے دوران علاقہ مکینوں سے دریافت کرنے کے بعد انکشاف کیا کہ خطے میں قریبا (35) کے قریب ایسے علاقے ہیں جن میں کم سے کم پینتیس سے بیس کینسر کے رپورٹ شدہ مریض پائے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں بغلچر، مڑسر، کھنڈور چوکی، بارغ سرتنگہ، مانکی، رونگھن، زندہ پیر، کچھی ونگہ، کلیماڑ، سیمنج، جھنڈی، مانڑکا، چنالہ کھوڑیالی، ٹھیکر ٹھل بارتھی اور بھارتی وغیرہ کے علاقے شامل ہیں۔
یاد رہے کہ ڈیرہ جات میں یورینیم کی دریافت اور اس کی کان کنی کے اثرات صرف صحت یا کینسر کی پھیلاؤ تک محدود نہیں بلکہ اسکے وسیع سماجی، سیاسی اور نفسیاتی اثراب بھی مقامی بلوچوں پر مرتب ہورہے ہیں جن میں مقامی بلوچ آبادیوں کا نقل مکانی اور اپنے املاک سے دستبرداری، زورگار اور نوکریوں کی غیر منصفانہ تقسیم، ماحولیاتی بگاڑ جیسے پانی، مٹی اور ہوائی آلودگی کی وجہ سے زراعت اور زرعی پیداوار میں کمی اور سب سے بڑھ کر ریاستی اداروں کی بالادستی شامل ہے جو کہ مقامی لوگوں ( بلوچوں) کیلئے وبال جان بن رہے ہیں۔
نفسیاتی طور پر بھی اس کے شدید گہرے اثرات مرتب ہونے ہے جیسے مقامی لوگوں میں ایک خوف اور بے یقینی کی کیفیت کا پروان چڑھنا، ریاستی اداروں اور ملکی نظام پر عدم اعتماد میں اضافے کے ساتھ ساتھ زہنی دباؤ ڈپریشن اور احساس محرومی و تشویش میں اضافہ بھی کہی ممکنات میں سے ہیں۔ اگر معاشی حوالے سے یورینیم مائننگ پروجیکٹس پر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ مقامی بلوچ قبائل کو کم خواندگی و پستی میں دھکیل کر غیر مقامی لوگوں کے ہاتھ پروجیکٹس کو چلانے کی پالیسی پر کام کیا جارہا جس کی وجہ سے مقامی افراد روز بہ روز غربت اور افلاس کی چکی میں پس رہے ہیں جبکہ غیر مقامی افراد انکے اوپر بڑے شان سے بیٹھ کر انکے زمین اور جائیدادوں سے نکلی آمدنی ہڑپ رہے ہیں۔
یوں یہ تمام صورتحال سے واضح ہوتی ہے کہ جس طرح بلوچستان میں روڑ حادثات، ناخواندگی، منشیات فروشی و دیگر حربوں کے ذریعے سے بلوچوں کی قتلِ عام کی جاتی ہے اسی طرح بلوچستان کے جزویات، ڈیرہ غازی غان اور تونسہ جہاں اکثریت بلوچ قبائل آباد ہیں، میں کینسر جیسے موضی مرض کے ذریعے بلوچوں کی موت اپنے عروج بام پر پہنچ چکی ھے۔ ان علاقوں میں محقق صحافی و دیگر ٹی وی و اخبار رپورٹروں کی مجال جو مزکورہ علاقوں میں جاکر کینسر پر تحقیق و رپورٹنگ کرسکیں۔ اگر پھر بھی کسی نے جرآت کی تو اسے مختلف طریقوں سے ڈرا دھمکا کر چھپ کروایا جاتا ہے جس طرح چند سال قبل وہاں کے مقامی سیاسی تنظیم ‘بلوچ راج’ کے ممبران کے خلاف ایف آئی و دیگر ہتھکنڈوں کو استعمال کرکے انہیں چھپ سادھنے پر مجبور کیا گیا تھا۔
پس یہ کہنا بجا ہوگا کہ بلوچ قوم کو پسماندہ رکھ ان کی ماحولیاتی قتلِ عام پنجاب کے بلوچ علاقوں میں بھی بلوچستان کی طرح ہنوز شدت سے جاری ہے جس پر عالمی انسانی حقوق کے دعویداروں کی توجہ کی اشد ضرورت ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یورینیم کی دریافت درست حفاظتی اصولوں کے تحت کیا جاتا جس سے پانی، زمین خوراک اور ذہنی صحت نارمل اور برقرار ہوپاتے۔ یورینیم مائننگ کے ساتھ ساتھ لوگوں میں میڈیکل کیمپس اور اسکریننگ کے ذریعے صحت کے حوالے سے آگاہی اور شعوری مہم چلائی جاتی۔ حکومت کی جانب سے وفاقی سطح پر لوگوں کو صاف پانی مہیا کرنے کیلئے پانی کی ٹیسٹنگ اور پھر فلٹریشن پلانٹس انسٹال کئے جاتے تاکہ مقامی آبادیوں کو گندا پانی پینے سے بچایا جاتا، مائننگ کے بعد فضلہ کو محفوظ طریقے سے آبادیوں سے دور ٹھکانے لگائیں جاتے تاکہ آبادیوں پر ان کے اثرات کم سے کم ہوتے اس کیلئے مائننگ پلانٹس اور ڈمپنگ سسٹم کو آبادی سے دور منتقل کیا جائے اور سخت حکومتی اور بین الاقوامی مائننگ اصولوں پر عمل درآمد کیا جائے۔ مقامی افراد کو تعلیم تربیت اور شعوری طور پر تربیت کی جائے تاکہ لوگ اپنی حفاظت سیکھتے ہوئے پلانٹس میں روزگار کے مواقعوں سے بھی بھرپور فائدہ حاصل کرسکیں۔
وفاقی و بین الاقوامی سطح پر ان تمام اثرات و نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹھوس اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے وگرنہ کوہ سلیمان و ڈیرہ جات میں آباد بلوچ قوم کے خلاف کینسر مزید سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوکر کئی نسلوں کو کھا جائے گی۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔



















































