۱۱ اگست: غلامی کے انکار سے لے کر آزاد ریاست کے خواب تک – نمیران بلوچ

1

۱۱ اگست: غلامی کے انکار سے لے کر آزاد ریاست کے خواب تک

تحریر: نمیران جان

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخ صرف تاریخ نہیں ہوتی۔ تاریخ ایک سوال ہوتی ہے جو ہر نسل سے پوچھا جاتا ہے۔ بلوچ قوم کے لیے ۱۱ اگست ۱۹۴۷ وہی سوال ہے۔ یہ وہ دن تھا جب قلات کے خان احمد یار خان کو برطانیہ نے ایک خط لکھ کر ان کی خودمختاری تسلیم کی۔ بلوچ سیاسی شعور کے نزدیک اس دن بلوچستان ایک آزاد سیاسی وجود تھا۔ پھر ۲۷ مارچ ۱۹۴۸ آیا اور فوجی داخلے کے ساتھ وہ سیاسی وجود ختم کر دیا گیا۔ خانِ آفِ قلات نے اسے “جبری الحاق” کہا۔ اسی لمحے سے بلوچستان کی سیاست کا مرکزی نکتہ بن گیا: غلامی سے انکار۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں جب یورپ میں قوموں نے بادشاہت کے خلاف بغاوت کی تو ان کے پاس ایک نظریہ تھا: “Nation is a people with a will to live together.” رینان نے کہا تھا کہ قوم روزانہ ہونے والا رائے شماری ہے۔ بلوچ قوم کے لیے بھی یہی معاملہ ہے۔ ۱۹۴۸ کے بعد سے ہر دہائی میں یہ رائے شماری ہوئی ہے۔ کبھی پارلیمنٹ میں، کبھی سڑکوں پر، کبھی پہاڑوں میں۔

اس جدوجہد کے دو بڑے نام جنہوں نے بلوچ سیاسی فلسفے کو شکل دی، وہ ہیں سردار عطا اللہ مینگل اور نواب خیر بخش مری۔ دونوں کا پس منظر مختلف تھا لیکن منزل ایک تھی۔

عطا اللہ مینگل پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتے تھے۔ وہ ۱۹۷۲ میں بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ بنے۔ ان کا مؤقف تھا کہ آئین کے اندر رہ کر بھی حقوق لیے جا سکتے ہیں۔ لیکن جب وفاق نے ان کی حکومت توڑی اور فوجی آپریشن شروع کیا تو ان کا نظریہ بدل گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاست خود آئین توڑے تو پھر عوام کے پاس مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ ان کے لیے ۱۱ اگست ایک یاد دہانی تھی کہ بلوچستان کبھی آزاد تھا اور اس حیثیت کو بحال کرنا ہوگا۔

دوسری طرف نواب خیر بخش مری تھے۔ وہ زیادہ انقلابی اور بنیاد پرست تھے۔ ان کا فلسفہ تھا کہ جب تک مرکزی ریاست وسائل اور اختیار پر قبضہ رکھے گی، صوبے کو کبھی خودمختاری نہیں ملے گی۔ انہوں نے ۱۹۷۰ کی دہائی میں مسلح مزاحمت کی قیادت کی۔ جلاوطنی کاٹی۔ ان کا ماننا تھا کہ تاریخ میں کوئی قوم ایسے آزاد نہیں ہوئی۔ الجزائر، ویتنام، افریقہ کی مثال ان کے سامنے تھی۔ ان کا سوال سیدھا تھا: اگر ۵۶ ممالک نوآبادیات سے آزاد ہو سکتے ہیں تو بلوچ کیوں نہیں؟

یہ دونوں لیڈر آج نہیں ہیں لیکن ان کا فکری تضاد آج بھی بلوچ سیاست میں زندہ ہے۔ ایک طرف institutional struggle ہے، دوسری طرف resistance کا راستہ۔

اب آتے ہیں موجودہ مزاحمت پر۔ آج ۱۱ اگست کو بلوچ نوجوان سوشل میڈیا پر، یونیورسٹیوں میں اور ڈائاسپورا میں مناتے ہیں۔ یہ صرف جھنڈا لہرانے کا دن نہیں ہے۔ یہ in denial of subjugation کا دن ہے۔ یعنی ہم اس بیانیے کو ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ ہمیشہ سے اس ریاست کا حصہ تھے۔

