جی ہاں، میں مانتا ہوں آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے، جس کے ہم قابل نہیں ہیں – نیاز بلوچ

39

جی ہاں، میں مانتا ہوں آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے، جس کے ہم قابل نہیں ہیں

تحریر: نیاز بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تنقید برائے تعمیر ہمارا حق ہے۔ اگر واقعی سچ میں یہ حقیقت نہیں ہے، پھر کیوں اتنے سیخ پا ہو رہے ہو؟ اگر سننے کی ہمت ہے تو ذرا کان کھول کر سن لو۔

ہم بی ایل اے اور بی ایل ایف کو نہیں، گورنمنٹ آف پاکستان کو ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جس طرح پنجاب گورنمنٹ آف پاکستان کو ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اسی مد میں گورنمنٹ آف پاکستان کی طرف سے آپ کو ہر طرح کی، ہر قسم کی سہولت میسر ہے۔ جیسے آپ ٹیکس ادا کرتے ہو، اسی طرح بلوچ بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ پھر آپ ایک نمبر کے پاکستانی شہری اور بلوچ تھرڈ نمبر کے پاکستانی شہری کیوں ہیں، جبکہ میرا، آپ کا، وزیراعظم کا، چیف جسٹس کا اور فیلڈ مارشل آرمی چیف کا شناختی کارڈ ایک ہی ہے؟

جاہلیت، اکلیت، باشعوریت اور بے شعوریت کسی بلوچ کو سکھانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ شعور اور تہذیب اللہ پاک نے بلوچ قوم کو ہمارے آباؤ اجداد سے تحفے میں دی ہے۔ بلوچ آج غیر تعلیم یافتہ ہو کر بھی پورے پاکستان میں سیاسی شعور اور تہذیب میں نمبر ون طبقہ ہے۔ یہ میں نہیں، پاکستان کے فیلڈ مارشل، آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس پی آر نے خود اپنی زبان سے کہا ہے اور اس چیز کو پاکستان کے خفیہ ادارے بھی تسلیم کرتے ہیں، مانتے ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ایک بار نہیں، بار بار کہا ہے۔

 آج کل کے کچھ رٹے رٹائے ٹھٹو ڈفرز بڑے آئے ہیں بلوچ کو شعور سکھانے۔ مطالعہ پاکستان سے نکل کر ذرا برصغیر اور دنیا کی تاریخ بھی پڑھا کریں۔ آج کل کے سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلوں کے انٹلیکچولز اس زمانے میں انگریزوں کے کتوں کو کپڑے، ان کی بلیوں کو دودھ، ان کے گدھے گھوڑوں کی دیکھ بھال اور ان کے جوتوں کو پالش کیا کرتے تھے لیکن بلوچ قوم نے اسی زمانے میں انگریزوں کے خلاف ایسی مزاحمتی تحریک چلائی جو آج بھی دنیا بھر کی تاریخی کتابوں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ یہ میں نہیں، ہمارے بڑے بڑے پنجابی دانشور ایک بار نہیں، کئی بار ٹی وی پر کہہ چکے ہیں۔

تو کجا قلندر اور کجا جلو فقیر، بڑے آئے ہو تیرے میرے پہ بلوچ قوم کو تہذیب اور شعور سکھانے والے۔

ہاں، میں مانتا ہوں آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے۔ گوادر یونیورسٹی، ان لاہور، آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے۔ گوادر سپورٹس سٹی کمپلیکس، ان لاہور، آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے۔ سی پیک سے بنی گوادر کینسر ہسپتال، ان نارووال، آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے۔

