میرے پاس خوفزدہ ہونے کے لیے وقت ہی نہ تھا – فرحان بلوچ

33

میرے پاس خوفزدہ ہونے کے لیے وقت ہی نہ تھا

تحریر: فرحان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

گوریلا جنگ کوئی انتخاب نہیں، فطرت کا ردِعمل ہے۔ جب ایک نہتی قوم کے سامنے طاقتور دشمن پہاڑ بن کر کھڑا ہو جائے، جب عدالتوں کے دروازے بند ہوں اور ایوانوں میں سناٹا ہو، تب پہاڑوں کی گھاٹیاں، جنگلوں کے سائے اور شہروں کی تنگ گلیاں خود مورچے بن جاتی ہیں۔ یہی فطری جدوجہد کا راستہ ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ چینی انقلاب کے معمار ماؤزے ڈونگ ہوں، روس کے نظریہ ساز لینن ہوں، یا دنیا کی انقلابی تاریخ کا سب سے روشن ستارہ ارنستو چے گویرا، سب نے گوریلا جنگ کے فلسفے کو خون سے سینچا، فکر سے تراشا اور قربانی سے بلند کیا۔ ان سب نے ثابت کیا کہ جنگ صرف توپ و تفنگ کا نام نہیں، یہ صبر، حکمت اور وقت کی پہچان کا نام ہے۔

انہی راستوں کا ایک مسافر رودین بھی تھا۔ رودیں اکثر کہا کرتا تھا: “میرے پاس خوفزدہ ہونے کا وقت ہی نہیں تھا۔”

شہر کی دیواروں میں قید وہ زندگی ایسی تھی کہ صبح سے شام تک تنظیمی ذمہ داریاں، راتوں کو خفیہ نشستیں، اور لمحہ لمحہ خطرے کا سایہ۔ اس ہنگامے میں خوف کو سوچنے کی فرصت ہی کب ملتی تھی؟ وہ کہتا تھا کہ میں ہر کام اس یقین سے کرتا تھا کہ یہ فرض ہے۔ یہ نہیں سوچتا تھا کہ نتیجہ کیا ہوگا، لوگ کیا کہیں گے، انجام کیا ہوگا۔ بس بے خوف ہو کر آگے بڑھتا تھا۔ کیونکہ میرا ایمان تھا: “غلطی کے ڈر سے ہاتھ روک لینے سے بہتر ہے کہ عمل کرتے ہوئے غلطی کر لی جائے۔ عمل کا زخم سوچ کی معذوری سے بہتر ہے۔”

رودین نے ایک عرصے تک شہری گوریلا کے طور پر اپنا قومی فرض نبھایا۔ شہری گوریلا ایک عہد ہوتا ہے۔ ایک ایسا عہد جو تنہائی میں خود سے کیا جاتا ہے اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نبھایا جاتا ہے۔ رودیں نے یہ عہد خود سے کیا تھا، اور آخری سانس تک اس پر قائم رہا۔

آج میں وہ داستان لکھ رہا ہوں جو میرے اور رودین کی پہلی ملاقات کی ہے۔ داستان اس لیے کہ انسان دلیل سے نہیں، مثال سے جلدی سیکھتا ہے۔

دشت کا خوبصورت میدان۔ سرسبز، ٹھنڈی ہوا، اور ایک تالاب جس کے کنارے پر میں اور میرا ایک تنظیمی ساتھی بیٹھے تھے۔ ہم سرسبز منظر میں کھوئے ہوئے کسی سنگت کے منتظر تھے۔ اچانک قدموں کی چاپ سنائی دی۔ ایک نوجوان آ کر رکا۔ سلام کے بعد بلوچی “حال احوال” کے بعد ہم پھر تنظیمی باتوں میں مشغول ہو گئے۔ اسی دوران ایک ساتھی نے میرا نام پکارا۔

وہ اجنبی سنگت مجھے دیکھ کر مسکرایا اور بولا:
“یار، تم ظہیر جان کے یار تو نہیں؟”
میں نے کہا:
“ہاں، میں ظہیر جان کا خاص یار ہوں۔”
کہنے لگا:
“مجھے نہیں پہچان رہے؟”
میں حیرت سے سوچتا رہا۔ چہرہ جانا پہچانا سا لگا مگر نام، رنگ، روپ کچھ یاد نہ آیا۔

تب اس نے میری ایک پرانی خفیہ ملاقات کا ذکر چھیڑا۔ دھندلی سی یاد آئی کہ ہاں، میں اور ظہیر جان وہاں موجود تھے۔ مگر پھر بھی پورا نقشہ ذہن میں نہ آیا۔

