بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح حملوں اور فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں پولیس تھانے، پاکستانی فوج کی چوکیوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق چاغی کے علاقے چہتر میں نامعلوم مسلح افراد نے بارودی مواد کے ذریعے پولیس تھانے کو تباہ کردیا۔ ذرائع کے مطابق دھماکا گزشتہ شب کیا گیا، جس کے نتیجے میں تھانے کی عمارت مکمل طور پر منہدم ہوکر ملبے کا ڈھیر بن گئی۔
دوسری جانب چاغی ہی علاقے یک مچ میں مسلح افراد کی جانب سے تین تجارتی گاڑیوں پر فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں گاڑیاں ناکارہ ہوگئیں، جبکہ حملہ آور ایک مال بردار گاڑی اپنے ساتھ لے گئے۔
خضدار کے علاقے وڈھ میں آر سی ڈی شاہراہ پر بھی پاکستانی فوج کی دو گاڑیوں کو مسلح حملے میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق گاڑیوں میں ایک بکتر بند گاڑی بھی شامل تھی اور حملے کے نتیجے میں دونوں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ ذرائع نے فوجی اہلکاروں کی ہلاکتوں کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم ان ہلاکتوں کی تصدیق سرکاری طور نہیں ہوسکی۔
ادھر گزشتہ روز منگچر کے مرکزی بازار میں پاکستانی فورسز کی ایک چوکی پر مسلح افراد کے حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ علاقائی ذرائع کے مطابق حملہ دیر تک جاری رہا، جس دوران علاقے میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ حملے میں فورسز کو جانی نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
دریں اثنا گزشتہ رات جھاؤ کے علاقے ڈولیجی میں بھی پاکستانی فوج کے ایک کیمپ کو مسلح حملے میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ان تمام واقعات کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔



















