ہاں، میں مانتا ہوں آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے۔ آج کے اے آئی اور 5G کے دور میں بلوچستان کے 90 فیصد علاقوں میں انٹرنیٹ نہیں، موبائل ڈیٹا نہیں ہے۔ 60 فیصد علاقوں میں موبائل نیٹ ورک نہیں۔ ایک خبر یا پوسٹ کرنے کے لیے ہمیں دور دراز گاؤں اور تحصیل سے بازار، سرکاری دفاتر پر آنا پڑتا ہے، جس سے ہزاروں بلوچ بچوں کے کالجز، یونیورسٹیز، آن لائن کلاسز اور زندگی تباہ ہو رہی ہیں۔ یہ ہمیں بھی سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ آپ بلوچستان کو کس ترقی کی جانب لے کر جا رہے ہو۔ بلوچستان کے لوگ کینسر، شوگر، فالج، زچگی، جگر اور گردوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ بلوچستان میں صحت کا کوئی ایسا مرکز نہیں جس سے بروقت ان کا علاج ہو سکے، جس سے سینکڑوں کی تعداد میں روزانہ لوگ مر رہے ہیں۔

ہاں، میں مانتا ہوں آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے۔ ایگریکلچر، زراعت، لائیو اسٹاک، محکمہ جنگلات جیسے بڑے بڑے ادارے بلوچستان میں خالی کریٹ کی مانند ہیں۔ آپ خود جا کر وزٹ کرو، بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے۔ تعلیم کی اگر بات کریں تو آج بھی بلوچستان کے ہزاروں دیہاتوں میں اسکول نہیں ہیں۔ جہاں پر اسکول پرائمری یا مڈل ہیں تو ان میں گیس، بجلی، پانی کی سہولتیں نہیں ہیں۔ اور اسکول نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں بلوچوں اور پشتونوں کے بچے آج دربدر ذلیل ہیں۔ جن علاقوں میں اسکول ہیں تو اساتذہ نہیں ہیں، ہزاروں سیٹیں اسکولوں میں خالی ہیں، وہ فل نہیں کی جاتیں، جس سے بچوں کا مستقبل برباد ہو رہا ہے۔ اگر آپ جان کر بھی نہیں جاننا چاہتے تو ابھی گوگل اور چیٹ جی پی ٹی کرو تو آپ کو یہ سب پتہ چل جائے گا۔

کون جنتی ہے اور کون جہنمی ہے، یہ حق میرے اللہ پاک کی ذات نے اپنے پاس رکھا ہے۔ اور ہماری اتنی اوقات نہیں کہ وہ سرٹیفکیٹ کسی ٹی وی چینل، کسی بلوچ یا کسی پنجابی کو دے دیں۔ اللہ پاک نے یہ اختیار کسی کو نہیں دیا کہ “آپ مجھے جہنم میں بھیجو اور خود جنت میں جا کر عیاشی کرو۔” میرے اور آپ کے تنگ نظر میں ناانصافی ہے، لیکن اس کے نظر میں ناانصافی نہیں ہے۔ لہٰذا ہم پاکستان کے ٹھیکیدار بن جائیں تو ٹھیک ہے، لیکن دینِ اسلام میں جنت و دوزخ کے ٹھیکیدار بننے کی کوشش نہ کریں تو بہتر ہے۔ خیر، آپ کا تو نہیں پتہ، لیکن ہم اپنی اوقات میں رہ کر وہ سرٹیفکیٹ اللہ پاک کے سوا اور کوئی کسی کو نہیں دے سکتا۔ جبکہ پیغمبر دو جہان، نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دنیا میں بغیر دس صحابیوں کے اپنے کسی دوسرے صحابی کو جنت کا ٹکٹ نہیں دیا، اور اپنے چچا (ابو لہب) کو جہنم کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا، تو میں اور تو کون ہیں؟ میری اور تیری اوقات کیا ہے کہ کسی کو دوزخ اور کسی کو جنت کا سرٹیفکیٹ دیے دے۔