تب اس نے رازداری کی وجہ سے دھیمی آواز میں اپنا تنظیمی نام بتایا:
“رودین”
اور پھر وہ اپنی شہری گوریلا زندگی کے قصے سنانے لگا۔ کہنے لگا:
“ظہیر اور بالاچ میرے نظریاتی استاد ہیں۔ جو کچھ آج میں بلوچستان کے درد کو سمجھتا ہوں، اس کی وجہ یہی دو لوگ ہیں۔”

رودین کی ہر بات سے قربانی ٹپکتی تھی۔ ہر لفظ میں وطن کو آزاد دیکھنے کی دعا تھی۔ اس کے نزدیک جنگ اصل زندگی تھی اور شہادت کامیابی۔ اور اس کے لبوں پر ہمیشہ کھیلنے والی مسکراہٹ، وہ مسکراہٹ خود امن کی علامت لگتی تھی۔ جیسے کہہ رہی ہو کہ ہم لڑتے اس لیے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں مسکرا سکیں۔

سچ ہے، پہاڑ اور وادیاں سب سے بڑے استاد ہیں۔ یہ کتابوں سے نہیں، تجربے سے سکھاتے ہیں۔ ان پہاڑوں نے بلوچ نوجوانوں کو جو شعور دیا، جو مضبوطی بخشی، جو بے خوفی سکھائی، وہ شاید دنیا کی کوئی یونیورسٹی، کوئی کالج، کوئی ادارہ نہ سکھا سکے۔ یہاں سے فارغ ہونے والا ہر طالب علم قربانی کا سبق ازبر کر کے نکلتا ہے۔

قربان جاؤں اس عشق پر جس کا واحد علاج صرف بلوچستان کی آزادی ہے۔ زمین کی آزادی سے بڑی کوئی دولت نہیں، کوئی خواب نہیں۔ دنیا کے باقی خطے اگر بلوچستان سے جلتے ہیں تو ان کا جلنا بجا ہے۔ کیونکہ اس مٹی نے ریحان جیسے بیٹے پیدا کیے ہیں۔ اور ایک نہیں، ہزاروں کی تعداد میں۔

گوریلا جنگ کا فیصلہ اکثر لمحوں میں ہوتا ہے۔ وہ لمحہ جب انگلی اور ٹرِگر کے درمیان صرف سانس کا فاصلہ رہ جائے۔ اس پل میں وہی سرخرو ہوتا ہے جس کا ذہن ساکت جھیل کی طرح پرسکون ہو۔ جو جانتا ہو کہ گولی کب چلانی ہے اور کب خاموشی کو گولی سے زیادہ مہلک ہتھیار بنانا ہے۔

کم عقل شخص کے لیے ہتھیار صرف بارود کا دھماکہ ہے، کانوں کے پردے پھاڑتا شور ہے۔ مگر باشعور انسان جانتا ہے کہ گولی کے چلنے سے زیادہ اہم وہ مقصد ہے جو اس کے پیچھے کھڑا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کب خاموشی میں حقیقت جمع کرنی ہے، اور کب کم الفاظ سے تاریخ پر گہرا نشان چھوڑنا ہے۔

گوریلا جنگ کا فیصلہ تلوار کی دھار سے زیادہ تیز اور بجلی کی کوند سے زیادہ مختصر لمحوں میں ہوتا ہے۔ وہ لمحے جب سانس رُک جائے، وقت تھم جائے، اور موت و حیات کے درمیان صرف ایک فیصلے کی لکیر باقی رہ جائے۔ اس کھڑے امتحان میں وہی شخص بازی لے جاتا ہے جس کا ذہن ہنگامہ خیز طوفان میں بھی جھیل کی سطح کی طرح پرسکون رہے۔ جس کے اعصاب فولاد ہوں اور سوچ برف کی مانند شفاف۔ وہی جانتا ہے کہ گولی کب چلانی ہے اور کب اسے میان میں رہنے دینا ہے کیونکہ اصل جنگ چیخ و پکار سے نہیں، خاموشی کے فلسفے سے جیتی جاتی ہے۔ جو خاموشی کی گہرائی کو ناپ لے، جو سناٹے میں چھپے طوفان کو بھانپ لے، وہی میدانِ جنگ کا اصل سردار کہلاتا ہے۔

انہی نایاب جنگجوؤں میں رودین کا نام بھی سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ رودین وہ گوریلا تھا جس کے لیے فیصلہ لینا تلوار چلانے سے زیادہ ایک فن تھا، ایک رقص تھا۔ اس کا ذہن شطرنج کے ماہر کھلاڑی کی طرح ہر چال سے دس قدم آگے سوچتا تھا۔ وہ حالات کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہی جان لیتا تھا کہ اب زمین کو کروٹ بدلنی ہے۔

