نور ملک – دی بلوچستان پوسٹ فیچر رپورٹ

231

 نور ملک

دی بلوچستان پوسٹ فیچر رپورٹ

بہزاد دیدگ بلوچ

 

جس وقت بلوچ سیاسی کارکنان سوشل میڈیا میں اور انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے بلوچ خواتین کا فورسز کے ہاتھوں ماورائے قانون گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں پر سراپا احتجاج تھے، اور عالمی اداروں سے اپیل کررہے تھے کہ وہ پاکستانی عسکری اداروں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بلوچ خواتین کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بند کرتے ہوئے ان پر تشدد و اغواء کا سلسلہ بند کریں، عین اسی وقت پنجگور کے علاقے گچک سے ایک خبر ” بریک ” ہوتی ہے کہ فورسز ایک اور بلوچ خاتون بی بی وسیمہ زوجہ جمل کو اسکے شوہر جمل ولد دوست محمد کے ہمراہ اس وقت گرفتار کرکے لاپتہ کردیتے ہیں، جب وہ موٹر سائکل پر سوار ایک فوجی چیک پوسٹ سے گذر رہے ہوتے ہیں۔ جسکے بعد انکے بارے میں تاحال کوئی معلومات نہیں۔

کیا ان احتجاجات کے باوجود اور اس امر کا اداراک رکھتے ہوئے کہ بلوچ سماجی ساخت میں عورت کا کیا مقام اور تعظیم ہے، پھر بھی اغواء کے سلسلے کو ڈنکے کے چوٹ پر جاری رکھنا، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اب بلوچستان کے بارے میں نئی پالیسی ہے اور اب یہ بلوچستان میں نیا معمول ہوگا؟

آخر بلوچ خواتین کے اغواء اور یوں بے حرمتی کے مقاصد کیا ہیں؟ اس بارے میں دی بلوچستان پوسٹ نے جب بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے چیئرمین سہراب بلوچ سے بات کی تو انکا کہنا تھا کہ “مقاصد واضح ہیں، جو سیاسی قوتیں، پاکستان کے خلاف سیاسی محاذ پر پر امن جدوجہد کررہے ہیں یا پھرعسکری محاذ پر مزاحمت کررہے ہیں، اُن اداروں سے وابسطہ کارکنان کو کمزور کرنے اور دباؤ ڈالنے کیلئے، ان کے اہلخانہ اور خواتین کو اغواء اور لاپتہ کیا جارہا ہے۔”

سہراب بلوچ اتفاق نہیں کرتے کہ خواتین کا اغواء بلوچستان میں ایک نیا مسئلہ ہے، انکا کہنا ہے کہ “اگر دیکھا جائے، تو خواتین کو اغواء اور زیادتی کا نشانہ بنانے کی ریاستی پالیسی بہت پرانا ہوچکا ہے، 1973کے دورانیئے میں پاکستان یہ غیر انسانی اقدامات کر چکی ہے، اسکے باوجود نظریہ آزادی اور جاری تحریک کو ختم کرنے میں ناکام رہے، آج جدوجہد ماضی کی نسبت زیادہ توانا اور ادارجاتی شکل اختیار کر چکا ہے، لہٰذا اس ریاستی پالیسی میں بھی شدت دکھائی دیتی ہے۔ باپردہ بلوچ خواتین کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے، تاکہ ان اقدامات سے سیاسی اور عسکری محاذ سے وابسطہ کارکناں کے حوصلے پست ہوں اور وہ نظریہ آزادی سے دستبردار ہو جائیں، اس ریاستی پالیسی کی نظیر ہم بنگلہ دیش میں بھی دیکھ چکے ہیں، جہاں لاکھوں بنگالی خواتین کو جنسی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔”

بلوچستان میں خواتین کا فورسز کے ہاتھوں اغواء اور جبری گمشدگیوں کے واقعات نئی نہیں ہیں، اکثر بلوچ سیاسی کارکنان کو دھمکانے یا سرینڈر پر مجبور کرنے کیلئے گھروں کے خواتین کو اغواء کرکے ان پر تشدد کرنے کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں، لیکن رواں سال ایسے واقعات کے شرح میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ ایسے واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں جہاں درجنوں خواتین ایک ساتھ اغواء کیئے گئے ہیں۔

بلوچ سیاسی حلقے قومی، بین الاقوامی اور سوشل میڈیا کے سطح پر طویل عرصے سے اس مسئلے پر احتجاج کرتے آئے ہیں، احتجاجوں کا موجودہ سلسلہ تب شروع ہوا، جب 22 جولائی کو پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے ضلع آواران کے تحصیل مشکے میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر وہاں سے تین خواتین کو ماورائے قانون گرفتار کرکے اپنے کیمپ لے گئے، جس کے بعد وہ تاحال لاپتہ ہیں۔

