دھرتی سرخ ہوئی، حوصلے سربلند – بلوچستان کی آزادی کی جنگ
تحریر: شاری بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
جنگ محض ہتھیاروں کی ٹکراؤ نہیں بلکہ جذبات، قربانیوں اور آزمائشوں کا نام ہے۔ میدانِ جنگ میں ایک سپاہی اپنے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جان نچھاور کر دیتا ہے۔ ہر گولی کی آواز کے پیچھے کسی ماں کی دعا، کسی بہن کی آرزو اور پورے خاندان کی امید ہوتی ہے۔ جنگ تباہی لاتی ہے، مگر ساتھ ہی بہادری، اتحاد اور حوصلے کی نئی داستانیں رقم کرتی ہے۔
جب ایک سرمچار جنگ کے میدان میں قدم رکھتا ہے تو اس کے دل میں اپنے وطن کی مٹی کی خوشبو، اپنوں کی دعائیں اور آنے والی نسلوں کا خواب بسا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی قربانی مستقبل کی نسلوں کے سکون اور آزادی کی ضمانت بنے گی۔ وطن کے لیے لڑنے والے مرتے نہیں، وہ قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ان کی بہادری ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زمین کا ایک ایک ذرہ ہماری شناخت اور پہچان ہے۔ اس کی حفاظت ہمارا اخلاقی اور قومی فرض ہے۔
وطن کی محبت وہ طاقتور جذبہ ہے جو انسان کو ہر خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔ جب دشمن ہماری سرزمین کی طرف بڑھا تو اس نے یہ نہیں سوچا تھا کہ بلوچستان کے بیٹے اور بیٹیاں موت سے نہیں ڈرتے۔ ہمارے سرمچاروں نے اپنے سینے گولیوں کے سامنے تان دیئے۔ ہر گولی کی گونج ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آزادی ہمیں تحفے میں نہیں ملے گی، اسے خون دے کر چھینا ہوگا۔ ایک ماں کا دل ضرور ٹوٹتا ہے، مگر وہ سر اٹھا کر کہتی ہے: “میرا بیٹا بزدل نہیں تھا، وہ وطن پر قربان ہوا۔” یہی وہ لازوال جذبہ ہے جو قوموں کو زندہ رکھتا ہے اور دشمن کے دل میں خوف پیدا کرتا ہے۔
بلوچستان محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ برسوں سے جاری استعماری استحصال کا ایک زخم ہے، ایک چیخ ہے جو اب بھی گونج رہی ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں ہر گلی، ہر پہاڑ اور ہر درخت ظلم و جبر کی داستان سناتا ہے۔ دشمن نے طاقت کے زور پر، نیو کالونیلزم کی شکل میں یہاں کے لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش کی، ان کے وسائل لوٹے، ان کی شناخت مٹانے کی مذموم سازش کی۔ مگر وہ یہ بھول گیا کہ سچ کو کبھی قید نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں کے نوجوان گولیوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ انجام موت ہے، پھر بھی پیچھے نہیں ہٹتے، کیونکہ ان کے لیے غلامی سے بہتر موت ہے۔
ان کے لہو نے دھرتی کو سرخ کر دیا، مگر ان کے حوصلے آج بھی سربلند ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ شہیدوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ وہ ایک دن آزادی کی صبح لے کر ضرور آئے گا، چاہے اس کے لیے کتنی ہی تاریک راتیں کیوں نہ کاٹنی پڑیں۔ یہ جنگ صرف زمین کی نہیں، بلکہ شناخت، خودمختاری اور آزادی کی جنگ ہے۔ دشمن نے سوچا تھا کہ بندوق کے زور پر آوازوں کو خاموش کر دے گا، مگر ہر شہید کے بعد ایک نئی آواز اٹھتی ہے، زیادہ بلند، زیادہ مضبوط اور زیادہ پرعزم۔
آج اگر ہم خاموش رہے، اگر ہم نے ان لازوال قربانیوں کو نظر انداز کیا تو ہم بھی اس استعماری استحصال اور ریاستی جبر میں برابر کے شریک ٹھہریں گے۔ ہمیں اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔ وہ دن ضرور آئے گا جب یہ دھرتی آزادی کے نعروں سے گونج اٹھے گی اور بلوچستان زخموں کی کہانی چھوڑ کر فتح و آزادی کی شاندار داستان بن جائے گا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































