تذبذب: شخصیت کا محورِ ابہام اور وقت کا فیصلہ – نوھک بلوچ

1

تذبذب: شخصیت کا محورِ ابہام اور وقت کا فیصلہ

تحریر: نوھک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

حالات بعض اوقات انسان کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہیں جہاں وہ اپنے ہی وجود میں اس قدر گم ہو جاتا ہے کہ اردگرد کی دنیا کی تمام آوازیں مدھم پڑ جاتی ہیں، اور وہ خود اپنے اندر اتر کر گم ہونے لگتا ہے۔ اس عالم میں انسان وقت کی گرفت سے بھی نکل جاتا ہے۔ اسے خبر نہیں رہتی کہ لمحے برق رفتاری سے گزر رہے ہیں، وقت کسی ٹھہرے ہوئے منظر کی مانند ساکت ہے، یا آہستہ آہستہ زوال کی دھند میں گم ہو رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کی روانی کہیں کھو گئی ہو اور وجود ایک طویل سکوت میں ڈوب گیا ہو۔ اس کیفیت میں ہر منظر، ہر آواز اور ہر حرکت ٹھہری ہوئی محسوس ہوتی ہے، جیسے وقت نے خود کو خاموشی کے حصار میں قید کر لیا ہو۔

اصل میں یہ شعور اور خوف کے درمیان کھڑے انسان کی وہ تھکی ہوئی اور شکستہ کیفیت ہے، جو مسلسل اندرونی کشمکش اور خود تذبذب کا شکار رہتی ہے۔ یہی تذبذب انسان کی بصیرت کو دھندلا دیتا ہے اور اسے یہ باور کرانے لگتا ہے کہ حالات کی تنگی، وسائل کی کمی، غیر واضح پالیسی، لیڈرشپ کا خسارہ، قبضہ گیری کی چالاکیاں اور وقت کی سختیوں کو دیکھ کر جدوجہد کو ترک کرنا نہ صرف معقول جواز بنتے ہیں بلکہ انقلابی اور نظریاتی فکر سے بھی راہِ فراریت کے زمرے میں آتے ہیں۔ یوں انسان اپنی شکست کو مختلف اصطلاحات کے نام پر ابہام میں ڈھال دیتا ہے۔ حالانکہ اکثر اس کی اصل شکست باہر کے حالات سے پہلے اس کے باطن میں جنم لیتی ہے، جہاں خوف نہ صرف شعور پر غالب آ جاتا ہے بلکہ انسان کی شخصیت کا محور ابہام بن کر اس کا ارادہ آہستہ آہستہ اپنی قوت کھو دیتا ہے۔

اس مرحلے پر انسان اپنے ہی باطن کے لیے ایک معمہ بن جاتا ہے۔ نہ غم اس کے دل پر مکمل قبضہ جما پاتا ہے اور نہ خوشی اس کے وجود میں روشنی بھر پاتی ہے۔ وہ ایک ایسی درمیانی کیفیت میں معلق رہتا ہے جہاں جذبات اپنی پہچان کھو دیتے ہیں اور روح ایک گہرے سکوت میں ڈوب جاتی ہے۔

اپنی روزمرہ کی مصروفیات سے بے نیاز، ہر غم کے بوجھ سے آزاد اور ہر خوشی کی کشش سے بے رغبت، انسان ایک عجیب سی کیفیت میں گم ہو جاتا ہے۔ اس عالم میں نہ وہ کچھ سوچ پاتا ہے اور نہ ہی اپنی اس کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ گویا وہ اپنے وجود اور شعور کے درمیان کسی خاموش خلا میں معلق ہو، جہاں نہ سوال جنم لیتے ہیں اور نہ ہی جواب اپنی صورت پاتے ہیں۔

پھر وہ تذبذب اور بے یقینی کا شکار ہو کر مایوسی کے سفر کا مسافر بن جاتا ہے۔ وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اس کے پاس ایک زندگی ہے، اور کبھی وہ اسی زندگی کے مقصد کی تلاش میں دربدر پھرتا تھا۔ وہ مقصد جس کے لیے وہ ہر روز نئے حوصلے کے ساتھ جیتا تھا، جس کی جستجو اس کی آنکھوں میں چمک اور اس کے قدموں میں حرکت پیدا کرتی تھی۔ تب وہ ایک زندہ دل، پُرامید اور باعزم انسان دکھائی دیتا تھا، مگر اب وہی شخص اپنی ہی ذات کے ویران راستوں میں گم ہو کر رہ گیا ہے۔

