بائیس کارروائیوں میں قابض فوج کے 13 اہلکار ہلاک؛ مرکزی پلوں اور شاہراہوں پر تنظیمی کنٹرول برقرار — بی ایل اے

79

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے کہا ہے کہ سرمچاروں نے تئیس مئی سے اکتیس مئی کے درمیانی عرصے میں مختلف علاقوں میں بائیس منظم کارروائیاں سرانجام دیں، جن میں قابض فوج، پولیس اور آلہ کار ڈیتھ اسکواڈ کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں قابض فوج کے ۱۳ اہلکار ہلاک اور ۸ زخمی ہوگئے، جبکہ پولیس اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ ضبط کرلیا گیا۔ اس دوران بلوچستان کی مرکزی شاہراہوں پر سرمچاروں کا کنٹرول مکمل طور پر برقرار رہا، جہاں قابض فوج کی رسد منتقل کرنے والی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ، تنظیم کے انٹیلی جنس ونگ ‘زراب’ کی خفیہ اطلاعات پر ڈیتھ اسکواڈ کے سرگرم کارندوں کی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔ قابض فورسز کے ساتھ ہونے والی ان شدید جھڑپوں کے دوران بی ایل اے کے سرفروش سرمچار سنگت چاکر نے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

ترجمان نے کہاکہ ۲۳ مئی: شال (کوئٹہ) کے علاقے پنجپائی میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج اور سی ٹی ڈی کے اس مشترکہ دستے کو ایک مربوط جال میں لے کر نشانہ بنایا جو علاقے میں فوجی جارحیت کی غرض سے پیش قدمی کررہا تھا۔ سرمچاروں نے شاہراہ پر بارود سے بھری ایک گاڑی کے ذریعے ریموٹ کنٹرول دھماکہ کیا، جس کی زد میں قابض فورسز کی دو گاڑیاں اور پیدل دستے آ گئے۔ اس کامیاب دھماکے کے نتیجے میں سی ٹی ڈی کے چار اہلکار موقع پر ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔ اس کے فوراً بعد، سرمچاروں نے قابض فوج کے دیگر عسکری دستوں پر گھات لگا کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دشمن کے مزید تین اہلکار ہلاک ہوگئے۔ اس شدید جھڑپ کے دوران سرمچار سنگت چاکر نے دھرتی کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت کا رتبہ پایا۔ اسی روز خاران کے علاقے گرُک میں سرمچاروں نے قابض فوج کی ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی کے ذریعے نشانہ بنا کر شدید مالی و جانی نقصان سے دوچار کیا۔ علاوہ ازیں، نوشکی میں مَل کے مقام پر سرمچاروں نے کوئٹہ۔تفتان قومی شاہراہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے قابض فوج کے لیئے لاجسٹک رسد لے جانے والی پانچ گاڑیوں کو نذرِ آتش کردیا۔

انہوں نے کہاکہ ۲۴ مئی: مستونگ کے علاقوں کردگاپ اور کانک میں دو مختلف آپریشنز کے دوران قابض فوج کو آئی ای ڈی اور گھات لگا کر کیئے گئے حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں دشمن کے چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اسی تسلسل میں، ببری کے مقام پر کوئٹہ۔تفتان روٹ پر ناکہ بندی کرکے قابض فوج کی آٹھ رسد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ ۲۵ مئی: بسیمہ کے مقام پر سرمچاروں نے ایک کارروائی کے دوران شمشی ایئربیس کے لیئے ایندھن لے جانے والے ایک آئل ٹینکر کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد نذرِ آتش کر دیا۔ اسی روز مستونگ کے علاقے کردگاپ میں کوئٹہ۔تفتان شاہراہ پر کارروائی کرتے ہوئے مزید چار رسد گاڑیاں تباہ کی گئیں۔ جبکہ پنجگور کے علاقے چتکان میں ڈپٹی کمشنر دفتر پر سیکیورٹی کے لیئے تعینات عسکری اہلکاروں پر ایک کامیاب دستی بم حملہ کیا گیا۔