لیکن قبضے کے بعد اصل جنگ زمین کی نہیں تھی، وہ شناخت کی ہے۔ فلسفی Frantz Fanon نے لکھا کہ نوآبادیاتی طاقت سب سے پہلے قوم کا نام، زبان اور تاریخ مٹاتی ہے۔ اس کے بعد ہی وہ اس کی سرزمین پر دعویٰ کرتی ہے۔ بلوچستان میں بھی یہی ہوا۔ نصاب سے بلوچ تاریخ نکالی گئی۔ زبان کو “علاقائی لہجہ” کہا گیا۔ میڈیا میں بلوچ کو صرف “قانون و نظم کا مسئلہ” بنایا گیا، ایک قوم نہیں۔

ہائیڈگر نے کہا “Dasein” یعنی “being in the world”۔ جب ایک قوم سے اس کا “ہونا” چھینا جائے تو وہ اپنی بقا کے لیے کھڑی ہو جاتی ہے۔ اسی لیے آج سڑکوں پر، دیواروں پر، سوشل میڈیا پر ایک ہی آواز ہے: “ہم بلوچ ہیں، ہماری زمین، ہماری پہچان، ہماری آزادی”۔ یہ نعرہ وسائل کا نہیں، وجود کا ہے۔ ریاست چاہتی ہے کہ بلوچ اپنی شناخت بھول جائے۔ بلوچ چاہتا ہے کہ دنیا اسے زندہ قوم مانے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ آج یہی ہے: شناخت اور بقا۔

زمینی حقائق بھی یہی بتاتے ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا ۴۴ فیصد رقبہ رکھتا ہے۔ یہاں گیس، تانبا، سونا، کوئلہ ہے۔ گوادر جیسی بندرگاہ ہے۔ لیکن شرحِ خواندگی سب سے کم ہے۔ پانی نہیں ہے۔ خضدار اور نوشکی میں کسان ہجرت کر رہے ہیں۔ نوجوان ڈگری لے کر بے روزگار ہیں۔ ہزاروں خاندان “لاپتہ افراد” کے بینر اٹھا کر سڑکوں پر ہیں۔ جب ریاست وسائل لے اور جواب میں صرف بندوق اور خاموشی دے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے: یہ رشتہ کس بنیاد پر ہے؟

آج کا نوجوان نہ مینگل جیسا پارلیمانی ہے نہ مری جیسا انقلابی۔ وہ hybrid ہے۔ وہ ٹویٹ بھی کرتا ہے اور احتجاج بھی۔ وہ پوچھتا ہے کہ اگر مشرقی تیمور ۵۰۰ سال بعد آزاد ہو سکتا ہے، اگر جنوبی سوڈان ہو سکتا ہے، تو ہمارا مستقبل کیا ہے؟

اسی لیے ۱۱ اگست کا مطلب آج بدل گیا ہے۔ یہ اب صرف ماضی کی یاد نہیں۔ یہ مستقبل کا انتخاب ہے۔ بلوچ سیاسی شعور کا بڑا حصہ آج یہ مانگ کر رہا ہے: خودارادیت۔ یعنی right to self-determination۔ یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں ہے۔ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل ۱ ہے۔

مستقبل کے لیے ۳ باتیں واضح ہیں۔ پہلی یہ کہ جب تک وسائل پر مقامی اختیار نہیں ہوگا، احساسِ محرومی ختم نہیں ہوگا۔ دوسری یہ کہ جب تک سیاسی کارکنوں اور لاپتہ افراد کے مسئلے پر مکالمہ نہیں ہوگا، اعتماد بحال نہیں ہوگا۔ تیسری اور سب سے اہم یہ کہ جب تک شناخت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، بقا کا سوال حل نہیں ہوگا۔ تاریخ کو دفن کرنے سے تاریخ ختم نہیں ہوتی۔ اسے تسلیم کرنا پڑتا ہے۔

۱۱ اگست ہمیں یہی سکھاتا ہے۔ کہ غلامی سے انکار کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کی قیمت ہوتی ہے۔ لیکن جدوجہد سے خواب کتنا ہی بڑا ہو، وہ پورا ہوتا ہے۔

آج بلوچ عوام کے دل میں ایک ہی خواب ہے: آزادی کا خواب۔ ایک نئی ریاست کا خواب۔ اپنے آزاد وطن کا خواب۔
سوال یہ نہیں کہ خواب کتنا بڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ خواب دیکھنے والے کتنے زندہ ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ راستہ کتنا لمبا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم رکے ہوئے ہیں یا چل رہے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