پتا ہے، سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب انسان کو اپنے مقصد کا مکمل ادراک ہو، وہ جانتا ہو کہ اسے کس سمت جانا ہے اور کس منزل کو پانا ہے، مگر اس کے باوجود وہ خود کو اپنے ہی مقصد سے دور ہوتا ہوا محسوس کرے۔ یہ احساس انسان کے دل و دماغ پر ایک خاموش بوجھ بن کر چھا جاتا ہے، کیونکہ منزل کی بے خبری اتنی اذیت نہیں دیتی جتنی منزل کو جانتے ہوئے اس تک نہ پہنچ پانے کی بے بسی دیتی ہے۔

درد اس بات کا بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنی اس کیفیت سے پوری طرح آگاہ ہوتا ہے، مگر پھر بھی خود سے سوال کرنے کی ہمت نہیں جٹا پاتا۔ وہ اپنے باطن میں اٹھنے والے طوفانوں کا سامنا نہیں کر پاتا، اپنی اندرونی الجھنوں سے لڑنے کی قوت کھو بیٹھتا ہے۔ اس کے خیالات گویا جمود کا شکار ہو جاتے ہیں، اور وہ اپنی ہی مردہ سوچوں کے خلاف بغاوت کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی روح آزادی کی خواہش تو رکھتی ہے، مگر اس کے ارادے کسی ان دیکھی زنجیر میں جکڑے ہوئے ہوں۔

وہ اپنے ہی بے سبب ٹھہرے ہوئے وقت کے ساتھ کہیں رک جاتا ہے۔ اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جس دن اسے اپنی اس غفلت کا احساس ہوگا، جس دن وہ خود سے سوال کرنے اور اپنے وجود کا محاسبہ کرنے کے قابل ہوگا، شاید اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھ چکا ہوگا، اور وہ انہی لمحوں کے ملبے پر کھڑے سوچ رہا ہوگا کہ جو سفر اسے طے کرنا تھا، وہ کب اور کہاں چھوٹ گیا۔

یہی احساس انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے؛ کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اسے کسی اور نے نہیں روکا، بلکہ وہ خود اپنی خاموشیوں، اپنے خوف اور اپنے جمود کا قیدی بنا رہا ہے۔ اور جب شعور بیدار ہوتا ہے تو اکثر وقت ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل چکا ہوتا ہے۔

درحقیقت وقت نہیں رکا، بلکہ آپ کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت جمود کا شکار ہو چکی ہے۔ آپ کے احساسات جیسے ٹھہر گئے ہیں، اور آپ اپنی ہی باطنی کیفیت میں کہیں گم ہو کر رہ گئے ہیں۔

یہیں سے زوال کا آغاز ہوتا ہے۔ انسان بے سبب اندیشوں اور وسوسوں میں الجھ جاتا ہے۔ اس کے خیالات زندگی کے ایک تاریک قید خانے میں مفلوج ہو کر ہر لمحہ اذیت اور تشدد سہتے رہتے ہیں، اور وہ خود اس قیدی کی مانند بن جاتا ہے جس نے اپنے جینے مرنے کا اختیار بھی ظالم کے سپرد کر دیا ہو۔

اس جنگِ خیال میں ظالم نہ کوئی فرد ہوتا ہے، نہ کوئی حکمران اور نہ ہی کوئی ریاست؛ یہاں اصل ظالم “وقت” ہوتا ہے۔ وہ خاموشی کے ساتھ اپنی سزا سناتا ہے، لمحہ لمحہ انسان کے خوابوں، امیدوں اور احساسات کو نگلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ انسان اپنے ہی وجود کی ویرانی میں گم ہو جاتا ہے۔

