کوئٹہ: خدیجہ بلوچ کیس، لواحقین کی پریس کانفرنس، انصاف نہ ملا تو احتجاج میں شدت کا اعلان

16

کوئٹہ میں بولان میڈیکل کمپلیکس (BMC) کے سامنے خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف جاری احتجاجی دھرنے کے دوران آج لواحقین کی جانب سے ایک تفصیلی پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں انہوں نے واقعے سے متعلق اپنے مؤقف، مطالبات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ خدیجہ بلوچ، جو ایک نرسنگ کی طالبہ ہیں، کو 22 اپریل کی رات بی ایم سی گرلز ہاسٹل سے بغیر کسی قانونی وارنٹ کے حراست میں لیا گیا، اور تاحال انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ اگر خدیجہ بلوچ پر کوئی الزام ہے تو انہیں فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ شفاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے، بصورت دیگر انہیں فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔

لواحقین نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا تسلسل ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے، اور خواتین کو بھی اس عمل کا نشانہ بنانا صورتحال کو مزید تشویشناک بنا رہا ہے، جس سے معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے اجاگر کریں اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر لواحقین نے خبردار کیا کہ اگر خدیجہ بلوچ کو کل صبح تک بازیاب نہ کیا گیا تو وہ سی پیک روڈ کو بلاک کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ان کی مجبوری ہوگا تاکہ ان کی آواز سنی جائے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں اور یکجہتی کا اظہار کریں، کیونکہ ان کے مطابق اجتماعی آواز ہی انصاف کے حصول کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