ہاں، میں مانتا ہوں آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے۔ حال ہی میں بلوچستان میں پٹواری کے 300 پوسٹوں کے لیے 47 ہزار تعلیم یافتہ بچوں نے تحریری ٹیسٹ دیا ہے، اور یہ 47 ہزار تعلیم یافتہ بچوں کا تحریری ٹیسٹ دینا بلوچستان جیسے علاقے میں، جہاں تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے، تو اس سے صاف پتہ چلتا ہے ہم پڑھنا چاہتے ہیں، ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں، لیکن آپ پڑھنے نہیں دیتے ہو۔ آپ بلوچ کو کچھ بننا پسند نہیں کرتے ہو۔ میں نے خود میڈیا اسٹڈیز میں یونیورسٹی آف بلوچستان سے ماسٹرز کیا ہے، لیکن میرے پاس میں ہوں، میرا موبائل ہے، اللہ کا نام ہے اور ماما جی کے خالی ٹیلے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یہ میرے لیے نہیں، آپ کے لیے سوچنے کی بات ہے۔ پھر کہتے ہو کہ تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان پہاڑوں پہ جا رہے ہیں۔

اور ہاں، بات رہی بلوچ سرداروں اور نوابوں کی، جنہیں کبھی بھی کسی بھی بلوچ نے کسی بھی دور میں اپنے شوق سے اپنا نمائندہ منتخب نہیں کیا ہے۔ اور بلوچستان میں آج بھی کوئی بھی باشعور بلوچ ان میں سے کسی بھی سردار و نواب کو اپنا نمائندہ نہیں مانتا۔ جو کوئٹہ سے اسلام آباد تک اسمبلیوں میں بیٹھ کر خود کو بلوچ قوم کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی سردار و نواب بلوچ قوم کے ہمدرد، غم خوار یا امنوا نہیں ہے۔ یہ جن کے تھے، انہی کے ہیں۔ بلوچی کپڑے، بلوچی دستار، بلوچی چوٹ پہننے یا اپنے نام میں بلوچ لکھنے سے کوئی بھی بلوچ نہیں بن سکتا۔ بلوچ بننے کے لیے بلوچ بننا پڑتا ہے، چاپلوس نہیں۔ جو ایک کپ چائے کے لیے ہر جگہ جا کر بلوچ قوم کی نسلوں کا، شناختِ ساحل و وسائل کا سودا لگا کر آ جائے، وہ بلوچ ہو ہی نہیں سکتا۔ جو بلوچ قوم کی نہیں، اپنی مفاد کو دیکھتا ہے۔

ہاں، میں مانتا ہوں آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے۔ پنجاب کی یونیورسٹیاں پتہ نہیں آپ نے دیکھی ہیں یا نہیں، میں نے تو دیکھی ہیں، بالکل کھلا ماحول ہے۔ لیکن بلوچستان کی یونیورسٹیز میں آپ جاؤ تو جگہ جگہ ہاسٹل اور کلاسز کے سامنے سیکیورٹی کی چوکیاں بنی ہوئی ہیں۔ بلوچوں کے تعلیمی اداروں میں بھی خوف کا ماحول بنا دیا گیا ہے۔ اس طرح کے خوف کے عالم میں کون پڑھ سکتا ہے؟ آپ اگر پڑھ سکتے ہو تو ویلکم ٹو یونیورسٹی آف بلوچستان، لیکن ہم پھر بھی بندوقوں کے سائے میں بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

ہاں، میں مانتا ہوں آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے۔ اور آج بھی ہمارے 90 فیصد علاقوں میں پینے کا صاف پانی نہیں، 50 فیصد علاقوں میں بجلی نہیں، 80 فیصد علاقوں میں گیس نہیں، اور یہ وہی بلوچستان کی گیس ہے جو پورے پاکستان کو چلا رہی ہے۔ ہمارے لوگ بھوک، پیاس اور بیماریوں سے مر رہے ہیں۔ پاکستان دنیا میں نمبر ون اسلامی ملک ہے۔ پنجاب اور اسلام آباد میں ٹرام، بس، اورنج لائن ٹرین، میٹرو، سپیڈو اور الیکٹرانک بسیں اور ٹرینیں چلتی ہیں، لیکن بلوچستان آج بھی دنیا بھر میں دنیا کا نمبر ون غریب خطہ ہے جو سطحِ غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ ہے سی پیک، سیندک، ریکوڈک، سوئی گیس، گوادر پورٹ، بلوچستان اور بلوچ قوم کی اصل ترقی۔