ان اغواء ہونے والوں میں ایک 55 سالہ خاتون نور ملک زوجہ اللہ بخش اور انکی دو جوانسال صاحبزادیاں 22 سالہ حسینہ زوجہ اسحاق اور 18 سالہ ثمینہ ولد اللہ بخش ہیں۔ یہ اس گھر سے اغواء ہونے والے پہلے افراد نہیں بلکہ 3 جولائی کو نور ملک کے 10 سالہ بیٹے ضمیر ولد اللہ بخش کو فورسز اٹھا کر لے گئے تھے، جس کے بعد سے وہ لاپتہ تھے۔ 10 سالہ بچے کے یوں اغواء پر اسکی ماں اور بہنیں اپیلیں کررہے تھے اور ڈھونڈ رہے تھے، جب انہیں بھی اغواء کیا گیا۔

مشکے: ماں 2بیٹیوں کے ہمراہ فورسز کے ہاتھوں لاپتہ

 

ابھی تک نور ملک اور اسکے بیٹے و بیٹیوں کیلئے احتجاج جاری تھی کہ 4 اگست کو نور ملک کے بھائی خلیل ولد لشکری کو انکے ایک اور ساتھی حبیب اللہ ولد امین کے ساتھ مشکے کے علاقے النگی سے فورسز نے گرفتار کرکے لاپتہ کردیا۔

مشکے: لاپتہ خاتون کا بھائی بھی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ

زیبا بلوچ ولد اللہ بخش نور ملک کی بیٹی اور حسینہ، ثمینہ اور ضمیر کی بہن ہے۔ اپنی ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کے اغواء پر انہوں نے ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کراکے سوشل میڈیا پر نشر کرایا، جس میں وہ سب سے سوال کرتی ہے کہ انکے اہلخانہ اور چھوٹے بہن بھائیوں کا قصور کیا ہے؟ اپنے ویڈیو پیغام میں وہ کہتی ہے کہ” میرا نام زیبا ہے، میں مشکے آواران کا رہائشی ہوں۔ پہلے میرے دس سالہ چھوٹے بھائی ضمیر کو اٹھایا گیا، اسکے بعد میری 55 سالہ ماں نور ملک کو میری دو بہنوں حسینہ اور ثمینہ کے ہمراہ اٹھا کر لاپتہ کردیا گیا۔ اٹھانے والے پاکستانی فوج اور سردار علی حیدر محمد حسنی کے لوگ تھے۔ مجھے اتنا بتایا جائے کہ میری ماں بہنوں کا خطا و قصور کیا ہے؟ میں درخواست کرتی ہوں کو میرے گھر والوں کو منظر عام پر لایا جائے۔”

 

اس موقع پر بلوچ آزادی پسند سیاسی جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ کے سربراہ خلیل بلوچ نے ٹوئیٹر پر اپنا در عمل دیتے ہوئے کہا کہ “پاکستانی نیم فوجی ادارے فرنٹیئر کور کی جانب سے بلوچ خواتین کے اجماعتی اغواء ظاہر کرتا ہے اس نام نہاد اسلامی ریاست میں کسی انسان کا عزت نفس محفوظ نہیں، چاہے وہ مرد ہوں یا خواتین۔ دنیا کو پاکستان کو اسکے خواتین و انسانیت کے خلاف جرائم پر جوابدہ بنانا چاہیئے۔”

یاد رہے بلوچ خواتین کے اجتماعی اغواء کا ایک واقعہ دو ماہ قبل ہی چار جون 2018 کو بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے ناگ رخشان میں بھی پیش آیا تھا، جہاں فوج نے امدادی سامان کی تقسیم کے بہانے خواتین کو زبردستی آرمی کیمپ منتقل کرکے ان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا، اور اُن کی عصمت دری کی گئی تھی۔ اور طویل عرصے تک خواتین کو کیمپ میں بند رکھا گیا تھا، جہاں ایک خاتون جنسی زیادتی کی وجہ سے حاملہ ہوگئی تھی اور پھر اسے زبردستی اسقاطِ حمل پر مجبور کیا گیا تھا۔ اس واقعے پر بلوچستان بھر شدید احتجاج اور غم و غصے کا اظہار ہوا تھا۔

اسی واقعے پر معروف آزادی پسند بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نظر نے کہا تھا کہ ” بلوچستان میں اجتماعی عصمت دری کا واقعہ پاکستانی فوج کا بنگالیوں کے خلاف ہونے والی غلیظ جنگ کا تسلسل ہے۔”

