ریاستی جبر اور بلوچ مزدور – ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

51

ریاستی جبر اور بلوچ مزدور

تحریر: ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

دنیا ایک غیر معمولی حد تک خوبصورت جگہ ہو سکتی تھی، اگر حیوانیت کو انسانیت کے لبادے میں پیش کر کے اقتدار کے ایوانوں تک نہ پہنچایا جاتا۔ یہ ایک ایسی دنیا ہو سکتی تھی جہاں انسان کے لیے انسانیت پر مبنی نظام ہوتا، نہ کہ طاقت کے نام پر جبر کا تسلسل۔

دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کے لیے تحریکیں اٹھیں، ہزاروں جانیں قربان ہوئیں، لاتعداد تحریریں لکھی گئیں، اور انقلابات برپا ہوئے۔ کئی خطوں میں یہ جدوجہد رنگ لائی، مزدوروں کو حقوق ملے اور حالات میں بہتری آئی۔ مگر اسی دنیا میں آج بھی ایسے خطے موجود ہیں جہاں مزدور نہ صرف استحصال بلکہ اپنی شناخت کی بنیاد پر بھی سزا بھگت رہا ہے۔

بلوچستان ان خطوں میں سرفہرست ہے۔ یہاں مزدور ہونا نہیں، بلکہ بلوچ مزدور ہونا ایک “جرم” بن چکا ہے۔ بلوچ مزدور کی نہ صرف زندگی بلکہ اس کی موت بھی گمنامی میں دفن کر دی جاتی ہے۔ یہ بلوچستان کی ایک تلخ حقیقت ہے، جو روزمرہ کا معمول بن چکی ہے۔

بلوچستان، جہاں نہ صنعتی ڈھانچہ موجود ہے، نہ مستحکم زرعی نظام، اور نہ ہی روزگار کے خاطر خواہ مواقع۔ اندازاً 40 سے 50 فیصد سے زائد آبادی بارڈر ٹریڈنگ سے وابستہ ہے۔ یہ وہ مزدور ہیں جو روز اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر سرحد کے آرپار اشیائے خوردونوش اور پٹرول کی ترسیل کرتے ہیں تاکہ ان کے گھروں کے چولہے جل سکیں۔ ان کے بچے اسی وقت کھانا کھاتے ہیں جب ان کے والد زندہ واپس لوٹ آئیں۔

یہ مزدور صرف بھوک کا شکار نہیں بلکہ ریاستی جبر، ہراسانی اور منظم استحصال کا بھی روزانہ سامنا کرتا ہے۔ ہر چیک پوسٹ، ہر راستہ، ہر سفر اس کے لیے زندگی اور موت کے درمیان معلق ایک لمحہ ہوتا ہے۔ اس کی گاڑی میں موجود تیل محض ایندھن نہیں بلکہ ایک ممکنہ آگ ہے، جو کسی بھی وقت اس کی زندگی نگل سکتی ہے۔

اس کے باوجود اسے ہر قدم پر بھتہ دینا پڑتا ہے۔ اگر وہ انکار کرے تو گولی اس کا مقدر بنتی ہے۔ اگر وہ مارا جائے تو اس کی لاش بھی ضبط کی جا سکتی ہے۔ اگر اس کے ساتھی احتجاج کریں تو وہ بھی گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

پندرہ پندرہ چیک پوسٹیں، لیویز، پولیس، ایف سی اور ڈیتھ اسکواڈ، ہر ایک کی اپنی قیمت۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو مزدور کی مجبوری کو منافع میں بدل چکا ہے۔

آج جب دنیا International Workers’ Day منا رہی ہے، تقریریں، سیمینارز اور نمائشی یکجہتیاں ہو رہی ہیں، اسی لمحے ایک بلوچ مزدور موت کے دہانے پر کھڑا اپنی روزی کما رہا ہے۔ وہی نظام جو اسٹیج پر مزدور کے حقوق کی بات کرتا ہے، زمین پر اسی مزدور کو روند رہا ہے۔

چند سال پہلے چاغی میں پیش آنے والا واقعہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ حمید اللہ بلوچ، ایک ڈرائیور، کو ریاستی فوج کے اہلکاروں نے صرف اس لیے گولی مار دی گئی کہ اس نے ریاستی فوج کو بھتہ دینے سے انکار کیا۔ جب اس کے ساتھی احتجاج کے لیے نکلے تو ان پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی، بیسیوں زخمی ہوئے اور بعد میں مزید اموات ہوئیں۔ ظلم یہیں نہیں رکا، بارڈر بند کیا گیا، ریگستان میں گاڑیوں کے انجنوں میں ریت ڈال کر انہیں ناکارہ بنایا گیا، اور ڈرائیوروں سے پانی اور خوراک چھین لی گئی تاکہ وہ بھوک اور پیاس سے مر جائیں۔