ہاں، میں مانتا ہوں آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے۔ سڑکیں بنانا آپ نے آج شروع کیا ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے سڑکیں کہاں تھیں؟ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں لوگ سنگل سڑکوں کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ پہلے آپ کہاں تھے؟ پہلے آپ کو کیوں خیال نہیں آیا یہ سڑکیں بنانے کا؟ پنجاب اور سندھ میں بڑے بڑے ہائی ویز، موٹرویز پتہ نہیں کیا کیا آپ نے نہیں بنا لیا۔

ہاں، میں مانتا ہوں آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے۔ آپ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے پرنس روڈ پر ایک چکر لگاؤ۔ ادھر سے آپ اپنے لیے پانچ روپے کا دہی لے کر نکل جاؤ تو وہ لسی بن جاتی ہے۔

ہاں، میں مانتا ہوں آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے۔ پورے بلوچستان میں ایک فیکٹری نہیں ہے، اور پھر بڑی بڑی ماربل جو بلوچستان کے پہاڑوں سے نکلتی ہیں ان کی فیکٹریاں پنجاب میں قائم کر دی گئیں۔ یہاں سے پتھر لے جا کر پنجاب میں ماربل بناتے ہیں۔ کم از کم وہ تو یہاں پر بناتے، بلوچوں کو ہماری پہاڑوں سے تھوڑی سی روزگار ملتی، شان ہے خدا کا وقت ہے، گوگڑا کا، ہماری پہاڑوں کے پتھروں کی فیکٹریاں بھی پنجاب اور سندھ میں بنی ہوئی ہیں۔

ہاں، میں مانتا ہوں آپ نے بلوچستان کو بہت ترقی دی ہے۔ اور بات اگر بی ایل اے (BLA) اور بی ایل ایف (BLF) کی ہے تو بی ایل اے 2002-2003 میں بنی۔ اس سے پہلے جو 60 سال بلوچستان پاکستان میں رہا ہے، 1948 سے وہ 60 سالوں میں جب بی ایل اے نہیں تھی، آپ نے کیا کیا ہے بلوچوں کے لیے؟ یہ اتنی بڑی مسئلہ اچانک ایک دم سے تو نہیں بنی ہے نا۔

اور تو اور ہمیں بلوچستان میں ایسے خوف میں رکھا گیا ہے کہ ہم اپنے حق کے لیے ایک پوسٹ تک نہیں کر سکتے۔ اگر ہم ایک پوسٹ بھی کریں تو پنجاب سے ہمیں سینکڑوں دھمکیاں موصول ہوتی ہیں اپنے حق کے لیے بات کرنے پر۔ اور آپ بار بار یہ BLA-BLF کرتے ہو، اپنی شاطر چالوں سے ہر پرامن بلوچ شہری کو BLA-BLF سے جوڑتے ہو۔ بقول آپ، پھر تو پورا بلوچستان BLA-BLF میں ہے، بغیر سرفراز بگٹی اور علی مدد جتک کے۔ پھر تو یہ آپ کے لیے ایک المیہ ہے، ایک لمحۂ فکر ہے، علم ناک ہے، جس پر آپ کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ جاؤ جا کر میری آئی ڈی میں چیک کرو، آج تک میں نے کون سی پوسٹ BLA-BLF کے لیے کی ہے۔ آپ نے پاکستان کو اوپر نیچے کر کے خزانے خالی کر کے باہر ممالک میں لے گئے، پاکستان کو آج مارو یا مر جاؤ کے مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ہے، پھر بھی آپ وفادار ہو، اور ہم اپنے حق کے لیے، اپنی بنیادی ضروریات کے لیے ایک بات کریں تو ہم غدار ہیں۔

“پھر بھی کہتے ہو کہ بلوچ وفادار نہیں، بلوچ اگر وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں”


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