اور جب وہ آخرکار خود کو اس قید خانے سے آزاد کر لیتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی اس سے بہت آگے نکل چکی ہو۔ وقت اس کے ہاتھوں سے ریت کی مانند پھسل چکا ہوتا ہے، خواب بکھر چکے ہوتے ہیں اور امیدیں مدھم پڑ چکی ہوتی ہیں۔ تب انسان اپنے ہی وجود سے سوال کرتا ہے کہ کیا وہ اب بھی جینے کے قابل ہے، یا محض زندہ رہ جانے کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔

اور اگر اسی زندانِ وقت میں، جہاں لمحے صدیوں کا بوجھ اٹھائے گزرتے ہیں اور احساسات خاموشی کی زنجیروں میں جکڑے سسکتے رہتے ہیں، آپ کے دل میں کبھی اپنی زندگی کو کسی بلند مقصد کے نام کرنے کا خیال جنم لے لے، تو آپ اپنے وجود پر پڑی ہر زنجیر سے بغاوت کر اٹھیں گے۔ پھر نہ وقت کی سفاکی آپ کو خوف زدہ کر سکے گی اور نہ ہی مایوسی کی تاریک دیواریں آپ کا راستہ روک سکیں گی۔ آپ اپنے زوال کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیں گے، اور وہ قیدی جو کل تک اپنی تقدیر ظالم کے حوالے کر چکا تھا، آج اپنی آزادی کا پرچم بلند کیے کھڑا ہوگا۔ یہی وہ لمحہ ہے جب شکست خوردہ روح میں زندگی دوبارہ سانس لیتی ہے، جب امید راکھ سے سر اٹھاتی ہے، اور جب انسان اپنے وجود کے معنی دریافت کرتا ہے۔ یہیں سے زندگی کا اصل آغاز ہوتا ہے۔

پھر وقت کی حقیقت انسان پر اس شدت سے آشکار ہونے لگتی ہے کہ ہر گزرتا ہوا سیکنڈ ایک نعمت محسوس ہوتا ہے۔ ایک لمحے کا زوال پوری زندگی کے زوال کے مترادف دکھائی دینے لگتا ہے، اور ہر ضائع ہوتا ہوا منٹ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان اپنی ہی تقدیر کا ایک حصہ کھو رہا ہو۔ انہی لمحوں میں اسے اپنے مقصد کی جھلک دکھائی دیتی ہے، اپنی زندگی کے معنی سمجھ آنے لگتے ہیں، مگر ابھی وہ خود کو اس مقصد کے لیے قربان کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس مقام پر قربانی کا تصور ایک عظیم جذبے سے زیادہ ایک انجانے خوف کی صورت اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ مقصد کی راہ صرف خواب نہیں مانگتی، وہ انسان سے اس کا سکون، اس کی آسائشیں اور کبھی کبھی اس کا پورا وجود طلب کرتی ہے۔ چنانچہ وہ اپنے مقصد کو دیکھ تو لیتا ہے، مگر اس کی طرف بڑھنے سے ہچکچاتا ہے؛ گویا آزادی کی دہلیز پر کھڑا قیدی پہلی بار کھلے آسمان کی وسعت سے خوفزدہ ہو گیا ہو۔

جب انسان اپنے وقت کے زوال کو پہچان لیتا ہے، اور یہ حقیقت اس کے دل میں اتر جاتی ہے کہ زیاں کی اس تاریک وادی سے گزر کر وہ کبھی اپنے مقصد کی منزل نہیں پا سکتا، تو اس کے شعور میں ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ پھر ہر لمحہ اسے اپنی فنا کا پیغام سناتا ہے اور ہر گزرتا ہوا منٹ اس کے وجود پر ایک سوال بن کر اترتا ہے۔ وہ اپنی سانسوں کو وقت کی رفتار کے ساتھ چلتا ہوا محسوس کرتا ہے؛ گویا زندگی کی ساعت اور اس کے دل کی دھڑکن ایک ہی آہنگ میں بندھ گئی ہوں۔ اسی لمحے وہ جان لیتا ہے کہ مقصد کوئی دور افق پر چمکتا ہوا خواب نہیں، بلکہ ہر اس لمحے میں پوشیدہ ہے جسے انسان شعور کے ساتھ جیتا ہے۔ تب وقت اس کا ظالم نہیں رہتا، بلکہ اس کا رہنما بن جاتا ہے، اور وہ قدم بہ قدم اپنے مقصد کی سمت بڑھنے لگتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