بلوچستان: مزید 5 افراد جبری لاپتہ، 5 بازیاب

17

کوئٹہ اور بارکھان میں جبری گمشدگیوں کے مزید واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق 6 مئی 2026 کی رات تقریباً ایک بجے کوئٹہ کے علاقے ایئرپورٹ روڈ پر چھاپوں کے دوران 15 سالہ سرفراز بلوچ ولد محمد خان اور 15 سالہ ریحان بلوچ ولد سلطان بلوچ کو ان کے گھر سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

اسی طرح 12 اپریل 2026 کو 21 سالہ طالب علم معیب اللہ ولد عبدالباقی کو منیر احمد روڈ، کوئٹہ سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لیا۔ معیب اللہ کا تعلق کردگاپ، مستونگ سے ہے اور وہ تاحال لاپتہ ہیں۔

دوسری جانب 3 مئی 2026 کو بارکھان میں رات ایک بجے 41 سالہ غلام رسول ولد حاجی نظام الدین، جو ایک ریٹائرڈ نادرا افسر ہیں، اور 47 سالہ عبداللہ جان ولد حاجی نظام الدین کو ان کے گھروں سے حراست میں لے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق دونوں کو سی ٹی ڈی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے، تاہم ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

ادھر کوئٹہ میں جبری لاپتہ بعض افراد کی بازیابی بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق 28 اپریل 2026 کو بریوری روڈ، کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے عبدالغفار بلوچ ولد رسول بخش اور علی رضا بلوچ ولد رسول بخش کو 5 مئی 2026 کو رہا کردیا گیا۔

اسی طرح قمبرانی روڈ، کوئٹہ سے 24 اپریل 2026 کو لاپتہ کیے گئے لعل خان قمبرانی ولد جعفر خان قمبرانی، منور قمبرانی ولد غلام علی، اور سراج قمبرانی ولد غنی قمبرانی کو 4 مئی 2026 کو ایئرپورٹ روڈ، کوئٹہ میں بازیاب کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں