انقلابی سرمچار اور سامراجی غلامی کے خلاف مزاحمت کا بیانیہ
تحریر: گلزمین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچ سرمچار محض ایک روایتی فوج کا حصہ نہیں ہیں بلکہ ہم ایک حقیقی انقلابی لشکر ہیں کیونکہ قومی فوج کے مقابلے میں ایک انقلابی سپاہی دشمن کے خلاف زیادہ شدت، جنون اور ہمت سے لڑ سکتا ہے۔ ایک انقلابی جنگجو کا ذہن دوسری تمام عام فوجوں کے مقابلے میں بہت مختلف، وسیع اور بلند ہوتا ہے۔
ہم نے جب ہوش سنبھالا اور آنکھ کھولی تو اپنے معاشرے میں چاروں طرف دشمن کا جابرانہ قبضہ دیکھا، یہاں تک کہ ہمارے مقدس گھروں کے اندر بھی دشمن کا راج تھا اور اس سامراجی نظام نے ہماری ہستی اور پوری دنیا برباد کر کے رکھ دی ہے۔ ایک بلوچ بچے نے بچپن سے ہی ایک ایسی انقلابی دنیا میں پرورش پائی ہے جس میں اس کے سامنے صرف اپنوں کی قربانیاں اور اپنوں کی لہو رنگ لاشیں موجود تھیں۔ ہمیں اس ظالم سامراج نے زندگی گزارنے کے لیے صرف اپنے پیاروں کے جنازے تحفے میں دیے ہیں۔
اس وقت بلوچ قوم کے پاس صرف دو ہی دو ٹوک راستے بچے ہیں: پہلا راستہ سامراج کے خلاف مسلح جنگ اور اٹل مزاحمت کا ہے، جبکہ دوسرا راستہ سامراج کے سامنے سر جھکا کر اس کے ساتھ مل جانا، اپنی زمین کے لوگوں کو غلام بنانا، ان کے گھروں پر زبردستی قبضہ کرنا، دشمن کو اپنی پاک سرزمین پر راج کرنے کا حق دینا، سامراج کے نقش قدم پر چل کر اپنی قدیم ثقافت کو نقصان پہنچانا اور اپنی عظیم تاریخ کو جھوٹا ثابت کرنا ہے۔ جو لوگ سامراج کا ساتھ دیتے ہیں وہ بلوچ مسئلے کو حل کرنے کے بجائے الٹا اپنوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہیں۔ لیکن ہمارا راستہ وہ دوسرا راستہ ہے جو مزاحمت کا ہے، اور جو ہماری آخری سانس تک دشمن کے خلاف جاری رہے گی۔
اگر آج یہ مقدس جنگ نہ ہو رہی ہوتی تو ہمیں اپنی سرزمین پر سانس لینے میں بھی شدید دشواری ہوتی اور ہماری شناخت مٹ چکی ہوتی۔ ہم وہ انقلابی سپاہی ہیں جنہیں اپنی مٹی اور زمین کی حفاظت کرنے کا ہنر بہت اچھی طرح آتا ہے۔ ہم پورے بلوچستان میں سمندر کی لہروں سے لے کر سنگلاخ پہاڑوں کی چوٹیوں تک ہر جگہ موجود ہیں۔ ہم نے ظلم اپنی آنکھوں سے براہ راست دیکھا ہے، اسی لیے ایک انقلابی سرمچار ہی اپنے کلچر، اپنی روایات اور اپنی تاریخ کی حقیقی اور ابدی حفاظت کر سکتا ہے۔
ایک انقلابی فوج اور ایک روایتی تنخواہ دار فوج میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ہم نے جو بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ان قربانیوں کے تسلسل نے ہی ہمیں فولادی انقلابی بنا دیا ہے۔ ہماری زندگیاں سامراج نے اگرچہ مشکل بنا دی ہیں، لیکن ہمیں یہ کامل بھروسہ ہے کہ سامراج ایک دن ہماری زمین کو خود چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو جائے گا۔
یہ جنگ دو مختلف اور اہم محاذوں پر لڑی جا رہی ہے: ایک سامراج کے خلاف براہ راست ہتھیار اٹھانا اور دشمن کے کیمپوں میں جا کر اسے نشانہ بنانا ہے، اور دوسرا محاذ نظریاتی اور فکری جنگ کا ہے۔ بلوچستان میں سرمچاروں نے ان دونوں جنگوں کا بیک وقت آغاز کر دیا ہے۔ دشمن اس وقت ذہنی طور پر اتنا منتشر اور پریشان ہے کہ اسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب اور کس وقت بلوچ سرمچار اس کے محفوظ سمجھے جانے والے کیمپوں میں آ کر اسے عبرتناک شکست دے دیں گے۔ دشمن کو نظریاتی طور پر مارا جا چکا ہے اور اسی خوف کی وجہ سے کئی علاقوں میں فوجوں نے اپنے کیمپ خالی کر دیے ہیں۔ یہ ہماری نظریاتی جنگ کی بہت بڑی کامیابی ہے۔