پاکستانی فوج نے واشک میں درجنوں خواتین کی عصمت دری کی ہے – ڈاکٹر اللہ نذر

بلوچوں کی موجودہ تحریک آزادی گذشتہ ادوار کی تحاریک سے اس طرح بھی مختلف رہی ہے کہ موجودہ تحریک میں خواتین کی ایک کثیر تعداد شامل ہے۔ جہاں خواتین صرف کارکنان کی حد تک شامل نہیں رہے ہیں بلکہ بلوچ نیشنل موومنٹ اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد میں ہمیں وہ مردوں کی قیادت کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ بادی النظر کٹر پدرانہ قبائلی سماج قرار پانے والے بلوچ معاشرتی ڈھانچے کے یہ بالکل برعکس ہے۔ کیا یہ نئے سیاسی و سماجی رجحانات بھی ایک وجہ ہیں کہ پاکستان خواتین کو اب مردوں کی طرح نشانہ بنا رہی ہے، تاکہ بلوچ تحریک میں خواتین کی شرکت کو روکا جاسکے؟

اس حوالے سے دی بلوچستان پوسٹ نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان دلمراد بلوچ سے بات چیت کی انکا کہنا ہے “خواتین کو حراست میں لےکرلاپتہ کرنے کے پیچھے بلوچ سماج میں خواتین کی حساسیت ہے اور زیادہ ترسیاسی یا مسلح محاذ سے جڑے جہدکاروں کے رشتہ دارخواتین کو فوجی درندگی کا شکار بنایا جارہاہے۔ پاکستان بلوچ خواتین کی سماجی حساسیت کو ڈھال کے طور پر استعمال کرکے جہدکاروں کے حوصلوں کو آزمانے کی کوشش کررہاہے اور دوسری طرف آج بلوچ خواتین بڑی حد تک تحریک سے وابستگی رکھتی ہیں۔ ان دو وجوہات کو ملا کر پاکستان نہ صرف خواتین کو حراست میں لے کر ایسی بربریت کی مثالیں قائم کرنا چاہتا ہے کہ پوری بلوچ سماج میں یہ خوف سرایت کرجائے اور وہ تحریک سے دست بردار ہوجائیں۔”

کیا بلوچ خواتین پر تشدد اور انکے اغواء کی پالیسی بلوچ تحریک کو کمزور کرنے میں کامیاب ہوگی؟ اس بابت بی این ایم ترجمان کہتے ہیں ” ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ وہی پاکستانی فوج ہے، جس نے بنگلہ دیش میں لاکھوں بنگالی خواتین کو درندگی کا نشانہ بنایا، یہ غیرانسانی عمل فوج اور فوج کے پراکسی دہشت گرد تنظیموں نے سرانجام دیا لیکن تاریخ نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ یہ مظالم بنگلہ دیش کی آزادی کو روک نہ پائے اور بلوچستان میں بھی خواتین کے ساتھ غیرانسانی سلوک پرپاکستان فوج، بلوچ قومی غیض و غضب سے نہیں بچ پائے گا۔”

اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے 1974 کے ریزولیوشن، “جنگوں و تنازعوں میں خواتین و بچوں کے تحفظ کے عالمی ڈکلیئریشن” کے شق اول کے مطابق “شہری آبادیوں خاص طور پر عورتوں اور بچوں پر حملہ یا بمباری کرنا، جو کسی بھی آبادی کا سب سے کمزور حصہ ہوتے ہیں، ممنوع قرار پاتا ہے اور ایسے اقدامات کی سخت روک تھام کی جائے۔” اسی طرح شق نمبر 5 کہتا ہے کہ ” عورتوں اور بچوں کے خلاف ہر طرح کے ظالمانہ و غیر انسانی برتاو، جن میں قید و بند، تشدد، قتل، اجتماعی اغواء، اجتماعی سزا، گھروں کو تباہ کرنا، جبراً گھروں سے بیدخل کرنا چاہے فوجی آپریشنوں کے نام پر ہوں یا مقبوضہ علاقوں میں ہوں مجرمانہ تصور کی جائیں گی۔”

نور ملک اس وقت واحد بلوچ خاتون نہیں جو فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد لاپتہ ہیں، انسانی حقوق پر کام کرنے والی مختلف بلوچ غیر سرکاری تنظیموں کے اعدادو شمار کے مطابق اس وقت بلوچستان سے کم از کم 25000 افراد لاپتہ ہیں جن میں پانچ سو سے ایک ہزار تک تعداد خواتین کی بتائی جاتی ہے۔

بلوچ خواتین و بچوں کو نشانہ بنانے کی پاکستانی عسکری پالیسی نا صرف بلوچ روایات پر شدید ضربیں ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے جنگی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔ ایسے اقدامات سے بلوچ سماج میں مزید بے چینی پھیلے گی اور مزاحمت کچلنے کے اس پالیسی کا انجام بنگلہ دیش سے مختلف نہیں ہوگا۔