ترجمان نے کہاکہ ۲۶ مئی: بی ایل اے کے سرمچاروں نے دالبندین میں کوئٹہ۔تفتان شاہراہ پر واقع اہم سورگل پل کو اور خاران میں خاران۔کوئٹہ شاہراہ پر واقع ایک مرکزی پل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر تباہ کر دیا، جس سے دشمن کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ اسی روز سرمچاروں نے بیک وقت دو مختلف مقامات پر ناکہ بندی کی، جن میں خاران۔کراچی شاہراہ کو ساروان کے مقام پر اور خاران۔کوئٹہ شاہراہ کو نوروز قلات کے مقام پر کئی گھنٹوں تک تنظیمی کنٹرول میں رکھا گیا۔ اس دوران نوشکی کے علاقے جنگلات میں قابض فوج کی چار رسد گاڑیوں کو روک کر نذرِ آتش کیا گیا۔ قلات کے علاقے گرآپ میں قابض پاکستانی فوج کے پیدل اہلکاروں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی پوسٹ کے لیئے پانی لے جا رہے تھے۔ اس حملے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ اسی روز مستونگ کے علاقے کردگاپ میں سرمچاروں نے پیش قدمی کرنے والے دشمن کے دستوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ اس ناکامی پر قابض فوج نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے قریبی عام آبادی پر اندھا دھند شیلنگ کی، تاہم سرمچاروں نے اپنی پوزیشنز کو مضبوطی سے برقرار رکھتے ہوئے دشمن کے پیدل دستوں پر مؤثر جوابی وار کیئے اور انہیں پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔

بیان میں کہاکہ ۲۷ مئی: عید کے روز بی ایل اے کے سرمچاروں نے خاران میں عوامی عید اجتماعات میں بھرپور شرکت کی اور عوام سے تنظیمی و سیاسی خطابات کیئے۔ مستونگ کے علاقے اسپلنجی میں بھی سرمچاروں نے عید کے روز پورے علاقے کا کنٹرول سنبھال کر مقامی آبادی سے ملاقاتیں کیں۔ اس دوران قابض فوج خوف کے باعث کیمپ سے باہر آنے کی ہمت نہ کرسکی، تاہم انہوں نے اپنے کیمپ سے عام آبادی پر مارٹر کے اندھے گولے فائر کیئے جس کی زد میں آ کر چار عام شہری زخمی ہو گئے۔ اسی روز بسیمہ کے علاقے ساجد میں سرمچاروں نے ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہم کارندے محمد بخش سمالانی کے ٹھکانے پر حملہ کر کے اسے ہلاک کر دیا، جبکہ اس کے دیگر مسلح ساتھی میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ سرمچاروں نے اس کے ٹھکانے سے تمام اسلحہ اور فوجی ساز و سامان اپنے قبضے میں لے لیا۔ پنجگور کے علاقے پھل آباد میں سی پیک (CPEC) روٹ پر سرمچاروں نے کئی گھنٹوں تک ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کی، جس کے دوران ریاستی ادارے نادرا (NADRA) کی ایک گاڑی کو تحویل میں لے کر اس کے سرکاری سامان سمیت نذرِ آتش کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں، خضدار کے علاقے باغبانہ میں سمبان کے مقام پر سرمچاروں نے عوام کی شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے چار پولیس اہلکاروں کو حراست میں لیا، جن پر گاڑیوں سے غیر قانونی بھتہ وصول کرنے کا الزام تھا۔ سرمچاروں نے ان کا اسلحہ ضبط کیا اور آئندہ ایسی عوامی استحصال پر مبنی سرگرمیوں سے باز رہنے کی سخت تنبیہ کرکے انہیں رہا کردیا۔

ترجمان نے کہاکہ ۲۸ مئی: تمپ کے علاقے بالیچہ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے مرکزی کیمپ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے، جس سے دشمن کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچا۔

۳۰ مئی: نوشکی کے علاقے نیامدرگی کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے ایک عسکری قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا اور دشمن کی صفوں میں بھاری نقصانات کیئے۔ اسی روز نوشکی کے علاقے قادر آباد میں ‘زراب’ کی فراہم کردہ خفیہ معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کو شناخت کے بعد حراست میں لے لیا گیا، جس کے بعد سرمچاروں نے مرکزی شاہراہ پر سیکیورٹی کنٹرول سنبھال لیا۔

آخر میں کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی دھرتی پر غاصب کے مکمل خاتمے اور حاکمیتِ اعلیٰ کے قیام تک اپنی کارروائیاں اسی شدت اور عزم کے ساتھ جاری رکھنے کا اعادہ کرتی ہے۔