ہم وہ سرمچار ہیں جنہوں نے اپنی تمام ذاتی خواہشات، اپنا آرام اور اپنی خوشیاں وطن کی آزادی پر قربان کر دی ہیں، اور اسی بے غرض جذبے نے ہمیں ناقابل تسخیر اور مضبوط بنایا ہے۔ ہم کوئی تنخواہ خور فوجی نہیں ہیں، کیونکہ ایک تنخواہ خور فوجی صرف اپنے پیٹ اور اپنی مادی خواہشات کے پیچھے زندہ رہتا ہے، اور وہ ہمیشہ میدان جنگ میں ذلت کے ساتھ ہار جاتا ہے، کیونکہ وہ ذہنی طور پر موت کے لیے تیار نہیں ہوتا، اور اس کا واحد مقصد صرف مراعات اور پیسے کا حصول ہوتا ہے۔
اس کے برعکس بلوچ سرمچار کے دل میں کوئی ذاتی تمنا یا لالچ نہیں ہے، اس کی واحد خواہش اور منزل دشمن کو اس کی جارحیت سمیت سرزمین سے بے دخل کرنا ہے۔ ایک بلوچ سرمچار کئی کئی مہینے صرف سوکھی روٹی کے ٹکڑوں پر پہاڑوں میں گزارا کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ذہنی اور جنگی مہارت میں ایک مراعات یافتہ تنخواہ خور فوجی سے کہیں زیادہ طاقتور اور ثابت قدم ہے۔
سامراج نے بلوچستان کی سرزمین کو تقسیم کیا، ہمارے وسائل کو لوٹا، اور ہم پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے، لیکن اب دشمن کے لیے زمین تنگ ہو چکی ہے۔ سامراج کو اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ ہماری جڑیں عوام میں کتنی گہری ہیں، اور ہم کس خاموشی اور شدت سے اسے ہر محاذ پر شکست دے رہے ہیں۔ ہم نے اپنوں کی لاشوں سے وہ ہمت حاصل کی ہے جو کسی اسلحے سے نہیں مل سکتی، اور یہی انقلابی مزاحمت اب ہماری فتح تک جاری رہے گی۔
اس طویل جدوجہد میں ہر قدم پر ہم نے یہ سیکھا ہے کہ آزادی کی قیمت خون سے ادا کرنی پڑتی ہے، اور ہم وہ سوداگر ہیں جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک آزاد اور باوقار مستقبل خریدنا چاہتے ہیں۔ دشمن کے پاس جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی ہو سکتی ہے، لیکن ہمارے پاس وہ ایمانی طاقت اور حب الوطنی کا جذبہ ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔
ہماری یہ جنگ صرف سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمارے وقار، ہماری غیرت اور ہماری بقا کی جنگ ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید توانا ہوتی جا رہی ہے، اور جب تک ایک بھی بلوچ سرمچار زندہ ہے وہ سامراج کے ناپاک عزائم کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا رہے گا کیونکہ ہم نے موت کو گلے لگانا سیکھ لیا ہے، اور جو قوم موت سے ڈرنا چھوڑ دے اسے دنیا کی کوئی طاقت مغلوب نہیں کر سکتی۔
اس کے علاوہ سامراج کے پڑوسیوں اور اس کے ایجنٹوں کو بھی یہ جان لینا چاہیے کہ ہماری سرزمین پر کسی بھی قسم کی جارحیت یا دشمن کا ساتھ دینے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ جو لوگ اپنی مٹی سے غداری کر کے سامراج کے پڑوس میں بیٹھ کر سازشیں کرتے ہیں وہ تاریخ کے سیاہ پنوں میں گم ہو جائیں گے، جبکہ حق و سچ کی یہ جنگ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہے گی، اور سامراجی طاقتوں کا غرور اسی سرزمین پر خاک میں مل جائے گا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