اس واقعے کے متاثرین سے ملنے میں دالبندین کے قریب لشکرآب گئی، جہاں حمید اللہ کے گھر میں ایک خوفناک خاموشی چھائی ہوئی تھی، ایسی خاموشی جس میں سوال بھی تھے اور خوف بھی۔ اس کے دو چھوٹے بچے تھے، بیوی حاملہ تھی، اور ایک بھائی جو اب پورے گھر کا سہارا تھا۔ میں نے ان سے ویڈیو بنانے کی درخواست کی، مگر اس نے انکار کرتے ہوئے بتایا کہ اسے دھمکیاں دی گئی ہیں کہ وہ اس واقعے پر مزید بات نہ کرے۔ وہ مجبور تھا، اسے نہ صرف اپنے بچوں بلکہ اپنے بھائی کے یتیم بچوں کا بھی سہارا بننا تھا۔

اس نے کہا:
“لوگ کہتے ہیں ہمیں خاموش رہنے کے لیے بیس لاکھ روپے دیے گئے ہیں، مگر یہ جھوٹ ہے۔ میں اپنے بھائی کا خون کیسے بیچ سکتا ہوں؟ میرے بھائی کے لیے احتجاج میں جو بیس لوگ زخمی ہوئے، ان کا کیا؟ میرا بھائی اب صرف میرا نہیں، پوری قوم کا ہے۔ میں خاموش ضرور ہوں، مگر میں نے کوئی قیمت نہیں لی۔”

واپسی پر، میں ان مزدوروں سے ملی جو ریگستان میں چھوڑے جانے کے باوجود دو ہفتوں بعد زندہ واپس لوٹے تھے۔ ان کے گھروں میں بکریاں ذبح ہو رہی تھیں، غم نہیں، بلکہ حیرت اور شکر کا منظر تھا:

“ہمیں لگا تھا وہ مر گئے ہیں… مگر وہ واپس آ گئے۔”

انہوں نے بتایا کہ کس طرح ان سے پانی چھین کر ریت میں بہا دیا گیا، روٹیاں پھینک دی گئیں اور گاڑیوں کے انجن ناکارہ کر دیے گئے تاکہ وہ موت کے حوالے کر دیے جائیں۔ یہ کہانیاں نہیں، بلکہ ایک قوم کی نسل کشی کی داستان ہیں۔

مستونگ سے کوئٹہ تک لک پاس پر سینکڑوں موٹر سائیکل سوار تیل ڈھوتے نظر آتے ہیں۔ چند سو روپے کے عوض وہ روز اپنی جان داؤ پر لگاتے ہیں، چیک پوسٹوں پر ادائیگیاں کرتے ہیں اور اس کے باوجود تشدد کا سامنا کرتے ہیں۔

ایک بار جب میں ویگن میں کوئٹہ جا رہی تھی تو لک پاس پر ہماری گاڑی کو معمول کے مطابق شناخت کے نام پر روکا گیا۔ وہاں سینکڑوں تیل بردار موٹر سائیکلیں کھڑی تھیں اور ایک اہلکار ہاتھ میں ڈنڈا لیے مزدوروں کو لائن میں لگا رہا تھا۔ اچانک اس نے ڈنڈے کے سرے پر لگے کیل سے ایک ڈبے پر وار کیا، ڈبہ پھٹ گیا اور تیل بہنے لگا۔ مزدور نے جلدی سے ہاتھ رکھ کر سوراخ بند کرنے کی کوشش کی، مگر دوبارہ وار میں کیل اس کے ہاتھ میں جا لگی۔ وہ چیخ اٹھا، مگر بہتے تیل کو دیکھ کر اپنی تکلیف بھول گیا اور دوبارہ ہاتھ رکھ دیا۔ یہ منظر ایک لمحے کا تھا، مگر ایسے سینکڑوں لمحے روز جنم لیتے ہیں۔

گوادر جاتے ہوئے تلار چیک پوسٹ پر سینکڑوں گاڑیاں کئی دنوں تک انتظار کرتی ہیں۔ شدید گرمی میں مزدور مسافروں سے پانی مانگتے نظر آتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے قیامت کا منظر ہو اور وہ مزدور ہر روز اس قیامت سے گزرتے ہیں۔ تین تین دن تک قطار میں کھڑے رہتے ہیں، پانی اور خوراک ختم ہو جاتی ہے، اور پھر بھی کئی بار مہینوں تک بارڈر بند کر کے ان کی روزی چھین لی جاتی ہے۔

بلوچ نسل کشی کے ساتھ ساتھ بلوچوں کا معاشی قتل عام بھی جاری ہے۔ مگر آج جو لوگ مزدوروں کے حقوق پر تقاریر کرتے ہیں، وہ بلوچستان کے مزدور کا ذکر کرنے سے گریز کرتے ہیں، کیونکہ یہاں مسئلہ صرف غربت نہیں بلکہ طاقت، شناخت اور جبر کے اس نظام کا ہے جسے چیلنج کرنا آسان نہیں۔

یہ تحریر ان ہزاروں بلوچ مزدوروں کے نام ہے جو روزی کی تلاش میں ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں، جن کی عزتِ نفس ہر روز ریاستی فوج کے ہاتھوں مجروح ہوتی ہے، جو بھوک اور پیاس سہتے ہیں، کوڑے کھاتے ہیں، اور بعض اوقات خاموشی سے مار دیے جاتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے نام ہے جو ان کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے جیلوں میں ہیں، بے گھر ہیں یا گمشدہ ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