اس کی دور اندیشی اور بروقت فیصلہ سازی کی سب سے درخشاں مثال یہی ہے کہ جب شہر کی گلیاں دشمن کی بوٹوں تلے کراہنے لگتیں، جب دیواریں مخبری کرنے لگتیں اور ہر کھڑکی سے خطرہ جھانکنے لگتا، تب رودین پل بھر کی تاخیر نہ کرتا۔ وہ جان لیتا کہ اب شہری گوریلا کی حکمتِ عملی دم توڑ چکی ہے۔ وہی لمحہ ہوتا جب وہ شہری زندگی کو خیرباد کہہ کر پہاڑوں کی آغوش میں پناہ لے لیتا، اور شہری محاذ کو پہاڑی محاذ میں بدل دیتا۔

یہ فرار نہیں، یہ پسپائی نہیں، یہ ایک عسکری بصیرت تھی۔ یہ اس حقیقت کا اعلان تھا کہ رودین صرف ٹرِگر دبانا نہیں جانتا تھا، وہ وقت کے چہرے سے نقاب اٹھانا بھی جانتا تھا۔ اسے خبر تھی کہ کب پتھر بن کر دبک جانا ہے اور کب شعلہ بن کر لپکنا ہے۔

گوریلا جنگ کا فیصلہ تلوار کی دھار سے زیادہ تیز اور بجلی کی کوند سے زیادہ مختصر لمحوں میں ہوتا ہے۔ وہ لمحے جب سانس رُک جائے، وقت تھم جائے، اور موت و حیات کے درمیان صرف ایک فیصلے کی لکیر باقی رہ جائے۔ اس کڑے امتحان میں وہی شخص بازی لے جاتا ہے جس کا ذہن ہنگامہ خیز طوفان میں بھی جھیل کی سطح کی طرح پُرسکون رہے۔ جس کے اعصاب فولاد ہوں اور سوچ برف کی مانند شفاف۔ وہی جانتا ہے کہ گولی کب چلانی ہے اور کب اسے میان میں رہنے دینا ہے۔ کیونکہ اصل جنگ چیخ و پکار سے نہیں، خاموشی کے فلسفے سے جیتی جاتی ہے۔ جو خاموشی کی گہرائی کو ناپ لے، جو سناٹے میں چھپے طوفان کو بھانپ لے، وہی میدانِ جنگ کا اصل سردار کہلاتا ہے۔

انہی نایاب جنگجوؤں میں رودین کا نام بھی سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ رودیں وہ گوریلا تھا جس کے لیے فیصلہ لینا تلوار چلانے سے زیادہ ایک فن تھا، ایک رقص تھا۔ اس کا ذہن شطرنج کے ماہر کھلاڑی کی طرح ہر چال سے دس قدم آگے سوچتا تھا۔ وہ حالات کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہی جان لیتا تھا کہ اب زمین کو کروٹ بدلنی ہے۔

اس کی دور اندیشی اور بروقت فیصلہ سازی کی سب سے درخشاں مثال یہی ہے کہ جب شہر کی گلیاں دشمن کی بوٹوں تلے کراہنے لگتیں، جب دیواریں مخبری کرنے لگتیں اور ہر کھڑکی سے خطرہ جھانکنے لگتا، تب رودین پل بھر کی تاخیر نہ کرتا۔ وہ جان لیتا کہ اب شہری گوریلا کی حکمتِ عملی دم توڑ چکی ہے۔ وہی لمحہ ہوتا جب وہ شہری زندگی کو خیرباد کہہ کر پہاڑوں کی آغوش میں پناہ لے لیتا، اور شہری محاذ کو پہاڑی محاذ میں بدل دیتا۔

یہ فرار نہیں، یہ پسپائی نہیں، یہ ایک عسکری بصیرت تھی۔ یہ اس حقیقت کا اعلان تھا کہ رودیں صرف ٹریگر دبانا نہیں جانتا تھا، وہ وقت کے چہرے سے نقاب اٹھانا بھی جانتا تھا۔ اسے خبر تھی کہ کب پتھر بن کر دبک جانا ہے اور کب شعلہ بن کر لپکنا ہے۔

کم عقل اور نادان شخص کے لیے ہتھیار صرف بارود کا شور، دھوئیں کا غبار اور کانوں کے پردے پھاڑ دینے والی آواز ہے۔ اس کی نظر گولی کے دھماکے سے آگے نہیں جاتی۔ مگر ایک باشعور، صاحبِ ادراک اور دوربیں جنگجو کے لیے ہر گولی ایک پیغام ہے، ایک اعلان ہے، ایک مقصد ہے۔ وہ جانتا ہے کہ گولی کب چلانی ہے، کیوں چلانی ہے، اور اس کے چلنے کے بعد کیا نتائج برآمد ہوں گے۔ اس کے نزدیک گولی صرف لوہے کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک سوچ، ایک نظریہ اور ایک حکمتِ عملی کا تسلسل ہے۔ رودین اسی قبیل کا انسان تھا، جو گولی کے شور سے زیادہ اس کے پیچھے چھپے سکوت کے فلسفے کو سمجھتا تھا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